ایران امریکہ امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ کون؟

ایران نے ایک بار پھر امریکہ کو امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا۔ ایران نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ’’ضرورت سے زیادہ مطالبات‘‘ خطے میں امن اور سفارتی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلیفونک گفتگو میں موجودہ علاقائی صورتحال، ایران امریکا کشیدگی اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ماضی میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی، متضاد پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے سفارت کاری کو نقصان پہنچاتا رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایران خطے میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ شریک ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ تہران کسی بھی مذاکرات میں اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم اگر امریکا حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کرے تو پیشرفت کے امکانات موجود ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام فریق طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش جاری رکھیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق گوتریس نے کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو خطے کے امن کیلئے ناگزیر قرار دیا۔

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی امید رکھتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران امریکا مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی تیل منڈی پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

Back to top button