امریکہ سے مذاکرات کون کرے گا؟ ایران نے بڑا اعلان کر دیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے تناظر میں ایران نے اپنی مذاکراتی ٹیم کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جسے خطے میں ممکنہ سفارتی پیشرفت کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو مذاکراتی وفد کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان کے فرائض انجام دیں گے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا، اقتصادی دباؤ میں کمی لانا اور ایران کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران مذاکرات میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز رانی کے تحفظ جیسے معاملات کو ترجیح دے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سفارتی پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں چند اہم معاملات پر فاصلے کم ہوئے ہیں، تاہم دونوں جانب اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ تہران ’’سنجیدگی اور نیک نیتی‘‘ کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے بڑھانا چاہتا ہے، لیکن ماضی کے تجربات کے باعث ایران اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق تمام تفصیلات مجاز حکام مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے باقر قالیباف جیسی اہم سیاسی شخصیت کو مذاکراتی وفد کی قیادت دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران اس عمل کو صرف سفارتی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور داخلی سیاسی استحکام کے تناظر میں بھی اہم سمجھ رہا ہے۔دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی ایران کے ساتھ محدود سفارتی پیشرفت کے اشارے ملے ہیں، تاہم واشنگٹن اب بھی ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ سے متعلق سخت مؤقف پر قائم ہے۔مبصرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی تیل منڈی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button