اسٹیٹ بینک ترمیمی بل سینیٹ سے منظور

سینیٹ میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری دیدی، حکومت دونوں بلز منظور کرانے میں کامیاب رہی، بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا، حق میں 43، مخالفت میں 42 ووٹ آئے۔

رات گئے حکومت نے اپنے اراکین کی تعداد کم ہونے کے باعث اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش کرنے کے حوالے سے گریزکا مظاہرہ کیا۔اجلاس میں حاضر ہونے کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین ایوان سے باہر چلے گئے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ حکومت بل پیش ہی نہ کرنے تو میں کیا کرسکتا ہوں، بل پیش کرنا میری ڈیوٹی نہیں، وزیر خزانہ ایوان میں آئیں، اس دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی، ساتھ ہی ایجنڈے کے مطابق بل پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ نے گنتی کرائی اور ایک ووٹ کی اکثریت سے بل کو منظور قرار دے دیا اور اجلاس پیر کے روز تک کے لیے ملتوی کردیا گیا، آئی ایم ایف بورڈ 28 جنوری کو ہونے والے اپنے اجلاس میں چھٹے جائزے کی تکمیل پر غور کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی درخواست پر چھٹا جائزہ مکمل کرنے کا عمل مؤخر کر دیا۔

تاہم اس سے قبل 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر نظرثانی کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ 12 جنوری کو ہونی تھی جسے پاکستان کی درخواست پر پیشگی اقدامات کے اطلاق کا وقت دینے کے لیے ری شیڈول کرکے 28 جنوری کیا گیا تھا۔

بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق کے بعد کراچی میں دھرنا ختم

متنازع ضمنی فنانس بل 2021 المعروف منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک ترمیمی بل دونوں کی منظوری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری مل جائے۔

اس سے قبل وزارت فنانس کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکومت کے پاس وقت نہیں سوائے اس کے کہ وہ بل کو ایوان بالا سے بلڈوز کرے، کیونکہ حکومت کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے جس کے باعث اس میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

Back to top button