مقتول ٹک ٹاکر قندیل بلوچ کو انصاف کیوں نہ مل سکا؟

پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث اس کے بھائی کی بریت کے فیصلے نے نظام انصاف پر ایک مرتبہ پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین پوچھتے ہیں کہ اگر اسی طرح قاتلوں کو معافی ملتی رہی تو غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ کیسے رکے گا؟

یاد رہے کہ غیرت کے نام پر بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی قندیل کو انصاف دلوانے کے لئے ریاست اور حکومت کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کئے گئے تھے تاہم چھ سال بعد قاتلوں کی بریت نے تمام حکومتی دعوؤں کا پول کھول کر رکھ دیا۔ ناقدین کا کہنا ہےکہ ریاست خود اس کیس کی پیروی کر رہی تھی لیکن پھر بھی غیرت کے نام پر قتل کرنے والا ایک اور سفاک شخص بچ نکلا؟ یوں لگتا ہے جیسے قندیل کو انصاف دے کر چھین لیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر خود قتل کا اعتراف کرنے والا قندیل بلوچ کا بھائی بچ نکلا ہے تو اسلام آباد کی نور مقدم کے قتل میں ریاست کیسے انصاف دلائے گی؟

ناقدین کا کہنا یے کہ ریاست نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ انصاف فراہم نہیں کر سکی اور نہ ہی غیرت کے نام پر ہونے والے قتل روک پائے گی۔ یاد رہے کہ ملتان کے تھانہ مظفر آباد میں درج مقدمے کے مطابق 15جولائی 2016 کی رات کو سوتے ہوئے ملزم وسیم نے اپنی بہن فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ کو تیز دھار چھری سے قتل کر دیا تھا۔ 14 فروری 2022 کو لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم وسیم کو راضی نامے اور گواہوں کے منحرف ہونے پر بری کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ ملتان میں غیرت کے نام پر قتل کی گئی قندیل بلوچ کے مقدمے میں 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے مرکزی ملزم اور قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ مفتی عبدالقوی سمیت دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا گیا تھا جس کے بعد ملزم نے عدالت میں سزا منسوخی کی اپیل دائر کر رکھی تھی۔

صدارتی نظام کی باتیں آئین کو منہدم کرنے کے مترادف ہیں

وسیم کے وکیل سردار محبوب کا کہنا ہے کہ قندیل بلوچ کی والدہ نے ہائی کورٹ ملتان بینچ میں راضی نامے کا بیان حلفی جمع کروایا تھا جبکہ اس سے قبل سیشن عدالت نے راضی نامہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدعی اور مقتولہ قندیل کے والد وفات پا چکے ہیں جبکہ مقدمے کے گواہان بھی ٹرائل کورٹ میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے۔

سوشل میڈیا سٹار اور ماڈل قندیل بلوچ کی 2016 میں مختلف سیلفیاں اور ویڈیوز معروف عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے رکن مفتی عبدالقوی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو ان کو کافی شہرت ملی، تاہم مذہبی حلقوں میں اس معاملے پر مفتی عبد القوی کو کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کئی علما نے ان کی رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

بعد میں پولیس نے قندیل بلوچ کے ساتھ لی گئی مفتی عبدالقوی کی سیلفیوں، ویڈیوز اور موبائل پر رابطوں کے باعث انہیں بھی مقدمہ میں شامل تفتیش کیا تھا اور قتل میں ان کے بھی ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں انہیں بے قصور قرار دے دیا گیا تھا۔

قندیل بلوچ قتل کے مرکزی ملزم کی بریت کے حالیہ فیصلے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے سچ یہ ہے کہ بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو معاف کرنا ہمیشہ آسان رہا ہے۔ ’خود ساختہ ’غیرت‘ کو اس حقیقت سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی کہ ان کا بیٹا قاتل ہے لیکن اس سے ان کی بیٹی کے منتخب کردہ پیشے کو ضرور نقصان پہنچا ہے، قندیل کی موت اس پرورش اور ذہنیت کی ناکامی کا نتیجہ تھی۔ یہ فیصلہ اسی ناکامی کی کڑی ہے۔

Back to top button