شہزادہ ہیری نے اپنا کنوار پن گنوانے کی کہانی سنا دی

لیڈی ڈیانا کے بیٹے شہزادہ ہیری کی کتاب "سپئیر” مارکیٹ ہونے سے پہلے ہی عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ بنا رہی ہے جسکی بنیادی وجہ اس میں کئے گے انکشافات ہیں۔ ہیری کو اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انہوں نے اس میں انتہائی ذاتی نوعیت کی باتیں بھی کر دیی ہیں اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ انہوں نے اپنا کنوارپن کیسے گنوایا تھا۔شہزادہ ہیری کے انکشافات پر نہ صرف برطانوی میڈیا اور سابق فوجیوں نے ردعمل دیا ہے بلکہ افغان طالبان نے بھی اس پر سخت تنقید کی ہے، تاہم بکنگھم پیلس کتاب کے مندرجات پر خاموش ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کتاب کی باضابطہ طور پر اشاعت سے کچھ دن پہلے ہی کتاب میں کیے جانے والے انکشافات شہ سرخیوں اور ٹیلی ویژن نشریات میں نمایاں جگہ حاصل کر رہے ہیں ہیں۔ کتاب کا ہسپانوی زبان کا ورژن غلطی سے وقت سے پہلے ہی سپین میں فروخت ہو گیا ہے۔ اپنے انکشافات میں ہیری نے شہزادہ ولیم کی جانب سے خود پر جسمانی کا بھی بتایا یے۔ اسکے علاوہ ہیری نے بتایا ہے کہ انہوں نے کنوارہ پن کیسے کھویا، کون سی منشیات استعمال کیں اور افغانستان میں 25 طالبان کو بطور فوجی کیسے قتل کیا۔ ان کے انکشافات مذمت اور طنز دونوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
کولمبیا کی شہری یولاندا ٹوریس نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’بنیادی طور پر ہیری دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ باغی ہیں۔ وہ خود کو شاہی خاندان سے دور دکھانا چاہتے ہیں۔‘ دوسری جانب مصنف اے این ولسن نے شہزادہ ہیری کی کتاب کو ان کی والدہ شہزادی ڈیانا کی سوانح عمری کے بعد سب سے بڑی شاہی کتاب قرار دیا ہے۔کتاب کو عام کرنے کے فیصلے کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے ولسن کا کہنا تھا کہ ’یہ کتاب محض شاہی خاندان کے لیے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، شہزادہ ہیری کے لیے نہیں۔‘
یہ کتاب ہیری اور ان کی امریکی اہلیہ میگن کے شاہی منصب چھوڑ کر 2020 میں کیلی فورنیا منتقل ہونے کے بعد شائع ہوئی ہے۔ غلطی سے وقت سے پہلے غکطی سے مارکیٹ ہونے کے بعد کتاب کا ہسپانوی ایڈیشن عجلت میں واپس اٹھا لیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے ذرائع ابلاغ کے ادارے کتاب خرید چکے تھے، جس سے اسکے مندرجات منظر عام ’پر آ گے ہیں۔ لیکن برطانوی ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیری نے صرف کچھ لاکھ ڈالرز کے حصول کے لیے اپنے خاندان کو بس کے نیچے دھکیل دیا یے۔
ہیری کا افغانستان میں 25 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ اور اس عمل کو شطرنج کی بساط پر ’مہروں‘ کو ہٹانے سے تشبیہہ دینا ’نامناسب‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان کے اس دعوے پر بعض سابق برطانوی فوجیوں نے بھی غصے کا اظہار کیا۔ سال 2003 میں عراق میں برطانوی بٹالین کی کمان کرنے والے ریٹائرڈ کرنل ٹم کولنز نے ہیری کے ’پیسہ بنانے کے لیے کیے گے افسوس ناک عمل‘ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’فوج میں آپ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہیری اپنے دوسرے خاندان اور فوج کے خلاف ہو گئے ہیں، جس نے کبھی انہیں گلے لگایا تھا۔ انہوں نے اس خاندان کو کوڑے دان میں ڈال دیا جس میں وہ پیدا ہوئے۔‘ افغانستان میں فرائض انجام دینے والے برطانوی فوج کے ایک اور سابق اعلیٰ افسر کرنل رچرڈ کیمپ نے کہا کہ شہزادہ ہیری کے تبصرے سے ’جہادی پروپیگنڈے کو مدد ملے گی۔‘
افغان طالبان کے اعلیٰ عہدے دار انس حقانی پہلے ہی اپنی ٹویٹ میں کہہ چکے ہیں کہ ’مسٹر ہیری! جن لوگوں کو آپ نے مارا وہ شطرنج کے مہرے نہیں تھے۔ وہ انسان تھے۔ ان کے خاندان تھے جو آج بھی ان کے منتظر ہیں۔‘جیسے ہی ٹوئٹر پر ’شٹ اپ ہیری‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ ہونا شروع ہوا، اخبار ’دی سن‘ نے ہیری کے والد کنگ چارلس تھری کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہیری کی کتاب سے سخت دکھ ہوا ہے، تاہم شاہی محل کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ اپنی یادداشتوں۔پر مبنی کتاب میں شہزادہ ہیری نے دعوی کیا یے کہ انکے والد ان کی اور انکی اہلیہ میگھن کی مالی مدد سے گریزاں تھے کیوں وہ میگھن سے جلتے تھے۔ ہیری لکھتے ہیں کہ 2018 میں انکی شادی کے بعد انکے والد چارلس نے ان کی مالی مدد سے معذرت کر لی جسکے بعد انہیں احساس ہوا کہ چارلس کو ڈر ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کے نتیجے میں ایک ’نیا اور شاندار‘ شاہی جوڑا ’نمایاں‘ ہو جائے گا۔
