عمران کی پولیس مخالف کارروائیوں کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

سینئرصحافی اورتجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کے حکم پر پرویز الٰہی کی پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے کے سینئر پولیس افسران کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ انہیں یہ سوچنے پرمجبور کردے گا کہ حکومتی احکام کی تعمیل کر کے تو پھنسنے والی بات ہے لہذا بہترہو گا کہ کسی حکم پرعمل نہ کیا جائے؟ لیکن اگر ایسا ہو گیا تو یہ ملک مادر پدر آزاد ہو جائے گا اورکوئی کسی کی نہیں مانے گا۔ صافی کہتے ہیں کہ اگر اس صورتحال سے بچنا ہے تو عدلیہ پولیس کو بھی اپنے ادارے کی طرح خود مختار بنا دے تا کہ کوئی وزیر ان پر حکم نہ چلا سکے اور پولیس بھی عدلیہ کی طرح آزاد اور خود مختار ادارہ بن جائے، یا پھر پولیس کی عزت اور وقار بارے بھی وہی حساسیت دکھائی جائے جو کہ فوج اورعدلیہ جیسے باقی ریاستی ادارے اپنے متعلق دکھا رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں صافی کہتے ہیں کہ یہ تو ثابت ہوگیا کہ ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں اور بحیثیت قوم ہم اخلاقی زوال کاشکار ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ عدلیہ سے لیکر فوج تک اور پارلیمنٹ سے صحافت تک ہر جگہ، اگر اچھے لوگ پائے جاتے ہیں تو برے بھی پائے جاتے ہیں۔ کرپشن اگر پولیس میں ہے تو ثابت ہوگیا کہ وہ عدلیہ میں بھی ہے، بعض جرنیلوں نے بھی بری طرح ہاتھ صاف کئے، سیاست دانوں میں بھی کرپٹ اور چندہ چوروں کی بہتات ہے جب کہ میڈیا میں بھی ضمیر فروش اور بلیک میلرز موجود ہیں، لیکن پولیس کا واسطہ چوں کہ براہ راست عوام سے ہے، اسلئے ہمارے ملک میں صرف پولیس کو نفرت کی علامت بنادیا گیا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پولیس نے جو قربانیاں دیں اور انہیں جس جس طریقے سے قربانی کا بکرا بنایا گیا، اسکے بعد وہ بحیثیت ادارہ ظالم سے مظلوم بن گئے ہیں۔ ملک درحقیقت فوج چلاتی ہے اور حکومتیں بیوروکریسی۔ فوج اپنا بدلہ بھی لے سکتی ہے اور بطور ادارہ اس کے جرنیل ایک دوسرے کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ یہی رجحان بیوروکریسی میں بھی نظر آتا ہے لیکن پولیس نہ تو اپنا بدلہ لے سکتی ہے اور نہ ہی بیوروکریسی کی طرح جانے والے کا دفاع کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب نے دیکھا کہ عمران خان کی حکومت کو فوج کے چند بندے چلارہے تھے۔ اس دوران جس شخص پر غصہ تھا، فوج نے اس سے اپنا حساب چکایا۔ لیکن اگر کسی نے آئین شکنی کی تھی تو اس کا پورا تحفظ کیا گیا۔ اس طرح ججز نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ساتھی ججز سے نہ تو کوئی حساب لیا اور نہ ہی کسی نے ثاقب نثار اور سعید کھوسہ جیسے مکروہ کرداروں سےکچھ پوچھا۔
وزارت دفاع کاایکس سروس مین ، ویٹرنزآف پاکستان سےاعلان لاتعلقی
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب بیوروکریسی اور بالخصوص ڈی ایم جی گروپ کا معاملہ دیکھ لیجئے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ حکومت عملاًپرنسپل سیکرٹری چلاتا اور اپنے چہیتوں کو اکاموڈیٹ کرتا ہے۔ عمران خان کی حکومت میں ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ہی وزیراعظم سمجھا جاتا تھا لیکن آج انکے ساتھی بیوروکریٹ اعظم خان کو نہ صرف بچا رہے ہیں بلکہ ان کے چہیتے بیوروکریٹس کو بدستور نوازا جارہا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ فوج نے لڑی یا پولیس نے، فوج کے کردار کا پھر بھی اعتراف کیاجارہا ہے لیکن پولیس کے شہدا اور غازیوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ صفوت غیور، ملک سعد اور ان کی طرح کے سینکڑوں پولیس افسروں نے شجاعت و بہادری کی نئی تاریخ رقم کی لیکن نہ سرکاری طور پر ان کے دن منائے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کی وہ تعریف ہوئی جن کے وہ مستحق تھے۔ پورے ملک اور بالخصوص پختونخوا اور بلوچستان میں پولیس کے نچلے درجے کے افسر اور سپاہی گزشتہ 20 سال سے ہمہ وقت جان ہتھیلی پہ لئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس کا صلہ ہم نے پولیس کو یہ دیا کہ سیاست کی خاطر یا پھر اداروں نے اپنی اپنی انائوں کی خاطر پولیس کے مورال کو پائوں تلے روند ڈالا ۔ ان کو عدلیہ یا فوج کی طرح خود مختاری حاصل نہیں بلکہ وہ سیاسی یا فوجی حکمرانوں کے ماتحت ہوتے ہیں لیکن ہر جگہ قربانی کا بکرا انہی کو بنایا جاتا ہے ۔ مثلاً بے نظیر بھٹو قتل کیس میں جائے واردات کو دھونے کا فیصلہ پولیس افسروں نے خود نہیں کیا تھا لیکن پولیس افسروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ ماڈل ٹائون واقعہ کسی اور کی سازش تھی اور پولیس نے کسی اور کے حکم کی تعمیل کی تھی لیکن گالی پولیس افسروں کو پڑتی رہی۔پھر عمران خان کے دور میں پولیس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ اس دور میں پولیس کے ایک ایس پی محمد طاہرداوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کرکے اسکی لاش افغانستان سے برآمد کروائی گئی لیکن وزیر داخلہ شہریار آفریدی ساتھ دینے کی بجائے انکے وارثوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہے ۔
سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ اپنی حکومت کے آخری دنوں میں عمران خان نے پولیس کو پارلیمنٹ لاجز پر چڑھائی کا حکم دیا ۔ پھر مولانا فضل الرحمان اس وقت کے آئی جی پولیس پر برہم تھے لیکن بڑی مشکل سے ہم نے منت ترلہ کرکے مولانا سے کہہ دیا کہ ان کی آپ سے ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ وہ عمران خان اور وزیرداخلہ کے حکم کی تعمیل کررہے تھے ۔ اب موجودہ اسلام آباد پولیس کا معاملہ لے لیجئے۔ عمران خان نے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کیا اور حکومتِ وقت نے انہیں روکنے کا ۔ کم وسائل اور ماضی کے ان تلخ تجربات کے باوجود پولیس نے ان کو اسلام آباد میں گھسنے نہیں دیا ۔ وہ اگر حکومت کی حکم عدولی کرکے عمران کو دارالحکومت میں گھسنے دیتی تو حکومت نے ان کو سزا دینی تھی لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کی تو سپریم کورٹ نے آئی جی کو بلا کر کھری کھری سنائیں اور انہیں فوری طور پر عمران کے جلسے کیلئے ایچ نائن پارک میں انتظامات کرنے کا کہا۔ پولیس نے عدالت کے حکم کی فوری تعمیل کی لیکن عمران نے سپریم کورٹ اور پولیس دونوں کی توہین کرتے ہوئے ایچ نائن پارک کی بجائے ڈی چوک پر دھاوا بولنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں پولیس نے بڑی حکمت سے انہیں کنٹرول تو کیا لیکن آج تک سپریم کورٹ نے اپنی توہین اور پولیس کی توہین کا عمران سے کوئی حساب نہیں لیا جبکہ دوسری طرف پرویز مشرف کے حکم پر جس پولیس افسر نے تب کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ بدسلوکی کی تھی، مشرف کی جگہ ان کو سزا بھگتنا پڑی۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ 25 مئی کو عمران کی اسلام آباد پر یلغار کے وقت جن پولیس افسروں نے پی ٹی آئی کےمشتعل مظاہرین کو روکا تھا ، پرویز الٰہی نے آتے ہی ان کو سزائیں دینا شروع کردیں حالانکہ وہ پولیس افسر آج پرویز الٰہی کے احکامات کی اسی طرح تعمیل کررہے تھے جس طرح کہ انہوں نے حمزہ شہباز کی کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ آج اگر پرویز الٰہی پولیس افسروں کو کسی کی گرفتاری کا حکم دیں اور وہ اسکی تعمیل نہ کریں تو کیا وہ انہیں چھوڑیں گے؟ اسی طرح عمران نے دھمکی صرف ایڈیشنل سیشن جج کو نہیں دی تھی۔ انہوں نے آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو بھی دھمکی دی تھی۔ عدلیہ نے تو ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکی دینے پر عمران کو توہین عدالت کا نوٹس دیدیا لیکن آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو دی جانیوالی دھمکیوں کا کسی کو احساس نہیں حالانکہ پولیس صرف حکومت کے احکامات کی تعمیل کررہی ہے یا پھر عدلیہ کے۔ عدلیہ نے بہت اچھا کیا اور اس جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اپنی ایڈیشنل سیشن جج کو ملنے والی دھمکی کا نوٹس لیا لیکن سوال یہ ہے کہ عدلیہ اسی طرح آئی جی اور ڈی آئی ڈی کو دی جانے والی دھمکی پر برہم کیوں نہیں ہے؟ صافی کہتے ہیں کہ اس سلوک سے کیا ہم پولیس کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ حکومتِ وقت کے احکامات کی تعمیل نہ کرے؟ اگر ایسا ہو گیا تو یہ ملک مادر پدر آزاد ہو جائے گا اور کوئی کسی کی نہیں سنے گا۔
