معروف ترین سرچ انجن بھی جلد آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس ہوگا

گوگل بھی بہت جلد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے نئے فیچرز اپنے سرچ انجن میں شامل کرنے جارہا ہے۔ سندر پچائی کا کہنا ہے کہ بات چیت کی مصنوعی ذہانت کے فیچرز سمیت دیگر پر کام جاری ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایلفا بیٹ اور گوگل کے چیف ایگزیکٹیو سندر پچائی نے کہا ہے کہ گوگل سرچ انجن میں ’بات چیت کی مصنوعی ذہانت‘ کے فیچرز شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گوگل کا سرچ انجن استعمال کرنے والے اب سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔ سندر پچائی کے مطابق گوگل مزید نئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سرچ پراڈکٹس کی ٹیسٹنگ بھی کررہا ہے، جن میں ایسے فیچرز بھی ہیں جو لوگوں کو سوالوں کے جواب سے متعلق مزید سوالات پوچھنے کی سہولت فراہم کریں گے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے آن لائن سرچ میں مزید بہتری آئے گی۔

مائیکروسافٹ نے اپنے سرچ انجن بِنگ کا اَپ گریڈِڈ ورژن جاری کیا تھا جس میں چیٹ جی پی ٹی کی صلاحیت ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ گزشتہ مہینے نئے سرچ انجن نے یومیہ 100 ملین سے زیادہ فعال صارفین کی مدد کی۔

گوگل طویل عرصے سے سرچ انجن ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم کمپنی ہے جو آن لائن معلومات تک رسائی کا تیز اور آسان طریقہ پیش کرتی ہے، فروری میں گوگل نے اپنا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کے نام سے جاری کیا تھا جو چیٹ جی پی ٹی جیسا ہے۔

بورنگ یوٹیوب ویڈیوز کا خلاصہ کرنے والی اے آئی ویب سائٹ وائرل

Back to top button