سیندک منصوبے میں توسیع آئین و قانون کی خلاف ورزی قرار

بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے سیندک پراجیکٹ پر کام کرنے والی چینی کمپنی کے معاہدے میں 15 سال کی توسیع کو آئین، قانون اور 17وین ترمیم کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں قرارداد منظور کئے جانے کے باوجود وفاق کا سیندک پراجیکٹ پر عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر معاہدہ کرنا ناقابل قبول ہے اور اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں سیندک سے سونے اور تانبے کے ذخائر نکالنے کے لیے چینی کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا یا ’ایم سی سی‘ کے ساتھ چوتھی مدت کے لیے مزید 15 سالہ لیز کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ مسلم لیگ ن کے دور میں 2017 میں کیے گئے پانچ سالہ معاہدے کی مدت 31 اکتوبر 2022 کو ختم ہورہی تھی۔ نئے معاہدے کے تحت چینی کمپنی سیندک میں مزید 15 سال یعنی 2037 تک تین کانوں سے سونے اور تانبے کے ذخائر نکال سکے گی۔

واضح رہے کہ سیندک صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 700 کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع چاغی کے ایک قصبے کا نام ہے۔ ایرانی سرحد سے ملحقہ یہ علاقہ ٹیتھیان کی اس ارضیاتی پٹی میں شامل ہے جو دنیا میں سونے، چاندی اور تانبے جیسی قیمتی ترین معدنیات کے بیش بہا ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ سیندک میں مجموعی طور پر تین کانیں ہیں جنہیں جنوبی، شمالی اور مشرقی مائنز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گزشتہ 20 برسوں سے شمالی اور جنوبی کانوں سے ذخائر نکالے جارہے تھے اور دونوں کانوں میں اب ذخائر بہت کم رہ گئے ہیں۔

سیندک سے متعلق بلوچستان اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے چیئرمین بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثناء اللہ بلوچ نے معاہدے میں مزید 15 سال کی توسیع کو آئین، قانون اور بلوچستان ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2010 میں آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے معدنیات کو صوبوں کی ملکیت قرار دیاگیا مگر اس کے باوجود بلوچستان میں معدنی وسائل پر صوبے کا اختیار برائے نام ہے اور فیصلے وفاق کررہا ہے۔

اس ترمیم کے بعد بھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی وفاقی حکومتوں نے بالترتیب 2012 اور 2017 میں دو مرتبہ سیندک معاہدے میں غیر آئینی طور پر توسیع کی تھی۔ بقول ثناء اللہ بلوچ ایک طرف یہ آئین کی خلاف ورزی ہے جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومتوں اور بیوروکریسی کی غیر سنجیدگی کو بھی دکھاتا ہے۔

عمران مخالف تحریک عدم اعتماد 200 ووٹوں سے پاس ہوگی

قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری جان محمد بلیدی نے بھی سیندک کے معاہدے کو بلوچستان کے معاملات میں مداخلت اور اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بقول جان محمد موجودہ اقدام کو ماورائے آئین اقدام کہہ لیں بھی تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیندک معاہدے کے حوالے سے کوئی آئینی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ وفاق نے صوبے کے معاملے میں مداخلت کرکے معاہدہ کیا ہے۔ جان بلیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے ریکوڈک پر بھی سخت موقف اپنایا اور ہم وفاق کی سطح پر ہونے والے معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمارے دور میں 2013 میں ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کی حکومت تھی تو یہ معاہدہ ختم ہوچکا تھا۔ وفاق نے اسی طرح توسیع کے لیے کہا لیکن ہماری حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا، جس کی وجہ سے یہ معاہدہ نہیں ہوسکا۔ پھر لیگی وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے دور میں معاہدے میں توسیع کی گئی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے اس حوالے سے تنظیم کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں سیندک معاہدے کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اسکے علاوہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا۔

سیندک کے معاہدے کو ماہرین قانون بھی آئین اور اٹھارویں آئینی ترمیم سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ ممتاز قانون دان امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کے مطابق آئین کی شق نمبر 172 میں لکھا ہے کہ جو بھی وسائل زمین کے اندر ہیں وہ وفاق کے ہیں اور جو زمین کے اوپر ہیں وہ صوبوں کی ملکیت ہیں۔

اس کے علاوہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی حکومت یہ معاہدہ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کیا ہے، جس کا یہ مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد یہ صوبے کا اختیار ہے کہ وہ معاہدے کرے اور پرانے معاہدوں کی توسیع کرے۔ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

Back to top button