شاہ محمود قریشی نےعمران خان کی رہائی مہم میں شمولیت کی پیشکش مسترد کردی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے تین سابق پارٹی رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی رہائی مہم میں شمولیت کی مبینہ پیشکش مسترد کر دی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی لاہور کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں جمعرات کے روز تین سابق رہنماؤں نے ان کے کمرے میں جا کر ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ملاقات کے دوران انہیں ’عمران خان کی رہائی مہم‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، تاہم شاہ محمود قریشی نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق سابق رہنما فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور مولوی محمود اُس وقت اُن کے کمرے میں داخل ہوئے جب وہ اکیلے تھے۔
ان کے بقول، شاہ محمود قریشی ان غیر متوقع مہمانوں کو دیکھ کر حیران ہوئے اور فوراً ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار کو ہدایت دی کہ اُن کے وکیل کو اطلاع دی جائے۔ تاہم جب رانا مدثر واپس پہنچے تو تینوں رہنما جا چکے تھے۔ ملاقات تقریباً دس منٹ سے کچھ زیادہ جاری رہی، اور اس دوران کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔
یہ غیر اعلانیہ ملاقات اس وقت ہوئی جب مبینہ طور پر ایک رہنما کو قریشی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی اطلاع ملی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق رہنما یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ اسد عمر بھی عمران خان کی رہائی کے لیے اُن کی رابطہ مہم کے حامی ہیں، تاہم اسد عمر نے وضاحت کی کہ وہ اس گروپ کا حصہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تینوں رہنماؤں کو ہسپتال جانے سے روکا تھا کیونکہ اس سے پارٹی میں تناؤ بڑھنے اور قریشی خاندان کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
اسد عمر نے کہا کہ وہ ’ریلیز عمران خان‘ مہم سے منسلک نہیں ہیں اور انہیں اس کے آغاز کا علم صرف اخبارات کے ذریعے ہوا۔
انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ اگرچہ عمران خان اور دیگر قید رہنماؤں کی رہائی کی ہر کوشش قابلِ تحسین ہے، لیکن وہ اس مخصوص مہم کا حصہ نہیں۔
دوسری جانب، سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی یقینی بنانے، اور سیاسی قیدیوں کے ضمانت کے حق کو تسلیم کروانے کے لیے سرگرم ہیں۔
ان کے مطابق، مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں مذاکرات ممکن ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی درجہ حرارت اسی وقت کم ہوگا جب پی ٹی آئی ایک قدم پیچھے ہٹے اور حکومت ایک قدم آگے بڑھے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ اعجاز چوہدری سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی ملے ہیں اور سب سیاسی تناؤ کم کرنے پر متفق ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اُن کا گروپ مسلم لیگ (ن) کے سینئر وزیروں اور مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل نے فواد چوہدری کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعرات یا جمعہ کے روز کسی بھی سابق رہنما نے کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات نہیں کی۔
ان کے مطابق، جیل میں ٹرائل صبح ساڑھے دس بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہا، اس لیے ہسپتال جانے کی نیت مشکوک معلوم ہوتی ہے۔
وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ متحد ہیں اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں اور اپنے مقدمات قانونی راستے سے لڑ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی کو پتھری کے آپریشن کے لیے اگلے ہفتے تک ہسپتال میں رکھا جائے گا۔ ان کے ساتھ عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید بھی زیرِ علاج ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
وکیل نے بتایا کہ عدالتیں پچھلے چھ ہفتوں سے قریشی کو ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کر رہی تھیں لیکن انتظامیہ عمل درآمد نہیں کر رہی تھی۔ بالآخر دو میڈیکل رپورٹس کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی۔
ان کے مطابق، شاہ محمود قریشی کے مختلف لیب ٹیسٹ جاری ہیں اور اگلے ہفتے ان کا آپریشن متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی مناسب فزیوتھراپی کی سہولت میسر نہیں دی جا رہی۔
