جسٹس ثاقب نثار جسٹس منیر سے بھی مکروہ جج کیوں کہلائے؟

پاکستانی عدالتی تاریخ میں نظریہ ضرورت ایجاد کر کے فوجی آمروں کے غیر آئینی اقتدار کا راستہ صاف کرنے والے جسٹس منیر کے مقابلے میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے سیاہ کارناموں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ موصوف کو بلا شرکت غیرے پاکستان کا بدنام ترین جج قرار دیا جا سکتا ہے، بطور چیف جسٹس پاکستان بابا رحمتے نے انصاف کرنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا اور اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے معاملات میں بلاوجہ ٹانگ اڑا کر ہر کام کو خراب کیا۔

اگرچہ 17 جنوری 2019 کی شام سے ریٹائرمنٹ کے بعد عزت مآب چیف جسٹس ثاقب نثار، ویسے بھی عزت مآب جج نہیں رہے تھے مگر یہ بات تو انکے قریبی لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی اپنی حرکتوں کی وجہ سے پاکستانی عدالتی تاریخ میں اپنا نام سیاہ حروف میں رقم کروا لیا تھا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ تاریخ کے پنوں پر ان کا نام اپنے دور کے متنازعہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس منیر سے اوپر ہی لکھا جائے گا، ان کا اصرار ہے کہ ثاقب نثار نے جسٹس منیر سے کہیں بڑھ کر ملک کے وسیع تر مفاد کو سمجھا اور اس کے مطابق ایسے فیصلے بھی دیئے جن سے اسٹیبلشمنیٹ کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے میں مدد ملی۔ ثاقب نثار کو عدالتی تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے اس قدیم مفروضے کو غلط ثابت کر دیا کہ ”جج نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں“۔ دنیا شاہد ہے کہ کورٹ روم نمبر ون میں فیصلے نہیں بلکہ جج بولتے تھے۔

معروف لکھاری عدنان خان کاکڑ جسٹس ثاقب بارے ایک طنزیہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ جس طرح خلیفہ ہارون رشید اپنے وزیر جعفر کے ساتھ بھیس بدل کر رعایا کا حالات جاننے کے لیے رات کو شہر کا گشت کیا کرتے تھے، اسی چکر میں وہ کبھی کسی حسینہ کی محفل میں پہنچ جاتے تھے اور کبھی کسی سوداگر کی محفل میں۔ مگر چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ٹی وی ٹکرز کے ذریعے رعایا کے حالات سے باخبر رہنے اور ان پر سو موٹو لینے کی جو روایت ڈالی، اس فن کے امام جسٹس ثاقب نثار ٹھہرے جو کہ کورٹ نمبر ون میں کیسوں کی سماعت کے بعد ودالتی کارروائی کے ٹکرز بنا کر بذریعہ رجسٹرار ٹی وی چینلز کو بھجوایا کرتے تھے۔

عدالتی خدمات سے ہٹ کر شعبہ صحت کی بات کی جائے تو ثاقب نثار نے نہ صرف بڑے بڑے سرکاری ہسپتالوں پر چھاپے مارے، بلکہ لاہور کے نیشنل ہسپتال کے مالک کی تو ایسی ناک رگڑی کہ وہ اپنا بیرون ملک سے لایا ہوا تمام دھن واپس لے جانے پر تل گیا۔ یہی حال پنجاب کے واحد کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کے سربراہ کا ہوا جو باہر سے آئے تھے اور باہر جانے میں ہی عافیت پانے لگے، ورنہ وہ اندر ہو جاتے۔ ثاقب نثار نے عدالتوں میں زیرالتوا لاکھوں کیسز کے بارے سوچنے کی بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پانی کی کمی عوام کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے ہر شخص بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کتراتا ہے۔ اس لئے ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ بنا دیا تاکہ پانی کی کمی بھی پوری ہوجائے اور بجلی بھی پیدا ہو جائے۔

تاہم یہ اور بات کہ ڈیم فنڈ میں نو ارب روپے اکٹھے تو ہوئے لیکن ان کا آج دن تک کچھ پتہ نہیں چل سکا حالانکہ بابا رحمتے نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈیم کے پاس جھونپڑی ڈال کر بس جائیں گے اور اپنی نگرانی میں اسے بنوائیں گے۔ شاید مسئلہ یہ ہے کہ 9 ارب روپے تو اکٹھے ہو گئے لیکن باقی ساڑھے انیس کھرب روپے جوڑنا مشکل لگ رہا ہے لہٰذا ڈیم کی تعمیر اگلے سو برس میں ہوتی تو ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ نو ارب روپے ساڑھے 19 کھرب روپے کا عشر عشیر بھی نہیں بنتے۔

یاد رہے کہ ڈیم فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے ثاقب نثار نے باہر کے ممالک کا دورہ بھی کیا جو زیادہ بارآور ثابت نہ ہوا کیونکہ اس دوران انھوں نے پاکستانیوں کی جانب سے گالیاں پڑنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا لیکن یہ سب کرنے کے باوجود بطور چیف جسٹس اپنے اختتامی خطبات میں ثاقب نثار یہ صفائیاں پیش کرتے رہے کہ انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ ثاقب نثار نے اپنی اوچھی حرکتوں سے نہ صرف چیف جسٹس کے عہدے کی تقریم خراب کی بلکہ عدالتی تاریخ میں خود کو جسٹس منیر کی طرح امر کر لیا ہے۔

سندھ بلدیاتی الیکشن، پیپلزپارٹی 840 نشستوں کیساتھ سرفہرست

Back to top button