کوئٹہ : ریلوے ٹریک پر دھماکا، ایف سی اہلکاروں سمیت 40 افراد شہید

کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 40 افراد شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ اموات میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے مرنے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرسکتی ہے۔
پولیس کے مطابق کار سوار خودکش بمبار نے 100 کلو گرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا۔
پولیس کے مطابق دھماکا چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا،دھماکا اس قدر شدید تھاکہ اس کی گونج سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، دھماکےسے ٹرین کو اور قریب کھڑی 10 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ سٹیشن پر ہی روک لیا گیا ہے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر تفتیش کا آغاز کردیا ہے اور سرکاری ہاسپٹلز میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو طلب کرلیا گیا ہے۔
وزیرداخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا امور بابر یوسفزئی کاکہنا ہےکہ دھماکے کےبعد تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے،عوام سے اپیل ہے کہ دھماکے کی جگہ کے قریب جمع نہ ہوں، دھماکے کی جگہ کو آمدورفت کےلیے بند کر دیا گیا ہے اور ریسکیو کا کام جاری ہے۔
روسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے 106 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

