احتجاجی و مزاحمتی سیاست، PTIمیں پھوٹ پڑ گئی

حکومت مخالف احتجاجی و مزاحمتی سیاست پر پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر اس وقت احتجاجی سیاست اور تنظیمی حکمتِ عملی کے حوالے سے واضح دو دھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک گروپ فوری عوامی احتجاج، دھرنوں اور سٹریٹ پاور کو مؤثر سیاسی دباؤ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا گروپ قانونی، سیاسی اور تدریجی حکمتِ عملی کو ترجیح دے رہا ہے۔
احتجاجی سیاست کے حوالے سے محتاط یا نسبتاً مخالف مؤقف رکھنے والوں میں سلمان اکرم راجا نمایاں ہیں۔ بطور سیکرٹری جنرل انہوں نے واضح کیا ہے کہ صرف دھرنوں، جلسوں یا ایک روزہ احتجاج سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے طویل سیاسی، آئینی اور قانونی جدوجہد درکار ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کو جذباتی نعروں کے بجائے منظم حکمتِ عملی اختیار کرنا چاہیے۔
اسی طرح بیرسٹر گوہر علی خان بھی نسبتاً محتاط طرزِ سیاست کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر تصادم سے گریز، مذاکرات اور سیاسی راستہ اپنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ پارٹی کے بعض مرکزی رہنما بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلسل احتجاجی کالز سے کارکنوں میں تھکن پیدا ہو رہی ہے اور ریاستی دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان بھی مکمل طور پر احتجاج کے مخالف نہیں لیکن وہ غیر منظم تحریک کے بجائے مرحلہ وار اور منظم سیاسی حکمتِ عملی پر زور دیتے ہیں۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ احتجاج صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہ رہے بلکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے کارکن بھی متحرک ہوں۔
دوسری جانب احتجاجی سیاست کے حامی اور سخت گیر مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں سہیل آفریدی نمایاں ہیں، جو عمران خان کی رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ اور بھرپور احتجاجی تحریک کے داعی رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں احتجاجی اجتماعات اور “عمران خان رہائی فورس” جیسے اقدامات کی حمایت بھی کی۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلنا ناگزیر ہے۔ وہ اسلام آباد مارچ، ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کے حامی رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ عوامی دباؤ کے بغیر سیاسی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
اسی حلقے میں علیمہ خان کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے، جو کارکنوں کو متحرک کرنے اور احتجاجی سیاست کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور عوامی تحریک ضروری ہے۔
اس کے علاوہ شاہد خٹک، مینا خان آفریدی اور شفیق جان بھی احتجاجی تحریک اور عوامی دباؤ بڑھانے کے حق میں سمجھے جاتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف اس وقت دو مختلف حکمتِ عملیوں کے درمیان کھڑی ہے: ایک بیانیہ قانونی و سیاسی جدوجہد پر زور دیتا ہے جبکہ دوسرا فوری عوامی تحریک اور سڑکوں پر طاقت دکھانے کو مؤثر راستہ قرار دیتا ہے۔
