امریکی گرین کارڈ کا حصول مزید مشکل کیوں ہو گیا؟

امریکہ نے گرین کارڈ کے حصول کیلئے قواعد وضوابط مزید سخت کر دئیے ہیں۔ امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی نے لاکھوں تارکینِ وطن، طلبہ، ورک ویزا ہولڈرز اور امریکی شہریوں کے شریکِ حیات کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق اب وہ افراد جو امریکہ میں رہتے ہوئے گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں امریکہ چھوڑ کر اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا اور وہیں سے مستقل رہائش کے لیے درخواست دینا پڑے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی اس لیے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ گزشتہ پچاس برسوں سے امریکہ میں قانونی طور پر مقیم افراد کو یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ ملک کے اندر ہی “ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس” کے ذریعے عارضی ویزے سے گرین کارڈ میں تبدیل ہو سکتے تھے۔ اس عمل سے خاص طور پر امریکی شہریوں کے شریکِ حیات، بین الاقوامی طلبہ، ورک ویزا پر کام کرنے والے افراد اور سیاسی پناہ گزین فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن کا کہنا ہے کہ عارضی ویزے پر امریکہ آنے والے افراد ایک مخصوص مقصد اور محدود مدت کے لیے آتے ہیں، اس لیے ان کا قیام مستقل رہائش کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ حکومت اسے “قانون کی اصل روح” کی بحالی قرار دے رہی ہے۔
تاہم امیگریشن ماہرین اور وکلاء کے مطابق اس پالیسی کا اصل مقصد مستقل رہائش حاصل کرنے والوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ سابق امیگریشن مشیر ڈوگ رینڈ کے مطابق گرین کارڈ امریکی شہریت کی طرف پہلا بڑا قدم ہوتا ہے، اور موجودہ انتظامیہ اس راستے کو محدود کرنا چاہتی ہے۔ اس پالیسی پر سب سے زیادہ تشویش خاندانوں کی ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے ظاہر کی جا رہی ہے۔ کئی ایسے ممالک ہیں جہاں امریکی سفارت خانے بند ہیں یا ویزا پراسیسنگ انتہائی سست ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں امریکی سفارت خانہ 2021 کے بعد سے بند ہے، جبکہ بعض ممالک میں ویزا انٹرویو کے لیے ایک سال یا اس سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ورلڈ ریلیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر خاندانوں کو بیرونِ ملک ویزا پراسیسنگ کے لیے بھیجا گیا اور وہاں امریکی ویزہ سروس محدود یا بند ہوئی تو بہت سے لوگ شاید دوبارہ امریکہ واپس نہ آ سکیں۔ دوسری جانب امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی امریکی شہریوں سے شادی کرنے والوں، ڈاکٹرز، انجینیئرز، مذہبی ویزا رکھنے والوں اور دیگر قانونی تارکینِ وطن سب پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس پالیسی کی غیر واضح نوعیت پہلے ہی خوف پیدا کر رہی ہے اور بہت سے لوگ قانونی طور پر گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے سے بھی ہچکچا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابھی تک حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ قانون کب نافذ ہوگا، زیرِ التوا درخواستوں پر اس کا اطلاق ہوگا یا نہیں، اور آیا درخواست گزاروں کو پورے عمل کے دوران اپنے ملک میں ہی رہنا پڑے گا یا انہیں عارضی طور پر امریکہ واپس آنے کی اجازت دی جا سکے گی۔
