قندھار میں ملا ہیبت اللہ کے ٹھکانے پر پاکستانی فضائی حملے

پاکستان نے افغانستان میں تازہ فضائی حملوں میں اس مرتبہ قندھار میں واقع افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ٹھکانے ’سرائے ملا عمر‘ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تاہم یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ہیبت اللہ کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
قندھار پر فضائی حملوں کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ تحریک طالبان افغانستان کی ساری قیادت اب کابل چھوڑ کر قندھار میں مقیم ہو چکی ہے۔ طالبان قیادت کا خیال ہے کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں کے بعد اب دارالحکومت کابل ان کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ جب بی بی سی افغانستان کے فیکٹ چیکنگ یونٹ نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا تو تصدیق ہو گئی کہ قندھار میں سرائے ملا عمر کے نزدیک کئی ہینگرز تباہ ہوئے ہیں۔ اس حملے کے بعد علاقے میں آگ اور دھوئیں کے شعلے بھی دیکھے گئے۔ ’سرائے ملا عمر‘ ماضی میں طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی رہائش گاہ تھی اور بعد میں اسے فوجی نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
افغان ذرائع نے بھی قندھار کے نویں پولیس ضلع میں سرائے ملا عمر کے علاقے کو پاکستانی حملے کا نشانہ بنانے کی اطلاع دی ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق قندھار کے علاوہ پکتیا اور خوست میں بھی ایسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں فوجی نوعیت کی تنصیبات اور ہینگرز موجود تھے۔ پکتیا کے دارالحکومت گردیز کے نواح میں ایک ہینگر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کے اندر موجود سامان کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، جبکہ خوست میں ایک فوجی مقام پر دو ہینگرز مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
افغان حکام نے بھی قندھار، پکتیا اور خوست میں پاکستانی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستانی فضائیہ اور ڈرونز نے افغانستان میں 10 مقامات پر کارروائی کی، جنہیں ڈرونز داغنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں ’درست، محدود اور متناسب‘ تھیں اور صرف ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن کا پاکستان کے خلاف حالیہ حملوں سے براہ راست تعلق تھا۔ پاکستان کے مطابق یہ کارروائی 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز کے جواب میں کی گئی، جنہیں پاکستانی حکام نے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
افغان طالبان حکومت نے تاہم پاکستان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان کی جانب ڈرون حملے نہیں کیے گئے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قندھار، پکتیا اور خوست میں پاکستانی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ ان حملوں کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔ طالبان حکومت کے مطابق پاکستانی حملوں میں چار عام شہری ہلاک ہوئے، تاہم مختلف مقامی ذرائع کی جانب سے جانی نقصان کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
افغان وزارت خارجہ نے بھی پاکستانی ناظم الامور کے سامنے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے حملوں کے خلاف احتجاجی مراسلہ پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کیا ہے۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی کارروائیاں نہ صرف افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی اور انسانی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں اور ڈرون حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تازہ حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر سرحدی جھڑپوں تک پہنچ گئی ہے۔ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے گلستان سیکٹر میں پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان سے وابستہ جنگجوؤں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پاکستانی حکام کے مطابق سرحد پر سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں، تاہم اس واقعے کے بارے میں دونوں جانب سے مکمل اور باضابطہ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ گلستان سیکٹر میں اب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خوست میں طالبان انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی طیاروں نے رات تقریباً ساڑھے تین بجے گربز کے علاقے گلان کیمپ، صوبائی دارالحکومت کے قریب بعض علاقوں اور اسماعیل خیل و مندوزئی اضلاع کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ افغان ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پکتیا میں طالبان کے 203ویں منصوری کور سے منسلک ایک کمپاؤنڈ کے ایک حصے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دہشتگردوں کے سہولتکار افغان طالبان انھیں اپنا ماننے سے انکاری کیوں؟
یہ تازہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان گزشتہ چند دنوں کے دوران کشیدگی میں تیزی آئی ہے۔ 21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے 28 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ کی جانب سے ان حملوں میں شہری اموات کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ افغانستان نے اس کارروائی کو بھی جارحیت قرار دے کر پاکستان سے احتجاج کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کارروائیوں کی بنیادی وجہ وہاں موجود ان عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا ہے جو پاکستانی حکام کے مطابق افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ حالیہ دہشت گرد حملوں اور ڈرون دراندازی کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت کارروائی کی، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے پاکستان پر افغانستان کے خلاف بلاجواز حملوں کا الزام عائد کرتی ہے۔ یہی باہمی الزامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ بن رہے ہیں۔
