ایران امریکا ڈیل قریب؟ معاہدے سے کیا کچھ بدلنے والا ہے؟

 

 

 

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک بڑی سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی نیوز پورٹل “ایگزیوس” نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس مجوزہ معاہدے میں نہ صرف 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہے بلکہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور لبنان میں جاری کشیدگی ختم کرنے جیسے اہم نکات بھی شامل ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق اس حساس سفارتی عمل میں پاکستان نے انتہائی اہم ثالثی کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق ان کوششوں کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں، جبکہ ان کا حالیہ دورۂ ایران بھی اسی سفارتی سلسلے کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایگزیوس کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک مذاکرات کے ایک اہم مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

 

مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مکمل طور پر کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ پیشرفت عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو عالمی تیل منڈیوں میں استحکام پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے جبکہ امریکی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی متوقع ہے۔ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ اس کے بدلے ایران نے یورینیم افزودگی محدود رکھنے اور کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی زبانی یقین دہانی کرائی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ایران فوری طور پر اپنے منجمد فنڈز کی بحالی اور پابندیوں کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مکمل ریلیف صرف اس صورت میں ممکن ہوگا جب ایران عملی اقدامات کے ذریعے اپنے وعدوں پر عملدرآمد ثابت کرے گا۔

 

ایگزیوس کی رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد عرب اور مسلم رہنماؤں سے رابطے کیے جنہوں نے مجوزہ معاہدے کی حمایت کی۔ مجوزہ ڈرافٹ میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے اور جنگ بندی کے امکانات کا بھی ذکر شامل ہے، جسے خطے میں امن کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ توانائی کی عالمی منڈی، اسرائیل لبنان کشیدگی، خلیجی سیاست اور عالمی سفارتی توازن،سب اس معاہدے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے مابین اسلام آباد میں امن معاہدے کا امکان

اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں واقعی ایک تاریخی معاہدے میں تبدیل ہوتی ہیں یا خطے کی پیچیدہ سیاست ایک بار پھر کسی نئے بحران کو جنم دے گی۔

 

Back to top button