فیض حمید کے خلاف TTP  کا نیٹ ورک چلانے پر بھی ایکشن کا امکان

معروف مصنفہ اور تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اثاثہ قرار دیے جانے والے جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف فوج کے اندر بغاوت کی سازش کے علاوہ جس اہم ترین الزام پر کاروائی کا امکان ہے وہ پاکستان دشمن، تحریک طالبان کے ساتھ  مل کر ایک ‘نیٹ ورک’ بنانے اور چلانے کا ہے جسے خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی کی حمایت میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران جنرل فیض حمید نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نام نہاد امن مذاکرات کے بعد ہزاروں طالبان جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو افغانستان سے واپس آ کر خیبر پختون خواہ میں آباد ہونے کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد سے دہشت گردی میں تیزی آ چکی ہے اور ٹی ٹی پی کا مرکزی ٹارگٹ پاکستانی فوج ہے۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک تیر سے کئی شکار کیسے کیے ؟

پاکستان آرمی پر لکھی گئی کتاب سے شہرت پانے والی عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ فیض حمید بہت ساز باز کرنے والا شخص تھا جس نے عمران خان دور میں سیاسی نظام میں گہرائی تک سرایت حاصل کر لی تھی جس کا وہ اب تک فائدہ اٹھا رہا تھا۔ لیکن اس وقت زیادہ سنگین مسئلہ فیض حمید کا وہ ‘نیٹ ورک’ بن چکا تھا جو اس نے تحریک طالبان پاکستان والوں کے ساتھ مل کر بنایا تھا اور جسے خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی کی حمایت میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر بنائے گے فیض حمید کے نیٹ ورک کے ثبوت مل جاتے ہیں تو یہ ناصرف فوجی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہو گی بلکہ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ فیض حمید ان دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے تھے جو مسلسل پاک فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسکے علاوہ فیض کی گرفتاری عسکری برادری کے لیے ایک اشارہ ہے، خاص طور پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کے لیے، جنہوں نے پی ٹی آئی کی حمایت کی اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے موجودہ فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کے خلاف کھڑے ہو گئے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ پاکستانی فوج قیادت نے بالاخر فیصلہ کر لیا ہے کہ عمران خان کو سیاسی طور پر ختم کیا جائے تاکہ ملٹری میں بطور ادارہ ڈسپلن کا جو بحران پیدا ہو چکا ہے اس پر قابو پایا جا سکے۔ انکا کہنا یے کہ جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت فوج پہلے ہی پی ٹی آئی کی سویلین سپورٹ بیس میں سیاسی مزاحمت ختم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اسی لیے عمران خان کی مقبولیت کے باوجود جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر کسی قسم کا کوئی عوامی ردعمل دیکھنے نہیں آیا حالانکہ بانی پی ٹی ائی نے سابق آئی ایس آئی چیف کو اپنا اثاثہ قرار دیا ہے۔

عائشہ صدیقہ کہتی ہیں چونکہ عمران اپنے فوج مخالف بیانیے سے باز نہیں آ رہے لہذا فوجی قیادت نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس دوران اگر عمران خان ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو بھی انہیں نواز شریف کی طرح ایک لمبا عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رہنا پڑے گا۔ یقیناً یہ سب آمرانہ طرز حکمرانی کی جانب ایک قدم ہو گا لیکن فوجی قیادت سمجھتی یے کہ یوں حالات کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اس سے پاکستان میں امن نہیں آئے گا۔

عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ اس معاملے میں اعلیٰ عدالتوں کے بھی گھسیٹے جانے کا امکان ہے جو اب اپنی آزادی قائم کرنے کے موڈ میں نظر آ رہی ہیں، لیکن اہم ترین سوال ہہ ہے کہ کیا اعلی عدلیہ فوج کو پیچھے دھکیل پائیں گی، خصوصا جب کہ یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ججز بھی سیاسی ہو چکے ہیں اور اپنے سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بات طے ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور ان کے ساتھیوں کے کورٹ مارشل جیسی سخت ترین کارروائی ادارے کا متفقہ فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق فوج نے بالآخر آرمی چیف کے دشمنوں کو ختم کرنے، ان کا راستہ روکنے اور فوج کا مرکزی کنٹرول بحال کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی لیے پہلی مرتبہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق چیف کو کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔چونکہ فیض پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور الزامات ثابت ہونے پر ان کا کورٹ مارشل کیا جائے گا، لہٰذا انہیں بطور فوجی افسر ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو فیض سے تمام تر فوجی اعزازات، مراعات اور سہولتیں چھین لی جائیں گی، اور انہیں ملازمت سے بھی برطرف کیا جائے گا۔ ویسے تو یہ گرفتاری ٹاپ سٹی نامی ہاؤسنگ سکیم ٹاپ کے حوالے سے گذشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گے فیصلے کے مطابق شروع کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے کچھ اور بڑی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ شکایت کنندہ نے فیض حمید  پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انٹیلیجنس ایجنسی کو استعمال کرتے ہوئے ٹاپ سٹی کی ملکیتی 14 ہزار کنال قیمتی زمین انکے بڑے بھائی نجف حمید نامی پٹواری کے نام لگانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ فیض نے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ٹاپ سٹی کے مالک کے گھر چھاپہ مروایا، ٹاپ سوسائٹی کے مالک کا الزام ہے کہ اسے ایم کیو ایم کا دہشت گرد قرار دے کر اسکے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی اور گرفتار کر کے سخت تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ عائشہ صدیقہ کے مطابق قابل غور بات یہ ہے کہ ائی ایس ائی کا سربراہ ہونے کے باوجود فیض حمید ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کے لوگوں سے پیسے لینے میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پٹواری بھائی نجف حمید کو اپنے آبائی اضلاع تلہ گنگ اور چکوال میں سینکڑوں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے میں مدد کی جو ان کے خاندان کے مختلف افراد کے نام منتقل کی گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فوج نے اس حوالے سے بھی کرپشن کیسز کی پیروی کے لیے تمام ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں۔

تاہم عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن فوج کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر اعلیٰ فوجی افسران کرپشن میں ملوث ہوں یا ذاتی فائدے حاصل کریں تو کرپشن قابل معافی ہو سکتی ہے۔ لیکن فیض کے خلاف کیے جانے والے ایکشن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ فوج کے اندر بغاوت کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ فیض پر کرپشن کا کیس عوام کو یہ بتانے کے لیے قائم کیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کے پسندیدہ آئی ایس آئی چیف ایسے کام کرتے رہے ہیں جن سے متعلق وہ خود کہا کرتے تھے کہ وہ ان کے خلاف ہیں۔ خاتون مصنفہ کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ جو فوجی قیادت کو درپیش ہے وہ اندرونی بے ضابطگی کا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ حاضر سروس افسران سمیت مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ کے خلاف الزامات میں ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس طرح کے الزامات اشارہ کرتے ہیں کہ وہ عمران اور انکی جماعت تحریک انصاف کے لیے سیاسی نظام اور فوج کے اندر حمایت بڑھانے میں مصروف تھے۔

عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ فوج کی جانب سے اپنے ہی ادارے کے لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا مطلب میڈیا اور عدلیہ سمیت دوسرے اداروں کو ایک واضح اور سخت پیغام بھیجنا بھی ہے۔ اگر فیض واقعی کوئی ریکٹ چلا رہے تھے اور دوسروں کو یہ امید دلا رہے تھے کہ جنرل عاصم منیر کو ہٹایا جا سکتا ہے، تو اب ان کا ساتھ دینے والا کوئی بھی جج یا جرنیل کھڑا نہیں ہو پائے گا۔ لیکن دیکھنا ہو گا کہ فیض حمید کس حد تک اپنی تذلیل برداشت کر پاتا ہے اور عمران خان کے خلاف گواہ بننے میں کتنا وقت لیتا یے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فیض حمید ایسے شواہد فراہم کر سکتے ہیں جو عمران خان کی آرمی چیف کے خلاف عوامی بغاوت کی سازش کے الزام کو ثابت کر سکتے ہیں۔

Back to top button