سرفراز نواز کو جواریوں کے جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں

سابق ٹیسٹ فاسٹ باؤلر سرفراز نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پاکستانی کرکٹ میں کرپشن بے نقاب کرنے پر با اثر جواروں اور سٹے بازوں نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اپنی زندگی پر لکھی گئی نئی کتاب میں پاکستانی کرکٹ میں سٹے بازی، میچ فکسنگ، ڈریسنگ روم کی سیاست اور دیگر تنازعات سے متعلق کئی ’اندر کی کہانیاں‘ سامنے لائے ہیں۔
لندن میں صحت کی خرابی سے نبرد آزما سابق فاسٹ باؤلر کی کتاب کی رونمائی لارڈز میں ہوئی۔ سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ انہوں نے کتاب میں کرکٹ کے ایسے واقعات اور معاملات بھی شامل کیے ہیں جن کے وہ خود چشم دید گواہ رہے ہیں۔ سرفراز نواز کئی دہائیوں سے کرکٹ میں بدعنوانی، سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کے حوالے سے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بعض معروف پاکستانی کرکٹ سٹارز ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے، کیسے کپتانوں کو ہٹانے کی سازشیں ہوتی رہیں اور کیسے پاکستانی کرکٹ میں جوئے کا عنصر داخل ہوا۔ ان کے مطابق کتاب میں ان واقعات کے پس پردہ حالات اور کرکٹ کے ڈریسنگ روم میں ہونے والی سیاست کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سرفراز نواز نے بتایا کہ ان کی تقریباً 100 صفحات پر مشتمل کتاب میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر کی سربراہی میں تیار ہونے والی پاکستانی کرکٹ میں کرپشن کی تحقیقاتی رپورٹ، جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی رپورٹ، سابق کپتانوں پر لگنے والے الزامات اور اس حوالے سے مختلف افراد کے بیانات کا حوالہ بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ سرفراز نواز نے ماضی میں بھی کرکٹ میں بدعنوانی پر کھل کر بات کی ہے اور اب نئی کتاب میں بھی وہ اپنے موقف اور مشاہدات کو ایک مربوط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
سابق فاسٹ باؤلر کا دعویٰ ہے کہ کرکٹ میں سٹے بازی کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے انہیں سنگین دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سٹے بازوں اور جواریوں کے طاقتور سرپرستوں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر انہوں نے کرکٹ میں جوئے پر زبان بندی نہ کی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔
سرفراز نواز کے مطابق انہوں نے 2010 اور 2017 میں ان معاملات کے حوالے سے ایف آئی آرز بھی درج کروائیں، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے وزیراعظم، صدر، چیف جسٹس اور آرمی چیف کو خطوط لکھ کر کرکٹ میں مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی تھی لیکن ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ سرفراز نواز نے بتایا کہ ماضی میں لندن میں قیام کے دوران ان کی برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے حکام سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی اور انہیں خصوصی سکیورٹی بھی فراہم کی گئی۔ انہوں نے شارجہ میں سٹے بازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ نے 2001 میں سر پال کونڈن کی قیادت میں ایک مفصل انکوائری کی تھی۔
انہوں نے 2010 کے سپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے نام بھی لیے، جنہیں 2011 میں سپاٹ فکسنگ کے جرم میں برطانیہ میں قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں بدعنوانی کوئی پوشیدہ معاملہ نہیں اور ان کی کتاب میں اس حوالے سے ماضی کے کئی واقعات، تحقیقات اور تنازعات کو یکجا کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سرفراز نواز پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے نمایاں فاسٹ باؤلرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں ریورس سوئنگ کے ابتدائی اور مؤثر ترین باؤلرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ لارڈز کی تاریخی معلومات میں بھی 1982 کے پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے حوالے سے سرفراز نواز کو ریورس سوئنگ کے ’موجد‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وہ 1969 سے 1984 تک پاکستان کی جانب سے 55 ٹیسٹ میچوں میں 177 وکٹیں اور 45 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 63 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
سرفراز نواز نے اپنی کتاب میں سابق وزیراعظم اور پاکستان کے عظیم آل راؤنڈر عمران خان کے ساتھ اپنی دیرینہ رفاقت کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق 1974 میں عمران خان کی کرکٹ میں واپسی کے بعد دونوں کی فاسٹ باؤلنگ جوڑی نے کئی برس تک پاکستان کی نمائندگی کی اور 1984 تک یہ ساتھ جاری رہا۔ سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان میدان میں ان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور دونوں کے درمیان اس دور میں انتہائی قریبی دوستی قائم تھی۔
اپنے کرکٹ کیریئر کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز نواز نے بتایا کہ وہ لاہور کے علاقے مزنگ میں بچپن میں گلیوں میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور بعدازاں اپنے والد کے ساتھ کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہوگئے۔ 1965 کی جنگ کے دوران تعمیراتی شعبے میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بعد ان کی توجہ کرکٹ کی طرف زیادہ ہوگئی اور انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں کرکٹ کی بنیاد پر داخلہ مل گیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد ان کا کرکٹ سفر غیر معمولی انداز میں آگے بڑھا۔
سرفراز نواز نے 1984 میں اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میچ میں انہوں نے سات وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ ایک اننگز میں 90 رنز بھی بنائے تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور لاہور کی پرانی انارکلی میں اپنے سیاسی عزائم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخاب لڑیں گے اور مستقبل میں کرکٹ بورڈ میں اہم عہدہ حاصل کرکے کھیل کے معاملات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔ سرفراز نواز کے مطابق کرکٹ میں موجود ناانصافیوں نے بھی انہیں سیاست میں آنے پر آمادہ کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ سیاسی میدان میں انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مختلف ادوار میں مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ رہے۔ اب اپنی آپ بیتی میں انہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر، عمران خان سمیت اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات، ڈریسنگ روم کی سیاست، سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے تنازعات سمیت اپنی زندگی کے مختلف ادوار کو قلم بند کیا ہے۔
