گرہن کے متعلق مختلف تہذیبوں کے دلچسپ تصورات

ہم اکثر چاند گرہن کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں لیکن مکمل سورج گرہن کا نظارہ کئی سالوں کے بعد ہی دیکھنے کو ملتا ہے، ایسا ہی نظارہ یورپی باشندوں نے کیا، امریکہ میں مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے لاکھوں افراد نے کئی ماہ تک تیاریاں کیں، کہیں قدیم امریکی باشندوں نے سورج گرہن سے متعلق اپنی روایات کو یاد کیا اور دعائیہ تقاریب منعقد کیں ہیں۔آج انسانوں کے پاس سورج گرہن اور چاند گرہن کے اسباب جاننے اور انہیں سمجھنے کے سائنسی شواہد اور ذرائع دستیاب ہیں جن کی وجہ سے گرہن کو توہمات اور تصورات کی بجائے اب اسے فلکیات کے ایک مظہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔چاند کا سورج کو جزوی یا مکمل طور پر ڈھانپ لینا ایسا منظر ہے جسے ہمیشہ سمجھنے کی کوشش کی گئی اور اس کے نتیجے میں کئی دلچسپ روایات نے جنم لیا جنہیں یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔’ سورج گرہن کے بارے میں پائے جانے والے تصورات کا قدیم ترین ریکارڈ چین میں محفوظ ہے۔ وہاں سورج گرہن سے متعلق چار ہزار قبل کی مختلف مقامی اور ثقافتی رسوم کا بھی پتا چلتا ہے۔ قدیم چین میں سورج گرہن کے بارے میں سب سے عام خیال یہ تھا کہ ایک آسمانی ڈریگن کے سورج کو نگلنے کی وجہ سے وہ آسمان سے غائب ہو جاتا ہے۔اس لیے سورج کو ڈریگن سے بچانے کے لیے لوگ بہت بڑے بڑے نقارے بجاتے اور اور شور مچاتے تھے۔سورج گرہن چوںکہ مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے اس لیے اس دوران ہونے والے نقاروں کا شور وغیرہ جاری رہتا تھا اور جیسے ہی سورج واپس اپنی اصل حالت میں آ جاتا تھا لوگ سمجھتے تھے کہ وہ ڈریگن کو بھگانے میں کامیاب رہے۔ہندو عقائد کے مطابق سورج گرہن کو منحوس تصور کیا جاتا ہے اور کئی لوگ اس سے قبل برت یا روزہ رکھتے ہیں اور سورج گرہن کے دوران کچھ کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں، ہندو اساطیر کے مطابق ’راہو‘ نامی راکھشس سورج کو نگل جاتا ہے جس کی وجہ سے سورج گرہن ہوتا ہے۔ امریکہ کے قدیم باشندوں میں نواجو نامی افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ان کے نزدیک سورج گرہن کے دوران نہ تو اس کی جانب دیکھنا چاہئے، نہ ہی اس دوران کھانا پینا یا سونا چاہئے اور نہ ہی کوئی اور جسمانی کام کرنا چاہئے۔ان کے نزدیک سورج گرہن ایک بڑا آسمانی واقعہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے دوران گھروں کے اندر رہتے ہوئے دعا کرنی چاہئے تاہم امریکہ کے قدیم باشندوں کی دیگر کمیونٹیز میں سورج گرہن کی الگ الگ روایات ہیں اور ان میں سے کئی میں اس دوران کھانے پینے یا کام کاج کی کوئی پابندیاں نہیں ہوتیں۔جنوبی امریکہ میں بسنے والے انکا باشندے ’انتی‘ نامی سورج دیوتا کی پرستش کرتے ہیں۔اسے ایک فیاض اور رحم دل دیوتا سمجھتا جاتا ہے تاہم انکا افراد سورج گرہن کو سورج دیوتا کے غضب اور ناراضی کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔اس لیے سورج گرہن کے دوران انکا افراد سورج دیوتا کو راضی کرنے کے لیے قربانی دیتے تھے۔قدیم مصری تہذیب میں علمِ نجوم کو مرکزی اہمیت حاصل تھی لیکن حیران کن طور پر اس میں سورج گرہن سے متعلق تصورات یا رسوم کے بہت زیادہ آثار نہیں ملتے، انسائیکلو پیڈیا آف بریٹینیکا کے مطابق لیکن علم نجوم کو اہمیت دینے کی وجہ سے قدیم مصری تہذیب میں سورج گرہن کو اہم قرار دیا جاتا تھا، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سورج گرہن کو کیوںکہ نحوست سے جوڑا جاتا تھا اس لیے ہو سکتا ہے کہ قدیم مصریوں نے ’رے‘ نامی سورج دیوتا کو راضی کرنے کے لیے گرہن سے متعلق اپنے تجربات وغیرہ کو ریکارڈ نہ کیا ہو۔

Back to top button