مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، قطر اور چین کا مذاکرات کا مطالبہ

ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قطر اور چین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے اور سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
قطر نے ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر کیے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے کو ایسے بلاجواز حملوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جائے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت پیش رفت کو آگے بڑھایا جائے۔
قطر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کے باعث اس کا حالیہ بیان موجودہ صورتحال میں خاص اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی امریکا کی جانب سے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کو دوبارہ بھڑکانا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیاں بنیادی مسائل کا حل نہیں، اس لیے تمام متعلقہ ممالک کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے چاہییں۔
چینی حکومت نے ایران اور امریکا دونوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔
ایرانی سپریم لیڈر کی نجف میں روزہ حضرت علیؓ پر نمازِ جنازہ ادا
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق قطر اور چین کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی برادری مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔
