ہندو انتہا پسندوں کو للکارنے والی مسکان پر انعامات کی بارش

ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ کی جانب سے حجاب پہننے کی وجہ سے ہراساں کیے جانے پر ڈرنے کی بجائے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرنے والی مسلم لڑکی مسکان پر بھارت کے مسلمانوں نے نوٹوں کی بارش کر دی یے۔ برقع کے ساتھ کالج میں میں داخل ہوکر انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگانے والی مسکان کو متعدد سیاسی جماعتوں، حکومتوں اور شوبز شخصیات کی جانب سے نقد انعام دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مسکان خان نے 8 فروری کو بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر علاقے منڈیا میں حجاب کے ساتھ کالج آنے پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنان کی جانب سے ہراساں کرنے کے وقت ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے تھے۔
ہندو انتہا پسند لڑکوں کے ہجوم نے مسکان خان کو گھیرے میں لے کر انہیں ہراساں کیا اور ان کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے تھے۔ لڑکوں کے ہجوم کا بہادر لڑکی نے دلیری کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کے ’جے شری رام‘ کے نعروں کے جواب میں اسلامی نعرے لگائے تھے۔
حکومت نےپٹرول بم گرا دیا ، پٹرول 12 روپے 3 پیسے مزید مہنگا
انکی بہادری کے بعد جمعیت علماء ہند نے انہیں پانچ لاکھ بھارتی روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ ایک مسلم رکن اسمبلی نے ان کے گھر جاکر انہیں آئی فون اور اسمارٹ واچ کا تحفہ بھی دیا تھا۔ اب سوشل میڈیا پر دعویے کیے جا رہے ہیں کہ مسکان کو ہندو انتہاپسندوں کے سامنے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگانے پر اسلامی ملک ترکی کی حکومت سمیت بولی وڈ ہیروز نے بھی خطیر رقم تحفے میں دی۔
پاکستان سمیت جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینلز پر یہ دعوے کیے گئے ہیں کہ مسکان خان کو ترکی کی حکومت نے دو کروڑ روپے کا انعام دیا۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ مسکان کو بولی وڈ اداکار سلمان خان اور عامر خان نے بھی 5 کروڑ روپے کی خطیر رقم تحفے میں دی۔
