آئی ایس آئی افسران کے قتل میں TTP اور القاعدہ ملوث نکلی

کالعدم جماعت تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کے لشکر خراساں نے خانیوال میں آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملتان ریجن نوید صادق اور ان کے ساتھی انسپکٹر ناصر بٹ کو بسم اللہ ہائی وے پر قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور اسے سکیورٹی فورسز مخالف کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ قتل کی ایف آئی آر کے مطابق ان دونوں افسران نے ضلع خانیوال میں پیروال کے قریب قومی شاہراہ پر ایک ہوٹل میں قاتل سے ملاقات کی تھی۔ ہوٹل میں چائے پینے کے بعد دونوں افسران پارکنگ ایریا میں اپنے کاروں کی جانب واپس جارہے تھے جب قاتل نے پیچھے سے دونوں افسران پر فائرنگ کر دی اور فرار ہوگیا، فائرنگ کرنے والے شخص نے اپنی شناخت عمر خان کے نام سے کرائی تھی جس کا تعلق کچہ کھو سے ہے۔ شوٹر دونوں افسران کو اس بہانے ملاقات کے لیے بلایا تھا کہ وہ انہیں دہشت گردوں کے ایک نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ معلومات دینا چاہتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شوٹر نے القاعدہ سے منسلک لشکر خراسان کے سربراہ اسداللہ کی ہدایت پر دونوں افسران کو قتل کیا۔
سی ٹی ڈی ملتان پولیس اسٹیشن نے مقتول افسران کے ڈرائیور کی مدعیت میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے سربراہ عمران محمود نے بتایا کہ قاتل کی شناخت ہو چکی ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس افسران پر حملے کی منصوبہ بندی اور قتل میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ٹی ٹی پی کے علاوہ القاعدہ سے منسلک گروپ لشکر خراسان دونوں نے باری باری اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ٹی ٹی پی کے خفیہ گروہ نے آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملتان نوید صادق اور ان کے ساتھی انسپکٹر ناصر بٹ کو پنجاب کے ضلع خانیوال کی بسم اللہ ہائی وے پر قتل کیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق سی ٹی ڈی نے دونوں افسران کے قتل کی تصدیق کی تھی۔ دوسری جانب سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ دونوں افسران کی ہوٹل میں قاتل سے ملاقات ہوئی جسکے ساتھ چائے پی کر وہ واپس جارہے تھے کہ اس نے پیچھے سے آ کر ہوٹل کی پارکنگ میں دونوں پر فائرنگ کر دی اور موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا، سی ٹی ڈی نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی ہے جس میں قاتل کو فائرنگ کے بعد موٹرسائیکل پر چادر اوڑھے ہوئے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک سینئر افسر نے بتایا کہ انٹیلی جنس افسران دہشت گردی سے متعلق مقدمات پر کام کررہے تھے اور کالعدم القاعدہ اور داعش گروپ کے ذرائع سے ملاقات کر رہے تھے، انکے مطابق یہ واقعہ انٹیلی جنس ایجنسی اور ان کے ذرائع کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہو نے کے باعث پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ افسران ملک کے اندر موجود دہشت گرد نیٹ ورک میں اپنے ذرائع بناتے ہوئے ان کارروائیوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کررہے تھے تا کہ مستقبل میں ہونے والی ممکنہ دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ یاد رہے کہ نوید صادق کی نماز جنازہ میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
اس سانحے کے بعد ملک بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، افغانستان میں اپنے خفیہ ٹھکانوں سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے دہشت گردوں کا پہلا نشانہ تو خیبر پختونخوا ہے جہاں ان کے سہولت کار بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد بلوچستان ان کا آسان ٹارگٹ ہے۔ لیکن عمران خان حکومت سے صلح کے ناکام مذاکرات کے بعد سندھ اور پنجاب بھی ان کے نشانے پر آ چکے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناللہ نے خانیوال کے سانحہ کی رپورٹ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس پنجاب سے طلب کر لی ہے اور مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے جدید تھرمل ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جو غالباً افغانستان سے جاتے وقت امریکی اور نیٹو فوجی پیچھے چھوڑ گئے تھے اور دہشت گرووں کے ہاتھ لگ گئے۔ اگرچہ پاک فوج اور دیگر ادارے اس صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں مگر انہیں اور خاص طور پر پولیس کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
