شہباز شریف نے اپنی حکومت کے خاتمے کی تاریخ دے دی

طلسم ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ بالآخر وزیراعظم نے خود ہی اپنی حکومت کے خاتمے کی تاریخ دے دی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ موجودہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے 3 روز قبل 9 اگست کو ہی قومی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کی سمری صدر کو 9 اگست کو بھیج دیں گے، صدر کے دستخط نہ کرنے پر 48 گھنٹے بعد اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔وزیراعظم نے اتحادیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کل سے شروع ہو گی، 2سے 3 دنوں میں نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت مکمل کر لی جائے گی۔ کوشش ہو گی کہ ایسا نگراں سیٹ اپ لائیں جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔نگران سیٹ اپ سے متعلق اتحادیوں کے ساتھ ایک میٹنگ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی متوقع ہے، ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو بھی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر وزیراعظم سے طویل ملاقات کی۔
اس کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی اپنی مدت کی تکمیل سے قبل تحلیل ہو جائے گی، اس کا مطلب ہے کہ عام انتخابات اس کی تحلیل کے 90 روز کے اندر ہونے ہیں کیونکہ آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو انتخابات 60 روز میں کرائے جائیں گے لیکن اس کے قبل از وقت تحلیل ہونے کی صورت میں یہ مدت بڑھ کر 90 روز تک ہو جاتی ہے۔وزیراعظم ہاؤس میں حکمران اتحاد میں شامل رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسے مشکل وقت میں حکومت سنبھالی جب ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا تاہم 15ماہ میں تنقید کے باوجود موجودہ حکومت نے سیاست کی قربانی دے کرملک کو بھنور سے نکالا۔
شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کے دیرینہ دوست چین کے خلاف سابق وزیر اعظم ہاؤس سے وہ الزام تراشیاں کی گئیں کہ بیان نہیں کر سکتے۔وہ ملک جس نے جنگوں میں ساتھ دیا ہو، امن میں ساتھ دیا ہو، اقوام متحدہ میں ساتھ دیاہو، پاکستان کے احساس معاملات میں ہمارا ساتھ دیا ہواورپھر بھی ہمارے دوست ملک چین نے کبھی زبان پر شکوہ بھی نہیں لایا۔ اس دوست ملک کے خلاف ہمارے سابق وزیراعظم ہاؤس سے الزام تراشیاں کی گئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی نے خارجی محاذ پر وہ تباہی کی عمران نیازی نے کہ میں بیان نہیں کر سکتا، ہمارے دوست ملکوں نے خود بتایا کہ ہمارے ساتھ اس شخص نے یہ یہ کیا، عمران نیازی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم ایک دوست ملک کے بغیر کشمیر کا مسئلہ حل کر دیں گے۔یہ بات کوئی راز نہیں ہے؟ ملتان کا وہ کون شخص تھا جس نے کہا تھا کہ ہم ایک دوست ملک کے باوجود مسئلہ کشمیر حل کر لیں گے، ایک اور دوست ملک سے کہا گیا آپ اپنے ڈالر اپنے پاس رکھیں، ایسا کہنے والا کون تھا، میں اس ملک کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کر سکتا لیکن اتنا کہتا ہوں کہ یہ بھی ہمارا دوست ملک تھا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ہم سب نے اپنے دوست ممالک کو کس طرح راضی کیا یہ ہم ہی جانتے ہیں۔
عشائیے میں وزیراعظم نے اتحادی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں اتحادیوں کو آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مخلوط حکومت نے 15 ماہ کے دوران ٹیکس کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ کیا جبکہ اس دوران 13 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا۔وزیر اعظم شہباز نے دعویٰ کیا کہ پاور سیکٹر میں ریکوری 90 فیصد سے زائد رہی، تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گردشی قرضے میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران 18 فیصد یعنی 393 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں گزشتہ چار مہینوں کے دوران نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی اور گزشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی ایکسپورٹ کا مجموعی حجم 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا کہ مالی سال بائیس تئیس کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 45 کروڑ ڈالر رہی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے قیام سے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جامع پالیسیاں وضع کی
حکومت نے اسرائیل سے موبائل فون ہیکنگ ٹیکنالوجی خرید لی؟
گئیں۔
