پاکستان کامیاب، ایران امریکا امن معاہدے کا اعلان 24 گھنٹے میں متوقع

مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں اس وقت مزید مضبوط ہو گئی ہیں جب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک بڑے امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک جنگ بندی معاہدے کے حتمی مسودے پر متفق ہو چکے ہیں اور آئندہ 24 گھنٹوں میں اس کے باضابطہ اعلان کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان نے نہایت اہم اور فیصلہ کن ثالثی کردار ادا کیا۔ امریکی میڈیا نے خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں اس ممکنہ تاریخی معاہدے کا مرکزی کردار قرار دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کی صبح معاہدے کے مسودے پر اہم پیشرفت ہوئی اور دونوں ممالک نے اس پر اصولی اتفاق کر لیا۔ ذرائع کے مطابق اب صرف باضابطہ اعلان باقی ہے، جو اتوار تک متوقع ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے طے پا جاتا ہے تو فروری کے آخری دنوں سے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری عارضی جنگ بندی بھی مستقل شکل اختیار کر سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ انٹرویو میں عندیہ دیا کہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور ثالثی کی کوششیں کامیابی کے قریب ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے کردار کو نہایت مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے ایران جلد جنگ بندی معاہدہ قبول کر لے گا۔
واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ایران اس پورے سفارتی عمل میں گیم چینجر ثابت ہوا۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستانی قیادت نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کیے بلکہ خطے کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران دورے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس میں اہم مشاورت شروع ہوئی جہاں صدر ٹرمپ نے اپنی نیشنل سکیورٹی ٹیم کو طلب کیا۔ اس دوران پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر سمیت کئی اہم ممالک کے رہنماؤں سے بھی رابطے کیے گئے تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ایران اور امریکہ کے مابین اسلام آباد میں امن معاہدے کا امکان
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈی، خلیجی سلامتی اور عالمی سفارتی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ عالمی سطح پر پہلی مرتبہ اسے ایک اہم ثالث اور امن ساز قوت کے طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے۔
اب دنیا بھر کی نظریں اس متوقع اعلان پر مرکوز ہیں جو خطے کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے اور کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
