راناثنااللہ نے27ویں ترمیم اورنئےصوبوں کی باتوں کوافواہیں قرار دیدیا

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت 27 ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کسی سنجیدہ پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راناثنااللہ کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوچکے ہیں اور حکومت نے اس پر کوئی اعتراض نہیں لگایا۔ الیکشن 9 ستمبر کو ہوگا اور فیصلہ ایوان ہی کرے گا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ آئینی و قانونی عمل جمہوری روایت کا حصہ ہے۔ نواز شریف نے دو سال قبل مینار پاکستان پر قوم کو پیغام دیا تھا کہ ملک کو بھنور سے نکالنے کے لیے تمام اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ اسی تسلسل میں وزیر اعظم نے یومِ آزادی پر "میثاقِ استحکام پاکستان” کی بات کی، جو سیاسی و معاشی استحکام کا راستہ ہے اور اس پر بات چیت ہونی چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ جب تک تمام فریقین ٹیبل پر نہیں بیٹھیں گے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا اختیار ہے کہ فیصلے کریں اور پی ٹی آئی کو بھی اپیل کا حق حاصل ہے، مگر تنقید آئینی و قانونی حدود میں رہنی چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس روز تمام قیادت نے احتجاج کی راہ اپنائی اور "خان ہے تو پاکستان ہے” جیسے نعروں کو ریڈ لائن بنا دیا گیا۔ اگر اس روز گھیراؤ جلاؤ ہوتا تو ذمہ داری ان پر عائد ہونی تھی۔
انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان جیل میں اچھا وقت گزار رہے ہیں، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ انہیں دو دو اے سی دیے جائیں اور کھانا پی سی سے منگوایا جائے۔
