شہباز نے سخت فیصلے نہیں کرنے تو پھر گھر چلے جائیں

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف نے معیشت سنبھالنے اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے سخت فیصلے نہیں کرنے تو پھر انکے حکومت سے چپکے بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں۔ وہ یا تو فیصلے کریں یا حکومت چھوڑ دیں اور گھر چلے جائیں کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومت مشکل فیصلے کئے بغیر معجزے کے انتظار میں بیٹھی رہے اور پاکستان خدا نخواستہ سری لنکا جیسے حالات سے دوچار ہو جائے۔ انکا کہنا ہے کہ جو سخت فیصلے کرنے ہیں اُن سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا، بے روزگاری بھی بڑھی گی، غریب کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی لیکن اگر سخت فیصلے نہ کئے گئے تو مہنگائی کا اتنا بڑا طوفان آئے گا کہ جو کسی سے سنبھالا نہیں جائے گا۔
انصار عباسی اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کی ہماری قوم کے مقابلے میں سری لنکا کے عوام بہت برداشت والے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں جو کچھ ہوا وہ دنیا نے دیکھا اور آج بھی وہاں عوام کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ ہمارے ہاں تو عام جلسے جلوسوں اور سیاسی احتجاجوں میں جلائوگھیرائوکر دیا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا ہے تو نجانے یہاں کیا کیا کچھ ہو جائے گا ، یاد رہے کہ پاکستان ایک نیوکلیئر ریاست ہے اور اگر یہاں بدامنی کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں تو دنیا ہم سے جو مطالبے کرسکتی ہے اُس کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ ابھی جو سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اُن سے ن لیگ کو سیاسی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے لیکن اگر ہم ڈیفالٹ کی طرف چلے گئے تو نقصان پاکستان کا ہو گا، عوام کا ہوگا اور ن لیگ کی سیاست کا تو بالکل ستیاناس ہو جائے گا۔ معیشت کے متعلق جو سخت فیصلے کرنے کا سوال ہے تو وہ یہ کہ پیٹرول اور ڈیزل تیس چالیس روپے فی لیٹر مہنگا ہوگا، جس سے سب کچھ مہنگا ہوجائے گا۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ مزید گرے گا جس کا مطلب ہے مزید مہنگائی۔ اس سے عوام خاص طور پر غریب اور مڈل کلاس کے حالات مزید خراب ہوں گے لیکن حکومت اگر اپنی گورننس کو بہتر کرے، معیشت کی بہتری اور اخراجات میں کمی لانے کیلئے ضروری اقدامات کرے تو حالات مہینوں میں ہی بدلنا شروع ہوجائیں گے۔
سینئر صحافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں پیسے والے لوگوں کی کمی نہیں لیکن ہم دنیا کے اُن چند بدقسمت ممالک میں شامل ہیں جہاں ٹیکس دینے والے بہت کم ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کاروباری لوگ، بڑے بڑے جاگیردار اور کروڑوں اربوں کمانے والے ٹیکس نہیں دیتے اور اگر دیتے ہیں تو بہت کم اور اس کیلئے اُنہوں نے پارلیمنٹ اور حکومتوں کے ذریعے قانونی رستے نکال رکھے ہیں۔ سیاست میں بڑے بڑے امیر لوگ اور ارب پتی بھی کروڑوں اربوں کماتے ہیں لیکن کم آمدنی ظاہر کرکے ٹیکس چوری کرتے ہیں اور جو آمدنی چھپائی جاتی ہے اُسے قانونی رستوں سے منی لانڈرنگ کے ذریعے وائٹ کرلیا جاتا ہے۔ غریب کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑ دیا جاتا ہے اور ان کا خون چوس کر اکٹھے کئے گئے پیسے کو اشرافیہ کی عیاشیوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امیر سے، تاجروں سے، بڑے بڑے زمینداروں سے ٹیکس لیں اور غریب پر خرچ کریں لیکن جب اس کیلئے کوئی کوشش کرتا ہے جیسا کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل نے ایک بار کیا تو پھر مریم نواز کا حکم آ جاتا ہے کہ تاجروں پر سے ٹیکس واپس لو۔ بھئی اگر تاجر ٹیکس نہیں دیں گے، بڑے بڑے کاروباریوں کیلئے ٹیکس چوری کرنے کیلئے منی لانڈرنگ کے رستے کھلے رہیں گے تو پھر غریب بھوک کی وجہ سے خودکشی پر کیوں مجبور نہ ہو گا تو کیا ہو گا۔؟
انصار عباسی کہتے ہیں کہ مشکل فیصلوں سے مستقبل میں جان چھڑانی ہے تو پھر اپنی گورننس کو ٹھیک کریں، بجلی و گیس کی چوری کو روکیں، جو بل نہ دے اُس کا کنکشن کاٹیں۔ لیکن اگر حکومت نااہل ہو گی، گیس بجلی کی چوری کو نہیں روک پائے گی، وصولیاں کرنے میں ناکام ہوگی تو ہمارے گردشی قرضوں میں اربوں کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس نااہلی کی وجہ سے حکومت عوام کیلئے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کا آسان فیصلہ کر دیتی ہے۔ یعنی امیر کی ٹیکس چوری اور حکمرانوں کی نااہلی کی سزا غریب عوام کو دی جاتی ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اب تو ہم گندم تک اپنی ضرورت کیلئے پیدا نہیں کر پا رہے۔ زرعی شعبہ پر ہی توجہ دی جاتی تو ہماری معیشت کا یہ حال نہ ہوتا لیکن اب تو حال یہ ہے کہ ہم سالانہ لاکھوں ایکڑ کی زرعی زمین ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے حوالے کرتے جا رہے ہیں۔ نجانے بیس پچیس سال بعد پاکستان کا کیا حال ہو گا؟ ساری دنیا میں شام کو بازار اور مارکٹیں بند ہوجاتی ہیں اور اس سے بجلی کی بہت بچت ہوتی ہے لیکن ہم بضد ہیں کہ بازار رات گئے تک کھلے ہی رہیں گے۔ اگر حکومت فیصلہ کرلے تو کوئی سنتا ہی نہیں اور یہ بھی حکومت کی نااہلی ہے۔
انصار عباسی کے مطابق سب سے افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کا نام لے لیں، وہ معیشت پر سیاست کرنے سے باز نہیں آتے یعنی ایک تو مل بیٹھ کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے پر تیار نہیں، اوپر سے اگر کچھ اچھا ہونے بھی لگے تو اُس پر سیاست کرکے اُسے ناکام بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ یہ کیسے لوگ ہیں
