رنگ روڈ منصوبہ: عمران کے ساتھیوں نے 30 ارب کا نقصان کیا

راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تازہ ترین تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں نے مالی فائدے اٹھانے کی خاطر اصل منصوبے میں ردوبدل کیا جس کی منظوری تب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے دی جس سے قومی خزانے کو 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ عمران خان کے دور حکومت میں سامنے آنے والے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سابق کمشنر سید گلزار حسین شاہ کی تیار کردہ انکوائری رپورٹ بدنیتی پر مبنی تھی۔ نئی تحقیقات گریڈ 22 کے آفیسر ڈی جی سول سروس اکیڈمی عمر رسول نے کیں، جنہیں خود سابق وزیر اعظم عمران خان نے گریڈ 22 میں ترقی دی تھی۔
آسمانی دیوتا بن جانے والے عمران کو زمین پر کیسے اتارا گیا؟
نئی تیار کردہ 67 صفحات پر مبنی انکوائری رپورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 30 گواہوں کو سنا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ رنگ روڈ منصوبے کا اصل ڈیزائن تبدیل کرنے میں عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا اثر ورسوخ شامل رہا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے عمران کے ساتھیوں کو خوش کرنے کے لئے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی الائنمنٹ میں ردوبدل کی منظوری دی جس سے قومی خزانے کو 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بطور وزیر اعظم عمران خان نے گریڈ 22 کے آفیسر گلزار حسین شاہ اور محمد علی شہزادہ کو اس سکینڈل کی تحقیقات سونپی تھیں۔ انکی تحقیقات کو تب کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف نے غلط قرار دیا تھا۔ عمران دور کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف نے دوبارہ تحقیقات کی تجویز دی تھی۔ دوبارہ تحقیقات کے بعد جاری کردہ رپورٹ کے مطابق عمران دور میں سید گلزار حسین شاہ کی تحقیقات کے دوران سابق کمشنر محمد محمود کو سنے بغیر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق محمود کے خلاف کوئی گواہ بھی سامنے نہیں لایا گیا تھا لیکن انہیں قصوروار قرار دے دیا گیا تھا۔ سابق کمشنر راولپنڈی سید گلزار حسین شاہ نے بدنیتی کی بنیاد پر خود سے انکوائری کے ٹی او آر بنائے اور خود ہی تحقیقات کیں تاکہ مرضی کی فائنڈنگز دے سکیں۔ عمر رسول کی زیر قیادت دوبارہ سے کی گئی تحقیقات کے دوران سابق چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق بھی پیش ہوئے۔ سابق چیف سیکرٹری نے بتایا کہ ان پر دباؤ تھا اس لیے انہوں نے گلزار حسین شاہ کی تیار کردہ رپورٹ پر دستحط کیے تھے۔
عمر رسول کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُس وقت کے سابق کمشنر محمد محمود پر کوئی چارج فریم نہیں ہوتا۔ نئی تحقیقاتی رپورٹ میں سید گلزار شاہ کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے جب کہ سابق چیف سیکرٹری جواد رفیق کے کردار کو بھی منفی قرار دیا گیا ہے۔ عمر رسول نے رنگ روڈ منصوبے کو ایکنک کے غیر جانب دار بورڈ کے سامنے رکھنے کی سفارش بھی کی۔ یاد رہے کہ رنگ روڈ انکوائری میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کی آبائی زمینوں کا ذکر بھی تھا، لیکن نئی رپورٹ کی تیاری میں انہوں نے خود کو لاتعلق رکھا ہے۔
تحقیقات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے نئی رپورٹ کی روشنی میں کیپٹن ریٹائرڈ محمود کو الزامات سے بری کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کے خلاف الزامات کی جانچ کے لیے 1882 تک کا ریکارڈ دیکھا گیا۔ تحقیقات میں پتا چلا کہ رنگ روڈ سے منسلک علاقے میں ڈاکٹر توقیر شاہ کی آبائی زمین موجود ہے اور انہوں نے یہ منصوبہ شروع ہونے کے بعد وہاں نہ تو کوئی زمین خریدی اور نہ ہی بیچی۔
عمران خان دور میں تحقیقات کرنے والے گریڈ 21 کے سید گلزار حسین شاہ اور سابق چیف سیکرٹری جواد رفیق کے خلاف کارروائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں افسران کے بارے اسٹیبلشمنٹ کو پوچھا ہے کہ ان افسران کے خلاف کیا ایکشن ہونا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رنگ روڈ کو انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے اور اس کے مستقبل کا فوری فیصلہ کرنے کے لیے پنجاب حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عمر رسول کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رنگ روڈ سکینڈل میں ملوث کرداروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
