گجرات کے چوہدری کیا لے کر حکومت چھوڑیں گے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہاتھ ملانے کے عوض جب تک گجرات کے سیانے چوہدریوں کو کوئی تگڑی پیشکش نہیں کی جاتی وہ کپتان حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ لہذا بنیادی سوال یہنیے کہ کہ عمران خان سے تعلق ختم کرنے کے عوض آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کو ’’انعام‘‘ کی صورت میں کیا کچھ پیش کرنے کو آمادہ ہیں۔جب تک اس کا تعین نہیں ہو جاتا، مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف کا رشتہ برقراررہے گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے لئے حوصلہ افزاء خبر یہ ہے کہ عمران حکومت کی بابت چل چلائو کی سرگرشیوں کے موسم میں جب شہباز شریف چودھری شجاعت حسین سے رنجشیں بھلانے گئے تو انہیں تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں کوئی واضح پیغام نہیں ملا۔ شہباز سے پہلے آصف زرداری نے بھی چودھریوں کے ہاں حاضری دی تھی۔ مولانا فضل الرحمن بھی ان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

لیکن گجرات کے چودھری فی الوقت عمران خان کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آرہے۔نصرت جاوید کے بقول چودھریوں کے ایک دیرینہ وفادار کامل علی آغا نے اگر مگر کے بغیر ایک ٹی وی انٹرویو میں کھل کر بیان کردیا کہ وہ عمران حکومت نہیں ’’ریاست‘‘ کے ساتھ ہیں۔ تاثر ان کی گفتگو سے یہ ملا کہ ’’ریاست‘‘ فی الحال عمران حکومت کی سرپرستی ترک کرنے کو تیار نہیں۔

کامل علی آغا کی گفتگو سنی تو یاد آیا کہ 2018ء کے انتخاب سے تقریباََ چھ ماہ قبل مجھے چکوال کے چند دوستوں کی بدولت خبر ملی کہ تحریک انصاف اور چودھریوں کی مسلم لیگ (قاف) کے مابین یہ طے ہوگیا ہے کہ تلہ گنگ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر عمران خان کسی امیدوار کو نامزد نہیں کریں گے۔ اس ’’خبر‘‘ کا تب تک کسی اخبار یا ٹی وی چینل میں سرسری تذکرہ بھی نہیں ہورہا تھا۔ دونوں فریقین نے اپنے مابین طے ہوئے بندوبست کا انتخابی عمل شروع ہونے تک بھی اعلان نہیں کیا۔ انتخابی نتائج آجانے کے بعد ہی معاملات کھل کر ہمارے سامنے آئے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی انتہائی تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے گھر کے دروازے کھلے رکھتے ہیں اور سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے ہر ممکن اجتناب برتتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی دوسری حکومت کے دوران ان دونوں نے ڈٹ کر نواز شریف کا ساتھ دیا تھا۔ شہباز پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔ مگر جیل میں چند دن گزارنے کے بعد علاج کروانے بیرون ملک چلے گئے۔

مقتول ٹک ٹاکر قندیل بلوچ کو انصاف کیوں نہ مل سکا؟

ان کی عدم موجودگی میں چودھری پرویز الٰہی نے وٹو حکومت کو مسلسل گھیرے میں رکھا۔اپنی استقامت اور ثابت قدمی کی بدولت وہ خود کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا یک و نتہا امیدوار تصور کرنا شروع ہوگئے۔ 1997ء کے بعد مگر جب نواز شریف ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے منصب پر لوٹے تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ شہباز شریف کے سپرد کردی گئی۔

وفاق میں چودھری شجاعت حسین کو وزیر داخلہ بنایا گیا۔ اس وزارت کا ’’ڈنڈا‘‘ مگر احتساب کے لئے نامزد ہوئے سیف الرحمن کے ہاتھ میں تھمادیا گیا۔ چودھری صاحب موصوف کی پھرتیوں سے اکثر بجھے بجھے رہتے۔ بالآخر اکتوبر 1999 خا واقعہ ہو گیا جس کے بعد گجرات کے چودھریوں نے نہایت مہارت سے گیم لگائی۔

مسلم لیگ (ق) کی سربراہی میاں اظہر کے بجائے چودھری شجاعت کے سپرد ہوئی اور چودھری پرویز الٰہی پانچ برس تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان دنوں وہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں۔ وفاق میں ان کی جماعت کو دو وزارتیں میسر ہیں۔ پرویز الٰہی کی مہارت سے پنجاب اسمبلی وہ واحد اسمبلی تھی جہاں گزشتہ برس کے مارچ میں سینٹ کی خالی ہوئی نشستوں کے لئے انتخابی عمل کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔مسلم لیگ (نون) نے ایک نشست کے لئے پرویز رشید کو بھی نامزد کررکھا تھا۔

انکے بارے میں یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ وہ تخریبی مشوروں سے نواز شریف اور ان کی دختر کو گمراہ رکھتے ہیں۔انہیں انتخاب میں حصہ لینے سے نااہل ٹھہرانے کی گیم کھیلی گئی اور وہ فارغ ہوگئے۔ اسکے بعد پنجاب اسمبلی میں موجود ہر جماعت اپنے جثے کے مطابق حصہ لینے کو یک دم تیار ہوگئی۔

اس کے لئے مذاکرات کو ’’کامیاب‘‘ کرواتے ہوئے پرویز الٰہی نے اپنے وفادار کامل علی آغا کو بھی سینٹ کے لئے منتخب کروالیا۔ لہذا اب سوال اٹھتا ہے کہ عمران خان سے تعلق ختم کرنے کے عوض آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کو ’’انعام‘‘ کی صورت کیا فراہم کرنے کو آمادہ ہیں۔جب تک اس کا تعین نہیں ہوجاتا مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف کے مابین موجودہ تعلق برقراررہے گا۔

Back to top button