اداکارہ ریما خان کبھی سکینڈلز کی زد میں کیوں نہیں آئیں؟

اداکارہ ریما خان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کو کم عمری میں ہی اداکاری کا شوق تھا جس کی وجہ سے وہ 16 برس کی عمر میں سٹار بن گئی تھیں، ریما کا شمار 1990 کی مقبول فلمی اداکاراؤں میں ہوتا ہے، 200 کے قریب فلموں میں کام کیا، جس میں سے زیادہ تر پنجابی زبان کی فلمیں تھیں۔ریما نے ’’بلندی‘‘ سے فلم ڈیبیو کیا اور ان کی پہلی فلم ہی کامیاب گئی جبکہ ابتدائی چند سال میں ان کی ریلیز ہونے والی تمام فلموں کو پسند کیا گیا، جس وجہ سے وہ دیکھتے ہی دیکھتے سپر سٹار بنیں، اداکارہ نے فلموں کے بعد ڈراموں میں بھی کام کیا جبکہ ٹیلی وژن پر متعدد پروگراموں کی میزبانی بھی کی اور ان کا شمار ملک کی بہترین ڈانسرز میں ہوتا ہے، ریما خان 2011 میں پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر طارق شہاب کے ساتھ شادی کر کے امریکا منتقل ہو گئی تھیں، اداکارہ کا ایک بیٹا ہے۔شاندار اداکاری پر مارچ 2019 میں حکومت پاکستان نے ریما کو تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا تھا، اس سے قبل وہ متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کر چکی تھیں، حال ہی میں اداکارہ نے کامیڈی شو ’’مذاق رات‘‘ میں شرکت کی، جہاں کیرئیر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہیں سپر سٹار بننے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑا۔ریما کا کہنا ہے کہ وہ خود سے پیار کرتی ہیں اور یہی ان کی خوبصورتی اور فٹنس کا راز ہے، وضاحت کی کہ خود سے پیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جسامت سمیت مکمل صحت کا خیال رکھیں گی، جس طرح انہوں نے فلموں میں ہیروئن کے کردار ادا کیے، اسی طرح اب وہ حقیقی زندگی کے کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں، حقیقی زندگی میں پہلے وہ اداکارہ تھیں، پھر کسی کی بیوی بنیں، پھر ماں بنیں اور اب ان کا دوسرا کردار چل رہا اور حقیقی زندگی کی فلم جاری رہے گی، ان کے کردار تبدیل ہوتے رہیں گے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود سے اچھے اداکار کی تعریفیں کیں اور ان سے سیکھنے کی کوشش کی جبکہ خود سے کم صلاحیتوں والے اداکاروں کو دیکھ کر انہوں نے کبھی غرور نہیں کیا، جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کس کام پر زیادہ توجہ دی، جس وجہ سے انہیں اتنی کامیابی ملی تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے ہمیشہ ایک نئے اداکار کی طرح کام کیا۔ریما خان نے اعتراف کیا کہ خوش قسمتی سے ان کی پہلی فلم ہی کامیاب گئی، وہ راتوں رات سٹار بن گئیں اور اس وقت ان کی عمر 15 یا 16 سال تھی، لیکن سپر سٹار بننے کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی، کبھی بھی کامیابی کا بھوت دماغ پر سوار نہیں کیا اور ناکامی کے غم کو دل میں نہیں رکھا، خود سے اچھے اداکاروں کو دیکھ کر انہوں نے حسد نہیں کیا اور برے اداکاروں کو دیکھ کر انہوں نے غرور نہیں کیا۔

Back to top button