پی ٹی آئی خزاں رسیدہ پتوں جیسے کیوں بکھر گئی؟

’میں نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتا یا کرتی ہوں۔۔۔‘ پاکستان میں گذشتہ چند دنوں سے ٹی وی چینلز پر روزانہ کی بنیاد پر نشر ہونے والی درجنوں نیوز کانفرنسز کا آغاز عموماً ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی ان نیوز کانفرنسز کا اختتام ’عمران خان سے لاتعلقی‘ کے اظہار اور پھر تحریک انصاف یا سیاست ہی چھوڑ دینے کے اعلان پر ختم ہو جاتا ہے۔

’اداس چہروں‘ کے ساتھ کی جانے والی اس نوعیت کی پریس کانفرنسز کے بعد تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین ان اعلانات کو پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے مہینوں، اور چند کیسز میں برسوں، جیلوں کی سختیاں بھگتیں مگر پارٹی سے وفادار رہے جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف جس کا قیام ’غیرفطری‘ طور پر عمل میں لایا گیا تھا اس کے رہنما دو، تین دن ہی زیرحراست رہنے کے بعد عمران خان اور تحریک انصاف چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 9 مئی کے واقعات بظاہر تحریک انصاف کے لیے ’ڈراؤنا خواب‘ ثابت ہو رہے ہیں اور پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔اُن کے مطابق الیکٹیبلز، یا وہ سیاست دان جو تحریک انصاف کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سنہ 2018 کے الیکشن سے قبل اس جماعت میں شامل ہوئے تھے، کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکنوں جیسا کہ اسد عمر، شیریں مزاری، عامر کیانی، عمران اسماعیل، سیف اللہ نیازی یا علی زیدی جیسے رہنماؤں کا اپنی راہیں جدا کرنا پی ٹی آئی کے لیے ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ کے اندیشے کو تقویت دینے کا باعث بن رہا ہے۔

پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ سے کئی سوالا ت جنم لے رہے ہیں مثلاً وہ کیا دباؤ ہے جس کی سختی چند دِن کے اندر اندر بعض دیرینہ رہنماؤں کے حوصلوں کو شکست سے دوچار کر رہی ہے؟ سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پنجاب کے سیاسی رہنما پارٹی سے وفاداری تبدیل کرنے والوں کی اگلی صف میں ہمیشہ کی طرح کیوں موجود ہیں؟ جبکہ اہم سوال تو یہ بھی ہے کہ الیکٹیبلز اور ’پارٹی کا چہرہ‘ سمجھے جانے والے رہنما ایک رفتار اور انداز سے پارٹی سے قطع تعلقی کیوں کر رہے ہیں اور کیا ان کی وجوہات ایک جیسی ہیں یا مختلف؟

تحریک انصاف کا پنجاب سے پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ ان میں اکثریت ان افراد کی ہے جو سنہ 2018 کے الیکشن سے قبل تحریک انصاف میں صرف اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے شامل ہوئے تھے اور یہ کہ یہ پنجاب کے وہی الیکٹیبلز ہیں جو ہر الیکشن سے قبل اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔سنہ 2018 کے الیکشن سے قبل تحریک انصاف نے تنقید کے باوجود جیت کے لیے الیکٹیبلز پر انحصار کیا تھا۔ سنہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی 64 نشستیں ملی تھیں جن میں سے 47 ایم این اے وہ تھے جنھوں نے تحریک انصاف کو 2018 کے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل اپنی سیاسی وفاداریاں بدلتے ہوئے جوائن کیا تھا جبکہ 17 ایم این ایز ایسے تھے جو یا تو تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن تھے یا وہ افراد جو سنہ 2013 کے الیکشن میں بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ہی انتخابات لڑے تھے۔ چند ایسے رہنما بھی تھے جنھوں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔سنہ 2018 کے الیکشن سے قبل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے کئی رہنماؤں نے پی ٹی آئی کو جوائن کیا۔ ان میں اکثریت ان سیاست دانوں کی تھی جنھوں نے 9 اپریل 2018 ن لیگ سے مستعفی ہو کر ’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘ کے نام پر الگ دھڑا بنایا۔

نو مئی کے بعد پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جانے والے رہنما دو طرح کے ہیں ایک وہ جو عمران خان کے دیرینہ اور قابلِ بھروسہ ساتھی سمجھے جاتے تھے اور وہ جو ہر الیکشن میں وفاداریاں تبدیل کرنے والے رہنما ہیں۔مگر کیا ان سب پر پارٹی چھوڑنے کے لیے ایک سا دباؤ ہے؟ اس سوال پر سینیئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’پارٹی چھوڑنے کا دباؤ تو سب پر ہے، مگر اس سلسلے میں بیک گراؤنڈ دیکھنا از حد ضروری ہے۔‘ان کے مطابق ’پارٹی سے مخلص رہنے والے رہنما چھوڑ جانے والوں کا کسی نہ کسی طرح فوجی بیک گراؤنڈ ہے۔ جیسا کہ اسد عمر کے والد جنرل تھے، فواد چوہدری کا تعلق ضلع جہلم سے اور فوج کے حوالے سے یہ علاقہ ایک مخصوص انفرادیت کا حامل ہے۔ علی زیدی کیسے تحریک انصاف میں آئے؟ یہ لوگ سب اسی بیک گراؤنڈ سے ہیں۔ اِن کا مسئلہ نظریاتی بھی ہے اور مفاداتی بھی۔ یہ وہ افراد ہیں کہ جنھیں شاید فوج سے لڑائی کا دُکھ بھی ہوا۔‘سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’دیرینہ کارکنان کا مسئلہ نظریاتی بھی ہے۔ یہ فوج سے لڑنا نہیں چاہتے۔ یہ سیاست کرنا اور اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں جبکہ اِن دیرینہ کارکنان کو بھی فوج کے سامنے لاکھڑا کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد ان رہنماؤں پر دباؤ اور کیفیت کو بہت وضاحت اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’پی ٹی آئی کو چھوڑنے والے تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو ہوا کا رُخ دیکھتے ہیں، اِن لوگوں نے 2018 کے الیکشن میں ہوا کا رُخ دیکھ کر ن لیگ کے ٹکٹ تک واپس کر دیے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ 2018 کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کے ساتھ نہیں بلکہ تحریک انصاف کے ساتھ تھی۔ ‘ان کے مطابق ’جو پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکنان ہیں اور پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں وہ بھی دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں، جو عمران خان کے رویے سے نالاں تھے یعنی عمران خان سینیئر رہنماؤں کو سنے بغیر جو حکم دیتے تھے، پارٹی میں وہی کچھ ہوتا تھا جس پر اِن لوگوں کے تحفظات تھے۔ ایسے لوگ اب پارٹی چھوڑتے وقت جو بیان دے رہے ہیں، اُس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اِن پر نہ تو تشدد ہوا اور نہ ہی پارٹی چھوڑنے کے لیے کچھ زیادہ دباؤ ڈالا گیا اور بظاہر اِنھوں نے عمران خان کے رویے سے تنگ آ کر اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پارٹی کو چھوڑ دیا۔‘’دوسرے وہ لوگ ہیں، جو نو مئی کے واقعات پر دُکھی ہوئے ہیں، جس کی مثال ابرار الحق کی دی جاسکتی ہے۔ یہ لوگ نوجوان نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اُس خواب کے اسیر تھے، جو عمران نے نوجوان نسل کو دکھایا تھا، مگر اِن کو معلوم نہیں تھا کہ راستے میں ایک نام نہاد انقلاب بھی آن پڑے گا۔

سید جعفر احمد شیریں مزاری اور فردوس عاشق اعوان کے پارٹی چھوڑنے کے عمل کو بھی مختلف تصور کرتے ہیں۔اُن کے مطابق ’شیریں مزاری نے مشکلات کا سامنا کیا اور دباؤ اُن پر بڑھتا رہا، جبکہ فردوس عاشق اعوان پر شاید کوئی خاص دباؤ نہیں تھا۔‘ڈاکٹر سید جعفر احمد کے خیال کے مطابق ’اسدعمر پڑھے لکھے سیاست دان ہیں۔ اُس کو خبر ہے کہ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ درست نہیں۔

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی پارٹی سے الگ ہونے اور دباؤ کے کئی فیکٹرز بتاتے ہیں۔اُن کے مطابق ’زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کو سنہ 2017 اور سنہ 2018 میں چڑھتے سورج کا اندازہ ہو گیا تھا اور وہ اس میں شامل ہو گئے تھے۔ پھر حالیہ صوبائی اسمبلی کے جن کو ٹکٹ نہیں ملے، وہ لوگ بھی چھوڑنے والوں میں شامل ہیں۔حسن عسکری رضوی کے مطابق دیرینہ کارکنان پر ایک دباؤ اس بات کا بھی تھا کہ ’نو مئی کا تشدد جو غیر معمولی نوعیت کا تھا، اسے کیوں قبول کریں، دیرینہ کارکنان اس کا الزام اپنے اوپر نہیں لینا چاہتے تھے۔ اگر وہ اس دباؤ کو برداشت کر جاتے تو شاید یہ

پاکستان نے IMFکو شٹ اپ کال کیسے دی؟

ہمیشہ کی بدنامی کا باعث بھی بن جاتا۔‘

Back to top button