اکبر ایس بابر کا PTIپارٹی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف کے بانی باغی رکن اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نہ صرف وہ بلکہ تحریک انصاف کے کئی بانی اراکین پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں۔ اگر پارٹی انتخابات صاف شفاف ہوں تو وہ عمران خان کو سرپرائز دینگے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو پہلے اجرتی سیاستدانوں اور اب اجرتی وکیلوں نے ہائی جیک کر لیا ہے جن میں بغیر پوچھے عہدے بانٹے جا رہے ہیں، بتایا جائے ان کی پارٹی کے لیے کیا خدمات ہیں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہاکہ بادشاہوں کی طرح بغیر کسی میرٹ کے جس سے خوش ہو گئے اسے عہدہ دے دیا۔ پی ٹی آئی کسی ایک شخص کو وزیراعظم بنانے کے لیے نہیں بلکہ ملک کو بہتر سیاسی قیادت دینے کے لیے بنی تھی۔’عمران خان کا رویہ مکمل غیر جمہوری ہے۔ پی ٹی آئی کے اندھی تقلید کرنے والے سپورٹرز کو یاد رکھنا چاہیے کہ اندھی تقلید لیڈر کو اندھا کر دیتی ہے اور سب کنویں میں جا گرتے ہیں‘۔اکبر ایس بابر نے کہاکہ عمران خان کا بلامقابلہ پی ٹی آئی چیئرمین منتخب ہونا پارٹی آئین کی خلاف ورزی ہے، یہ نیشنل کونسل کے اجلاس اور پارٹی آئین میں ترمیم کیے بغیر کیسے ہو گیا۔ پہلے کہہ رہے تھے کہ پارٹی انتخابات کے لیے وقت نہیں پھر کہا کہ جمعے کو پارٹی چیئرمین کا انتخاب ہے اور پھر کہا کہ عمران خان بلامقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات میں دلچسپی بارے سوال کے جواب میں اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف پی ٹی آئی ہی نہیں تمام سیاسی جماعتیں شخصیات اور خاندانوں کے گرد گھومتی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں قیادت کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قابل اور اچھے کردار کے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا۔ ہماری جدوجہد کا بنیادی نقطہ ہے کہ ان جماعتوں کو شخصی اور خاندانی اثر سے آزاد کرنا ہے۔
اکبر ایس بابرکا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت ایک غیر حقیقی چیز ہے، آپ یہ بتائیں کہ عمران کی مقبولیت سے پاکستانی قوم کو کیا فائدہ ہوا، پی ٹی آئی ملک کے فائدے کے لیے بنائی گئی تھی تاکہ لوگوں کو بہتر زندگی، تحفظ اور روزگار مل سکے، یہ جماعت کسی ایک شخص کی مقبولیت میں اضافے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ نیلسن مینڈیلا جب 27 سال بعد جیل سے باہر آیا تو صدر اور وزیر اعظم بھی بنا مگر اس نے عہدے کی ایک مدت کے بعد استعفٰی دیا اور اپنا سارا ووٹ بینک اپنی پارٹی کو منتقل کیا۔ لیڈر کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مقبولیت میں اضافے کی جدوجہد کرے۔ اس کے برعکس عمران خان نے ایک جمہوری طریقے سے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک جھوٹے بیانیے کے ذریعے اپنی مقبولیت میں اضافے کی کوشش کی۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو میڈیا اور ون پیج ڈاکٹرائن نے ایک کلٹ بنایا۔ عمران خان کو 4،4 گھنٹے لائیو ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا تھا جس سے اس کو ایک کلٹ بنایا گیا، ہمیں اس غیر حقیقی مقبولیت کے تصور سے بچنا ہے کیونکہ اس نے ملک کو کچھ نہیں دیا۔پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی بارےاکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود کش بمبار کی طرح سیاست کی، جس طرح وہ نا صرف خود تباہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی تباہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں کہ عمران کو اچھے مشیر نہیں ملے۔ اچھے مشیر نہ ملنے کے ذمے دار عمران خان ہیں۔ سب سے زیادہ ذمے داری خود لیڈر پر عائد ہوتی ہے۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ میں نے عمران خان کی نجی زندگی کے بارے میں کبھی بات نہیں کی لیکن جب میں نے فارن فنڈنگ مقدمہ دائر کیا تو اس سے اگلے دن میرے بارے میں انتہائی غلیظ پریس ریلیز جاری کی گئی اور مجھے خود سے نفرت ہو گئی کہ میں کن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا رہا ہوں۔
پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کچھ سیکھا نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے کے لیے میں نے جدوجہد کی تھی لیکن آنے والے دنوں میں مجھے نا صرف پارٹی کا انتخابی نشان بلکہ پارٹی کا سیاسی مستقبل
کیا پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کو فتح کر پائے گی؟
بھی خطرے میں نظر آتا ہے۔
