کیا ملک بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن کوئی سازش تھی؟

23 جنوری کو ملک بھر میں بجلی کا تاریخی بریک ڈائون پراسرار صورت حال اختیار کر گیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سازش کے نتیجے میں ہونے والی ہیکنگ سے ہوا۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے پاور ہینڈلنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم کے کمپیوٹرائزڈ نظام کی ممکنہ ہیکنگ کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے انتہائی رازداری سے کام لیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ ملک میں بجلی سپلائی کرنے کا نظام سنبھالنے والی کمپنی کے تمام ماتحت افسران اور کئی اعلیٰ حکام بھی اس سے لاعلم ہیں۔ اسکے علاوہ واپڈا کے سینئر حکام کو بھی اس حوالے سے کسی قسم کی معلومات سے لاتعلق رکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 22 اور 23 جنوری کی درمیانی شب کے بعد علی الصبح اچانک پورے ملک میں بجلی بند ہوگئی تھی۔ یہ ملکی تاریخ میں بدترین بریک ڈائونز میں سے ایک ثابت ہوا۔ اسکی ابتدائی وجہ نیشنل گرڈ میں آنے والی خرابی بتائی گئی، تقریباً 12 سے 18 گھنٹوں کے بعد ملک کے بعض حصوں میں بجلی بحال ہونا شروع ہوئی۔ تاہم تمام شہروں کی بجلی کی بحالی کا عمل منگل کو 48 گھنٹے بعد ہی مکمل ہو سکا۔ جبکہ ملک بھر کے پاور سٹیشنوں سے بجلی کی پیداوار اور سپلائی کا عمل شروع نہیں ہو سکا تھا۔ جس کی مکمل بحالی کیلئے حکومت نے 26 جنوری تک کا وقت دیا تھا۔ دوسری جانب انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے ماہرین کی ابتدائی رپورٹ میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مینجمنٹ سسٹم کے سافٹ ویئر کی فریکوئنسی بدتریج کم ہو کر بند ہونے کے حوالے سے مزید تحقیقات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اسے مناسب وقت پر ہینڈل کیوں نہیں کیا جا سکا۔ اب تک کی انکوائری میں یہ پتا چلا ہے کہ اندرونی اور بیرونی عناصر کے سافٹ ویئر پر اثر انداز ہونے کے باوجود فریکوئنسی میں کمی کا بروقت سراغ لگا کر اس کو بند ہونے سے روکا جاسکتا تھا۔ تاہم بعض ماہرین کے مطابق اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

بجلی کے اس بریک ڈائون کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نوٹس لیا گیا اور ایک تین رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس ضمن میں ملک بھر میں موجود ابہام کو دور کرنے کیلئے وفاقی وزیرِ توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا گیا ہے۔ تاہم اگلے 48 گھنٹوں میں بجلی کی کمی رہے گی جبکہ بجلی پیدا کرنے والے ایٹمی پلانٹ کو دوبارہ شروع ہونے میں 24 سے 48 گھنٹے لگتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کوئلے کے پلانٹ کو بھی چلانے کے لیے 48 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ترسیلی نظام محفوظ رہا ہے۔ بجلی کے کارخانے چلانے کے لیے وافر مقدار میں تیل موجود ہے۔ دن کے وقت بجلی کی طلب ساڑھے 11 سے 12 ہزار میگا واٹ ہوتی ہے۔ جلد سب کچھ بحال ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے 3 رکنی انکوائری کمیٹی بنائی ہے۔ جس کی سربراہی مصدق ملک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سے بیرونی مداخلت کے امکان کم ہیں۔ لیکن یہ تفتیش کرنی ہے کہ کہیں ہمارے سسٹم میں ہیکنگ کے ذریعے بیرونی مداخلت تو نہیں ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر یا باہر سے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے سسٹم کی ہیکنگ کا امکان مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حالیہ برسوں میں دنیا میں ایسے دو واقعات پیش آچکے ہیں۔ جن میں ایسے الزامات سامنے آئے جن میں ہیکنگ کے ذریعے ملکوں کے بجلی اور پانی کے ترسیل کے نظام کو متاثر کر کے بلیک آئوٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے ہی ایک تازہ ترین واقعے میں یوکرین کے نیشنل گرڈ سٹیشن پر ہیکنگ کے حملے کے الزامات کے علاوہ 2018ء میں امریکہ کے بجلی کے نظام کو متاثر کرنے کے الزامات شامل ہیں جن میں بظاہر ان ملکوں کی جانب سے روسی ہیکرز کو مورد الزامات ٹھہرایا گیا اور اس ضمن میں دنیا بھر کے جرائد میں خبریں شائع ہوئیں۔ امریکہ کے واقعہ میں حکام کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں یہاں تک کہا گیا کہ ہیکرز بجلی کی ترسیل کے مرکزی نظام میں داخل ہونے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ تاہم انہیں بروقت کائونٹر کرلیا گیا تھا۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ 1998ء میں  این ٹی ڈی سی کو ملک میں بجلی سپلائی کرنے والی خود مختار کمپنی کی حیثیت سے علیحدہ کیا گیا تو بتدریج اس کے نظام کو جدید بنایا گیا۔ اس وقت واپڈا اور دیگر پاور پلانٹ ہائوسز کی جانب سے بجلی پیدا کرکے این ٹی ڈی سی کے نیشنل گرڈ اسٹیشن کو سپلائی کردی جاتی ہے جہاں سے اس کو ملک بھر میں ضرورت کے مطابق تقسیم کردیا جاتا ہے۔

اس وقت وزارت توانائی کی انرجی ڈویژن کے ماتحت کام کرنے والی این ٹی ڈی سی کے ملک میں موجود مرکزی کمانڈ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم میں اتنی قابلیت ہے کہ یہاں موجود کمپیوٹرائزڈ نظام سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ نیشنل گرڈ اسٹیشن سے کس تقسیم کار کمپنی کو کتنی بجلی سپلائی کی گئی اور وہاں سے کتنی بجلی صارفین کو دی گئی۔ جبکہ ملک بھر کے تمام گرڈ سٹیشنوں کی بھی مسلسل مانیٹرنگ کی جاسکتی ہے کہ کس گرڈ سٹیشن کو کتنی سپلائی ہوئی اور اس گرڈ سٹیشن سے آگے کتنی سپلائی کی گئی۔ اس سے بجلی کی چوری کا بھی بروقت سراغ لگایا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں نیشنل ڈسپیچ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کا مانیٹرنگ اور مینجمنٹ نظام زیادہ تر ہارڈ ویئر سے سافٹ ویئر پر منتقل ہو چکا ہے۔ یعنی زیادہ تر نظام کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل گرڈ سٹیشن میں گڑبڑ کے نتیجے میں جب فریکو ئنسی کم ہونا شروع ہوئی تھی تو بروقت مانیٹرنگ سے اس کا سراغ لگا کر اس کو کائونٹر کیا جا سکتا تھا۔

فواد چوہدری کے بھائی فراز کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

Back to top button