شہروز، سائرہ کی فلم ’’ بے بیلیشیئس‘‘ کا مطلب کیا ہے؟

اداکار شہروز سبزواری اور اداکارہ سائرہ یوسف کی نئی فلم ’’ بے بیلیشیئس‘‘ کا نام اکثر لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر یہ نام ہے کیا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے، ’’بے بیلیشیئس‘‘ ایسا لفظ ہے، جیسے آپ پیار میں کسی کو پکارتے ہیں۔
سرسوں کے کھیت اور ان میں رومانس کرتا ایک جوڑا، یہ منظر تصور کرتے ہی جانے کتنی فلموں کے نام آپ کے ذہن میں آ جاتے ہوں گے لیکن یہاں ذکر ہے اس عید پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’بے بیلیشیئس‘ کا۔
یہ نام ’بے بیلیشیئس‘ آخر ہے کیا، اس بارے میں فلم کے ہیرو شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ ’یہ ایسا ہی ایک لفظ ہے جیسے آپ پیار میں کسی کو پکارتے ہیں۔اس فلم میں شہروز کی ’بے بیلیشیئس‘ کا کردار ان کی سابقہ اہلیہ اور اداکارہ سائرہ یوسف ادا کر رہی ہیں۔یہ فلم اس وقت شروع ہوئی تھی جب شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک تھے لیکن اس کی تکیمل اب 12 سال بعد ہوئی ہے۔
سائرہ یوسف کا بی بی سی کی ترہب اضعر کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ دراصل ’یہ پہلے ایک ٹیلی فلم کا آئیڈیا تھا، جسے بعد میں فلم میں تبدیل کیا گیا اور اس کی تیاری میں 12 سال لگے۔ اس کی شوٹنگ میں 4 سال لگے، اس کی تکمیل میں تاخیر کی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ کووڈ کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے کی پابندی بھی تھی۔
شہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس فلم پر ایک عرصہ لیا ہے، اس لیے اس کے ساتھ ہماری وابستگی کہیں زیادہ ہے، سائرہ اور شہروز کی ذاتی زندگی میں رومانس زیادہ دیر نہیں رکا اور چند برس کی رفاقت کے بعد دونوں الگ ہوگئے۔اب فلم کی پروموشنز کے دوران انھیں ایک ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ کر لوگ حیران ہیں اور اپنی اس حیرانی کا اظہار وہ سوشل میڈیا پر بھی کر چکے ہیں جو کسی حد تک ناگوار تاثرات پر بھی مبنی ہے۔
اس حوالے سے سائرہ یوسف کا کہنا تھا کہ ’فلم جب شوٹ ہوئی ہم شادی کے رشتے میں تھے تاہم اب ریلیز کے موقع پر الگ ہیں تو لوگ سوشل میڈیا پر ناگوار کمنٹس کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا ’لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں اس لیے میں نے کمنٹس بند کر دییے ہیں۔ان کا شکوہ تھا کہ عوام پروفیشنل اور ذاتی چیز میں فرق نہیں کر سکتے۔
سائر یوسف نے طلاق کے باوجود شہروز کے ساتھ کام کرنے اور خوشگوار تعلقات کے بارے میں کہا کہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہی نہیں۔یہ ہمارے کلچر کا حصہ نہیں، یہاں جب لوگ الگ ہوتے ہیں تو راہیں بالکل الگ ہو جاتی ہیں۔ ‘ہم نے اپنے بچی کی پرورش کے لیے رابطے میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہم بچی کی خاطر رابطے میں تھے۔
اس حوالے سے شہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے خاندان میں لوگوں کو الگ ہوتے دیکھا لیکن انھیں بچوں کی خاطر ساتھ بیٹھتے اور کھانا کھاتے بھی دیکھا۔
سائرہ یوسف کا کا کہنا تھا کہ ’اس فلم میں کئی چھوٹے چھوٹے پیغامات ہیں۔ کئی باتیں ایسی ہی جو آپ کو سوال پوچھے پر مجبور کرتی ہیں لیکن درجنوں پاکستانی اور انڈین فلموں کا روایتی رومانوی منظر جس میں سرسوں کے کھیت میں ایک جوڑا اظہار محبت کرتا نظر آتا ہے اسے اپنی فلم کا حصہ کیوں بنایا گیا؟
اس بارے میں اداکار شہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ ’پرانی فلموں سے بھی کچھ تاثر لیے گئے ہیں جن میں رومانوی منظر اور سرسوں کے کھیتوں میں تعلق ہوتا ہے۔فلم کے آغاز پر وزن زیادہ لیکن وقت کے ساتھ کم ہو گیا۔
شہروز سبزواری کا کہنا تھی اس فلم کی مکمل عکس بندی میں طوالت کی وجہ سے انھیں بار بار فلم کی لک بنانی پڑی، میرے ڈراموں کے لیے داڑھی کی ضرورت ہوتی تھی لیکن فلم کے لیے شیو کرنی پڑتی تھی اس کی وجہ سے کچھ مسائل ہوتے۔
اس انٹرویو کے دوران شہروز کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی سینیما میں اچھی فلمیں بنیں۔یہاں صرف وہی مواد چلے گا جس میں کانٹینٹ ہوگا، لوگ نیٹ فلیکس اور یوٹیوب پر مواد دیکھتے ہیں۔ آپ لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ ‘
شہروز اور سائرہ کا کہنا تھا کہ اس فلم میں صرف ان دونوں کی نہیں بلکہ ان کے دوستوں کی لو سٹوریز بھی ہیں، اس فلم میں مختلف طرح کا پیار ملے گا، دوستی کے اتار چڑھاؤ۔ اس میں کوئی ایک طرح کی لو سٹوری نہیں۔ اس میں سب کرداروں کی الگ کہانی ہے۔
