جماعت الاحرار اور TTPکتوں کی طرح آپس میں کیوں لڑنے لگیں؟

خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں کالعدم شدت پسند تنظیموں جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ نے ایک بار پھر پاکستانی طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان بڑھتے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تصادم میں کم از کم 18 شدت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جھڑپ وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دو مسلح گروہوں کے درمیان ہوئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق تصادم میں شامل گروہوں کو ’کاظم گروپ‘ اور ’امتی گروپ‘ کے ناموں سے جانا جاتا ہے، جبکہ امتی گروپ کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ گھات لگا کر کیا گیا جس میں امتی گروپ کے کمانڈر ممتاز سمیت 18 افراد مارے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ ان کے 18 ساتھیوں کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نور ولی محسود دھڑے نے نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔‘‘تاہم کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق تنظیم کے اندرونی حلقے اس واقعے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ مزید تقسیم سے بچا جا سکے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی طالبان کے دو دھڑوں میں اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ دونوں تنظیموں کے تعلقات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی بار اتار چڑھاؤ آیا۔ سینیئر محقق عبدالسید کے مطابق موجودہ کشیدگی کی بنیاد اگست 2022 میں جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی کی افغانستان میں ایک پراسرار حملے میں ہلاکت کے بعد پڑی۔ جماعت الاحرار سے منسلک حلقے مسلسل یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اس قتل میں ٹی ٹی پی قیادت، خصوصاً نور ولی محسود دھڑا، ملوث تھا۔اسی تناظر میں جنوری 2024 میں جماعت الاحرار کے میڈیا پلیٹ فارم ’’غازی میڈیا‘‘ نے ٹی ٹی پی قیادت پر شدید الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد دونوں گروہوں کے درمیان عدم اعتماد مزید گہرا ہو گیا۔
سینیئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ماضی میں افغان طالبان نے دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات ختم کرانے کیلئے ثالثی کی کوششیں کی تھیں، کیونکہ یہ اندرونی لڑائیاں پورے خطے میں شدت پسند نیٹ ورکس کو متاثر کر سکتی ہیں۔خراسان ڈائری کے مدیر افتخار فردوس کے مطابق گزشتہ برس نومبر میں ٹی ٹی پی نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں ان منحرف جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی گئی تھی جو لوٹ مار یا تنظیم مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔ اس کے بعد جماعت الاحرار سے وابستہ بعض افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں شدت پسند تنظیمیں تقسیم ہو رہی ہیں؟
ماہرین کے مطابق حالیہ خونریز جھڑپ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستانی شدت پسند تنظیموں کے درمیان طاقت، وسائل، اثر و رسوخ اور قیادت کے معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت الاحرار اب غیر اعلانیہ طور پر ایک متوازی نیٹ ورک چلا رہی ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق اس کی قربت حافظ گل بہادر سے منسلک گروپ ’’اتحاد المجاہدین پاکستان‘‘ سے بھی بڑھ رہی ہے۔رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اس بڑے واقعے کے بعد جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کا ایک ساتھ چلنا مشکل دکھائی دیتا ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید تقسیم یا نئے اتحاد سامنے آ سکتے ہیں۔
خیال ہے کہ جماعت الاحرار دراصل تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والا ایک دھڑا تھا، جسے 2014 میں عمر خالد خراسانی نے قائم کیا تھا۔ بعد ازاں 2020 میں یہ دوبارہ ٹی ٹی پی اتحاد میں شامل ہو گئی، تاہم اختلافات مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے۔یہ تنظیم پاکستان میں متعدد بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنتے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف شدت پسند گروہوں کے اندرونی بحران کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ اس سے خطے میں سکیورٹی چیلنجز مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
