مریم نواز کا احسن اقدام اور اندیشہ ہائے دور دراز

تحریر: وجاہت مسعود
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ابن انشا کے شعر اور نثر کی تاثیر سے کون کافر انکار کرے گا۔ کل ملا کے اکاون برس عمر پائی۔ بے بدل شاعر تھے اور مزاح کے پردے میں ملفوف طنز کی کاٹ کے بارے میں مشتاق احمد یوسفی نے ایک جملہ ایسا لکھ دیا کہ انشا جی کی نثر پر جامع و مانع رائے ٹھہرا۔ فرمایا، ’بچھو کا کاٹا روتا ہے اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ انشا جی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔‘ وفات کے بعد ابن انشا کے مضامین کا مجموعہ ’خمار گندم‘ 1982ءمیں شائع ہوا۔ کمال کتاب ہے۔ ایک جملہ ارض سیالکوٹ پر بھی ارزاں فرمایا، ’سیالکوٹ… لاہور سے آگے ایک بستی ہے جہاں کھیلوں کا سامان اور شاعر اچھے بنتے ہیں۔‘ واللہ سیالکوٹ ایسی ہی بستی ہے۔ سیالکوٹ کے قلعے سے رات گہری ہونے کے بعد جموں کی روشنیاں دکھائی دیتی ہیں اور یہ روشنی اس بستی کے رہنے والوں کے بے ساختہ لہجے، وضع داری اور دریا دلی میں ایک گزری ہوئی دنیا کی جھلک بھی دیتی ہے جب سیالکوٹ ایک نفیس، مرتب اور جدید چھاؤنی کی ثقافت سے عبارت تھا۔ حوالے کے لیے خالد حسن مرحوم کی تحریریں دیکھئے یا ممکن ہو تو میرے استاد گرامی شاہد ملک کی خوش کلامی سے استفادہ کیجیے۔ آپ کے نیاز مند کی اس دیار کے باسیوں سے ذاتی ارادت رہی ہے۔ عملی زندگی کے کچھ ابتدائی برس سیالکوٹ کے مضافات میں گزرے۔ بڑھتی ہوئی عمر یوں بھی خوشگوار یادوں کی بازیافت کا عمل ہے۔ سو اہل سیالکوٹ کے لیے اس دل میں خوشی اور احسان مندی کے سوا کچھ نہیں۔ میرے لیے یہ دیہاتی زندگی کے براہ راست مشاہدے کا پہلا موقع تھا۔ کھیت، ٹیوب ویل، ڈاک خانہ، دفتر زراعت، سلوتری خانہ اور ایک سادہ سی مسجد۔ برادرم خورشید ندیم فرمایا کرتے ہیں کہ مذہب کا بنیادی منصب فرد کا اخلاقی ارتفاع ہے۔ خاکسار اس رائے پر گواہی دیتا ہے۔ پکی اینٹوں سے بنی اور آرائش سے بے نیاز مختصر سی مسجد کی طرف بڑھتے سادھارن نمازیوں میں اپنے عقیدے سے وابستگی، دوسروں کے عقائد سے بے نیازی اور باہم ارادت کے ایسے منظر جن سے اعلیٰ انسانی رویوں کی خوشبو آتی تھی۔ خاکسار یہاں پہنچنے سے بہت پہلے خیال اور رائے کی بخیہ گری کر چکا تھا۔ ذات کے بنیادی خدوخال مع انحرافی زاویوں کے مرتب ہو چکے تھے لیکن مجھے اس دیار میں کبھی کسی بدسلوکی کا اشارہ تک نہیں ملا۔ بہت برس بعد یورپ کے دیہات میں اتوار کی صبح گرجا جاتے عبادت گزاروں میں بھی یہی کیفیت مشاہدہ کی۔ سچ پوچھئے تو مذہب کی خوبصورتی اپنی سادگی ہی میں بہار دیتی ہے۔ بڑے شہروں میں معیشت اور سیاست کے دھاگے پیچیدہ ہوتے ہیں۔ مذہب جیسا مثبت مظہر زور آور دھاروں کے گرداب میں الجھ جاتا ہے۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جواں سال ہیں اور ارادے میں صلابت جیسی خوبی رکھتی ہیں۔ مداہنت سے ہمیں کیا واسطہ۔ مریم نواز نے رواں برس مساجد کے آئمہ کے لیے اعزازیے کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جو بلا شبہ ایک احسن قدم ہے۔ یہ طبقہ داخلی معاشی وسائل سے محرومی اور خیراتی مدد پر انحصار کے باعث اس عزت نفس سے محروم ہو چکا ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کا بنیادی حق ہے۔ اگرچہ یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے قریب 21 ارب روپے سالانہ کا یہ منصوبہ صرف مسلم آئمہ کرام تک محدود کیوں ہو۔ دوسرے مذاہب کے پیشواؤں کا بھی اس اعزازیے پر متناسب حق حاصل ہے لیکن یہاں اندیشہ ہائے دور دراز کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں۔ فرد کے افعال اور رویوں میں شفافیت کے لیے غیر جانب دار رسائی اور جواب دہی ضروری ہے۔ مذہبی اداروں میں تو تقدیس کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اپنے دیس ہی پر موقوف نہیں، مغرب میں گزشتہ چند عشروں میں اخفا اور تقدیس کے پردوں سے جو معاملات برآمد ہوئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالیے۔ خود ہمارے ملک میں مذہبی اداروں کا ارتقا ہماری سیاسی تاریخ سے منسلک رہا ہے۔ 1947 میں پاکستان میں کل مذہبی مدارس کی تعداد 200 سے کم تھی۔ افغان جنگ اور انقلاب ایران نے اس شعبے میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کیں۔ آج مسلم مدارس کی تعداد 40 ہزار سے متجاوز ہے اور یہاں 25 لاکھ سے زائد بچے تعلیم پاتے ہیں۔ لاہور کے معتبر صحافیوں سے دریافت کیجئے کہ دسمبر 2008 میں آصف علی زرداری کی بطور صدر پارلیمنٹ میں تقریر سے چند گھنٹے بعد میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے بعد لاہور میں کیا مناظر کھلے تھے۔ 28 مئی 2010 کو لاہور میں دہشت گردی کی دو بڑی وارداتوں کے بعد گوجرانوالہ میں کیسے خوشیاں منائی گئی تھیں۔ ملتان میں راشد رحمن کی شہادت کے بعد بدصورتی کے کیا پہلو نظر آئے۔ اب یہ مت کہئے گا کہ ان واقعات کا تعلق کسی انتہا پسند تنظیم سے تھا۔ ایسا نہیں تھا۔ مسعود اشعر مرحوم کے ادارے ’مشعل بکس‘ نے کوئی ربع صدی پہلے پنجاب کی مساجد میں خطبات پر ایک تحقیق کی تھی جس کے دستاویزی نتائج دستیاب ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رائے عامہ کی ذہن سازی پر مریم نواز کے منصوبے سے استفادہ کرنے والوں کا بہت اہم کردار ہے لیکن اس سرکاری امداد پر کچھ سوال اٹھانا ضروری ہیں۔ کیا اس اعزازیے سے مستفید ہونے والے ممکنہ ستر ہزار افراد سے یہ ضمانت لی گئی ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کریں گے۔ کیا وہ عائلی قوانین کی مخالفت سے گریز کریں گے۔ کیا وہ مذہبی دہشت گردی کی غیر مشروط مزاحمت کریں گے۔ کیا وہ شادی کی عمر کے بارے میں قانون سازی پر اعتراضات سے دست کش ہوں گے۔ کیا وہ گھریلو تشدد کی مخالفت کریں گے۔ کیا وہ طلبا کو جسمانی سزا کے خاتمے کی حمایت کریں گے۔ کیا وہ اپنے خطبات میں عورتوں کے خلاف نفرت انگیز اشاروں سے پرہیز کریں گے۔ کیا وہ پولیو اور دیگر متعدی بیماریوں کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی حمایت کریں گے۔ کیا وہ مذہب کی جبری تبدیلی کی مخالفت پر تیار ہیں۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ بنیادی سوالات بے جا نہیں اور ہمارے آئین و قانون سے مطابقت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے محترمہ مریم نواز کے احسن اقدام میں آئمہ کرام کی مالی مدد کے جواب میں ایسی کسی ضمانت کا کوئی اشارہ موجود نہیں۔

 

Back to top button