پنجاب اسمبلی میں 5ہزار 446ارب کا ٹیکس فری بجٹ پیش

وزیرخزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پنجاب اسمبلی میں 5ہزار 446ارب کا ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا۔
وزیرخزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 9ارب روپے سے چیف منسٹر روشن گھرانہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔پیلے مرحلے میں 100 ہونٹ استعمال کرنے والوں کو فری سولر پینل دیے جائیں گے۔10ارب کی لاگت سے اپنا گھر اپنی چھت منصوبہ کا اغاز کیا جا رہا ہے۔کسان کارڈ کے اجراء سے پانچ لاکھ کسانوں کو کل 75 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیتے جایں گے۔نو ارب کی لاگت سے وزیر اعلیٰ سولرائیزیشزن پروگرام شرؤ کیا جا رہا ہے۔پنجاب بھر پنجاب بھر کے 5000 ٹیوب ویل کو سولر پر منتقل کیا جائے گا۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ 30ارب کی لاگت سے وزیر اعلیٰ گریں ٹریکٹر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ایک ارب کی لاگت سے پنجاب بھر میں ماڈل ایگریکلچر مال بنایے جا رہے ہیں۔2ارب کی لاگت سے لائیو سٹاک کارڈ مہا کیا جا رہا ہے۔کسانوں کو ڈیرہ فارم کے کیے بلا سود قرضے دیتے جایں گے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ 5ارب کی لاگت سے شہر میں ماڈل فش پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔پنجاب کا بجٹ کا کل حجم 5446 ارب روپے ہے۔کل آمدن کا تخمینہ 4343 ارب روپے لگایا گیا ہے۔پنجاب کیلئے 3683 ارب فیڈرل سے حاصل ہوں گے۔پنجاب میں 54 فیصد اضافے کے ساتھ 960 ارب 30 کڑوڑ لگایا گیا ہے۔آئندہ مالی سال بجٹ میں تعلیم صحت واٹر سپلائی اور سماجی تحفظ کے کے لیے 280 ارب 33 کڑوڑ روپے مختص کی گئی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ شعبہ تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 669 ارب مختص کیے گیے ہیں۔604ارب غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔سکول ایجوکیشن کے شعبہ کے کیے 42 ارب 50 کڑوڑ کی رقم مختص کی گئی ہے۔جس میں پرانے اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر اور نئے کلاس روم اور آئی ٹی کلاس کا منصوبہ بھی شامل ہے۔شعبہ تعلیم میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کا اجرا کیا ہے۔جس میں کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی مدد لے جائے گی۔
12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ قبول نہیں، علی امین گنڈا پور
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتای کہ آیندہ مالی سال میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لے 25 ارب 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کی حکومت تعلیم کو عام کرنے کے کیے ہر وقت کوشاں ہے۔پنجاب حکومت نے دانش سکول کو دوبارہ شروع کر کے اس کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ان سکولوں میں ضلع بھر سے ہونہار طالب علم کو سٹیٹ آف آرٹ کی تعلیمی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔پنجاب کا کوئی ہونہار طالب علم اعلی تعلیم ست محروم نہیں رہے گا۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ ہم نے پنجاب انڈو منٹ فنڈ کامی بنیاد رکھی اس کا اس وقت حجم 16 ارب 25 کروڑ ہے۔ہائیر ایجوکیشن کے لیے 17 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔جس میں۔ طلبہ کو لیب ٹاپ کی فراہمی ملکہ کوہسار میں نیشنل یونیورسٹی کا قیام شامل ہے۔آئندہ مالی سال میں سپیشل ایجوکیشن کے لیے مجموعی طور پر 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔محکمہ لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔آیندہ مالی سال میں شعبہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 539 ارب 15 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔125ارب شعبہ صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے کیے مخصوص کے گئے ہیں۔شعبہ پرائمری ہیلتھ کے لئے ترقیاتی بجٹ میں 42 ارب 60 کڑوڑ مختص کیے گئے ہیں۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔مفت۔ ادویات کے لیے 55 ارب 40 کڑوڑ کی رقم مختص کی گئی ہے۔آیندہ مالی سال کے لیے 85 ارب روپے کی رقم سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے کیے مخصوص کیے گیے۔زراعت کے شعبے کے لیے 64 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گیے۔کسان کارڈ کے لیے 5 لاکھ کسانوں کو 75 ارب روپے مالیت کے بلاسود قرضے دیتے جایں گے۔ملک بھر کے 7000 ٹیوب ویل کو سولر پینل پرکرنے کے لیے 9 ارب کی لاگت سے پروگرام شرؤع کیا جا رہا ہے۔ایک ارب 25 کڑوڑ کی لاگت سے پنجاب میں ماڈل ایگریکلچر مال بنایا جائے گا۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ 30ارب کی لاگت سے گرین ٹریکٹر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔پنجاب بھر کے کسان بلا سود یۃ ٹریکٹر حاصل کر سکتے ہیں۔کسانوں کے لیے بریڈ ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب کی لاگت سے ترقیاتی سکیم متعارف کروائی جا رہی ہے۔جانوروں کی بیماریوں کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گیے۔2ارب کی لاگت سے کسان کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔لائیو سٹاک کی ترقیاتی سکم کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گیے ہیں۔صوبے بھر کی شاہراہوں کے کیے 143 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔جس میں 58 ارب روپے کی رقم 528 منصوبوں کے لیے مختص کی گی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ 296ارب کی لاگت سے 2380 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر پر کام کاج جا رہا ہے۔135ارب کی لاگت سے 482 منصوبوں پر مشتمل پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔اگلے مالی سال کے لیے سرگودھا کی بحالی و ترقی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔روڈ ری ہیبلیایشن پروگکت تحت 684 کلومیٹر کی سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے لیے 31 ارب 48 روپے تجویز کئے گئے ہیں۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ 12ارب کی لاگت سے پورے والا وہاڑی روڈ کی بحالی،10ارب کی لاگت سے 581 بنیادی صحت کے مراکز کی تعمیر کی جائے گی۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ 8ارب کی لاگت سے ملتان اور بہاولپور میں بسوں کی فراہمی ،7ارب کی لاگت سے ملتان سیف سٹی پروگرام شروع کیاجائے گا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 1 سے 16 گریڈ کے لیے 25 فیصد،17سے 25گریڈ کے ملازمین کے لیے 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ماہانہ تنخواہ کم سے کم 32 ہزار ست بڑھا کر 37 ہزار کر دیا گیا ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نےاجلاس 20جون صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔
