لانگ مارچ مؤخر کرنا سیاسی حکمت عملی ہے : شوکت یوسفزئی

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہےکہ اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر کرنا سیاسی حکمتِ عملی ہے، وفاقی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔ حکومت کو تھکا تھکا کر مارنا ہماری سیاسی حکمت عملی ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت انا پرستی،ضد اور سیاسی طاقت کے نشے سے نکل کر سوچے،حکومت مذاکرات کرتی ہے لیکن ٹی وی چینلز پر کرتی ہے۔
سینئر رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسف زئی نے کہا کہ وفاقی حکومت عملی طور پر مذاکرات کی بات کرےتو مذاکرات کریں گے، اسے مذاکرات ہی پر آنا پڑےگا، ہزاروں پولیس اہلکار اور کنٹینرز لاکر کھڑے کردیے گئے ہیں۔
شوکت یوسف زئی نے کہاکہ ہم نے سیاسی حکمتِ عملی تبدیل کردی،پُرامن جدوجہد کے حامی ہیں،ہمارا مطالبہ ہےکہ عمران خان کو عدالتی احکامات کی روشنی میں علاج فراہم کیاجائے۔
انہوں نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کےبعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جاسکتی،یہاں صوبائی وزراء کو اٹھایا جارہا ہے،وفاقی حکومت نے جنگل کا قانون بنایا ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے متعلق عطاء تارڑ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہاکہ کچھ عرصہ پہلے وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے صوبوں سے متعلق بیان دیاتھا،ایسے بیانیے سے ریاست کمزور ہوتی ہے،پولیس ایکٹ صوبے کا معاملہ ہے،یہ صوبے کا اختیار ہے،افسوس ہوتا ہےکہ وفاقی وزیر کہتا ہے کہ صوبہ قانون سازی نہیں کرسکتا۔
کیا لانگ مارچ مؤخر کر کے آفریدی خود کو بچا پائیں گے؟
شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ عوام کے مفاد میں قانون سازی کرنا صوبے کا اختیار ہے،اس ایکٹ میں کون سی وہ چیز ہے،جو پنجاب اور سندھ پولیس ایکٹ میں نہیں؟آئی جی کو سپیکر نے بلایا وہ نہیں آئے،چاہتے ہیں کہ پولیس آزاد ہو،کسی کا دباؤ اس پر نہ ہو، اس لیے قانون سازی کی۔
