سفارتکاری کے باوجود امریکا کی ایران پر نئے حملوں کی تیاریاں

امریکہ نے امن مذاکرات کے دوران ایران پر نئے حملے کی تیارایں شروع کر دیں۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کے باوجود امریکا مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی سے واقف متعدد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے آپشنز پر غور کر رہی تھی، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں اعلان کیا کہ وہ اپنے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی کی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکیں گے کیونکہ حکومتی معاملات اور قومی سلامتی سے متعلق امور انہیں فوری طور پر وائٹ ہاؤس واپس آنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے ویک اینڈ نیو جرسی میں واقع اپنے نجی گولف ریزورٹ میں گزارنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم خطے کی بدلتی صورتحال اور سکیورٹی بریفنگز کے باعث انہوں نے اپنا پروگرام تبدیل کر دیا۔سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے بعض اعلیٰ اہلکاروں نے بھی اپنی تعطیلات منسوخ کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غیرمعمولی اقدامات ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی یا ایرانی ردعمل کے خدشات کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی دفاعی حکام مشرقِ وسطیٰ میں تعینات افواج کی پوزیشننگ کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک امریکی فوجی اڈوں پر ہائی الرٹ یا اسٹینڈ بائی پر موجود اہلکاروں کی فہرستیں بھی اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق واشنگٹن ایک جانب خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات کے باعث اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اپریل کے اوائل میں عارضی جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر بڑے پیمانے کے براہِ راست حملوں سے گریز کیا تھا، جس کے نتیجے میں سفارتی کوششوں اور بالواسطہ مذاکرات کے لیے کچھ گنجائش پیدا ہوئی تھی۔ تاہم تازہ رپورٹس نے اس نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی اب بھی سخت ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر نے اپنی ’’سرخ لکیریں‘‘ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسے افزودہ یورینیم برقرار رکھنے دیا جائے گا۔سیاسی اور دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی تیل منڈی، آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Back to top button