”پاپارازی“ سیف اور کرینہ کے بیڈ روم میں کیسے گھس گئے؟

بالی ووڈ ایکٹر اور نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے سیف علی خان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ ایک عام سی کہانی خاص بن گئی۔۔دراصل بات صرف اتنی تھی کہ پاپارازی سیف علی خان اور کرینہ کپور کا پیچھا کرتے ہوئے رات دو بجے ان کی بلڈنگ میں گھس آئے جسے سیف نے اپنی پرائیویسی میں انتہائی مداخلت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اداکار بھی انسان ہیں، کیا ان کی ذاتی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی؟ ٹھیک ہے جب ہم گھر سے باہر نکلتے ہیں تو آپ ضرور پیچھا کریں، تصویریں بنائیں لیکن گھر کے اندر تو نہ گھسیں۔ سیف اپنی سپر سٹار ”بیبو“ کرینہ کپور کے ساتھ ملائیکہ اروڑا کی والدہ جوائس اروڑا کی سالگرہ سے واپس آ رہے تھے کہ پاپارازی نے انھیں گھیر لیا اور نہ صرف ان کی بلڈنگ میں داخل ہوئے بلکہ لفٹ تک ان کا پیچھا کیا جس پر سیف نے کہا ”ایک کام کریئے ہمارے بیڈ روم میں آ جایئے۔۔ سیف کا یہ کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کہنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سیف نے بلڈنگ کے سیکورٹی گارڈ کو نوکری سے ہٹا دیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سیف اور کرینہ  پاپارازیز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے والے ہیں۔ دوسری طرف سیف علی خان نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا نہ تو انھوں نے سیکورٹی گارڈ کو نوکری سے ہٹایا ہے اور نہ ہی وہ لیگل ایکشن لینے کا سوچ رہے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ وہ رات دو بجے ہماری بلڈنگ میں گھستے ہیں،  بیس کے قریب کیمرے اور لائٹس ہم پر تان لیتے ہیں، کیا ہماری کوئی پرائیویٹ لائف نہیں؟ سیف نے کہا ہم پاپارازی کے ساتھ ہمیشہ تعاون کرتے ہیں لیکن گھر اور گیٹ سے باہر، کیونکہ ہر کام کی ایک حد ہوتی ہے۔۔یہ تو بچوں کو بھی سکون سے نہیں رہنے دیتے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کرینہ اور سیف کا بڑا بیٹا تیمور علی خان انڈین میڈیا کا فیورٹ ہے، اس کے پل پل کی کوریج سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے لیکن گذشتہ دنوں پاپارازی نے اس کے سکول میں غیر نصابی سرگرمیوں کے دوران چند تصاویر بنائیں جس پر سیف برہم ہوئے کہ سکول کے اندر تو نہ گھسیں۔۔

یہ پاپارازی آخر ہیں کون جنھوں نے انڈین ہی نہیں،  دنیا بھر کی سلیبریٹیز کا جینا دوبھر کر رکھا ہے؟ حتیٰ کہ برطانیہ کے موجودہ کنگ چارلس کی انتہائی حسین پرنسس ڈیانا کی حادثاتی موت کا ذمہ دار بھی پاپارازی ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔ پاپارازی کی اصطلاح  دراصل فری لانس فوٹو گرافرز اور کیمرہ مینوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جو ہائی پروفائل لوگوں کی موومنٹ پر نظر رکھتے ہیں۔ ریسٹورنٹس، کلب، ائرپورٹس، شاپنگ مال، پارٹیز، پرسنل گیدرنگز، وہ سلیبریٹیز کی بو سونگھتے ہوئے ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کے ملنے کا امکان ہو اور اس کے لئے انھیں کئی کئی گھنٹے بلکہ بعض اوقات تو کئی کئی دن انتظار  بھی کرنا پڑتا ہے۔ میڈیا ہاؤسز بھی لوگوں  میں سنسنی پھیلانے کے لئے ان کی تصاویر اور ویڈیوز کی منہ مانگی قیمت ادا کرتے ہیں۔

سندھ بھر میں کل اسکول و کالجز میں چھٹی کا اعلان

Back to top button