شیریں مزاری کی بیٹی نے ماں کو سیاست سے کیسے نکالا؟

تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی جانب سے پارٹی اور سیاست چھوڑنے کے فیصلے پر صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے رد عمل دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا اور ان حالات کی مذمت کی جن سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انہیں گزرنا پڑا۔ تاہم تمام تر قیاس آرائیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے حلقوں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور پھیلائے جانے والے تاثر کے برعکس شیریں مزاری نے درحقیقت اپنی قانون داں صاحبزادی ایمان زینب مزاری سے شکست تسلیم کی ہے گوکہ شیریں مزاری خود بھی بار بار گرفتاری کے باوجود عمران خان کی جانب سے لاتعلقی کے طرزعمل اور مایوسی کی حد تک کبیدہ خاطر تھیں لیکن ان کے پی ٹی آئی اور سیاست چھوڑنے کے اس بڑے فیصلے کی پیچھے اپنی صاحبزادی ایمان مزاری کے آنسو ہی تھے جن کے سامنے وہ پسپا ہوگئیں اور نہ صرف عمران خان، تحریک انصاف بلکہ انہوں نے سیاست سے ہی لاتعلق ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
شیریں مزاری کا پاکستان تحریک انصاف، عمران خان اور سیاست چھوڑنے کا اعلان ابتدائی لمحات میں تو عمران خان نے بھی ایک دھچکے کے طور پر سنا اور محسوس کیا ہوگا کیونکہ شیریں مزاری سے ان کی سیاسی وابستگی دیرینہ ہونے کے ساتھ ساتھ اہم امور پر ہم آہنگی کے حوالے سے بھی تھی اور چند دنوں سے عمران خان شیریں مزاری کی بار بار گرفتاری اور ’’ثابت قدمی‘‘ کو ذاتی گفتگو میں ایک مثال کے طور پر ساتھیوں کے سامنے پیش کر رہے تھے لیکن شیریں مزاری کے اس فیصلے نے عمران خان کو انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی تحریک انصاف کو زبردست نقصان اس لئے بھی پہنچایا ہے کہ عمران خان کے باقی ماندہ وہ متذبذب ساتھی اور وہ ارکان جو ان سے لاتعلقی کیلئے ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں انہیں اب فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ 12 روز تک میری گرفتاری، اغوا اور رہائی کے دوران میری صحت کے حوالے سے اور میری بیٹی ایمان مزاری کو جس صورتحال اور آزمائش سے گزرنا پڑا اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں متحرک سیاست چھوڑ رہی ہوں، میں آج سے پی ٹی آئی یا کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں رہوں گی، میرے بچے، میری والدہ اور میری صحت میری ترجیح ہیں، اب میں ان پر زیادہ توجہ دوں گی۔
سینئر صحافی حامد میر نے نجی نیوز چینل جیو سے بات کرتے ہوئے ان کے سیاست چھوڑنے کے فیصلے کو ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے بھی پی ٹی آئی کی سابق رہنما کے اعلان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے ’شرمناک‘ دن قرار دیا۔شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ وہ 72 سالہ خاتون ہیں، آپ کے ان کے ساتھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن آپ انہیں بار بار جیل میں نہیں ڈال سکتے، انہیں ضمانت دی گئی کہ وہ پارٹی چھوڑ دیں۔
سیاسی تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا کہ یہ پیشرفت حکومت، فوج اور ملک بھر کے لیے مکمل رسوائی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں نمائندے سلمان مسعود نے کہا کہ شیریں مزاری کا فیصلہ واضح طور پر جبر اور دباؤ کے تحت تھا۔سینئر صحافی محمد مالک نے کہا کہ جس طرح سے شیریں مزاری کو اپنی پارٹی اور سیاست چھوڑنے پر ’مجبور‘ کیا گیا، اس پر دکھ ہوا۔انہوں نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ شیریں مزاری نے کچھ کہے بغیر حقیقت میں بہت کچھ کہا جب انہوں نے اپنی بیٹی کی 12 دن کی حالت زار کو اپنی ترجیحات کو درست کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیا، اصل سوال یہ ہے کہ ان کی بیٹی کو ان تمام مصائب سے کیوں گزرنا پڑا۔“انہوں نے کہا کہ کیا ان کا پارٹی چھوڑنا ان کی پارٹی کا نقصان ہے؟ ہاں ایک بڑا نقصان ہے لیکن ان کا یہ فیصلہ قومی سیاست اور پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے سابق معاون خصوصی فہد حسین نے کہا کہ شیریں مزاری کے فیصلے کی وجوہات ’حقیقی‘ ہیں۔صحافی مہرین زہرہ ملک نے امید ظاہر کی کہ شیریں مزاری سیاست سے عارضی چھٹی لے رہی ہیں۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاست سے ان کی مستقل کنارہ کشی ایک بہت بڑا نقصان ہوگا، پاکستان کو سیاست میں ان جیسے لوگوں کی ضرورت ہے، آج اس ملک کے لیے واقعی دکھی ہوں۔
جنوبی ایشیائی امور کے تجزیہ کار اور امریکی اسکالر مائیکل کوگل مین نے شیریں مزاری کے پی ٹی آئی چھوڑنے کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ اسٹیبلشمنٹ پارٹی پر ہر سطح پر شکنجہ سخت کرتی جارہی ہے۔’ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیریں مزاری کا پی ٹی آئی چھوڑنا پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے دباؤ میں استعفیٰ دیا ہے، لیکن شیریں مزاری جیسا سینئر کوئی نظر نہیں آیا۔
تجزیہ نگار اور صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے پارٹی اور سیاست چھوڑنے کے اعلان پر مظہر عباس نے کہا کہ اگرچہ یہ ہماری جلی ہوئی سیاسی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ وقت ماضی سے کچھ سبق سیکھنے کا ہے۔
اسی دوران وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی سیاسی بنیادوں پر کی گئی گرفتاریوں کی حمایت نہیں کی لیکن پی ٹی آئی رہنماؤں کو جن بھی مسائل کا سامنا ہے، وہ ان کا اپنا کیا دھراہے۔شیریں مزاری کے سیاست چھوڑنے پر پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ جیسا عمل ہوتا ہے ویسا رد عمل سامنے آتا ہے، یہ صورتحال دیکھ کر کوئی خوش نہیں ہوتا لیکن 9 مئی کو ریڈ لائن عبور کر لی گئی۔
اس پیشرفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما تیمور جھگڑا نے کہا کہ شیریں مزاری پی ٹی آئی کے وعدوں پر حقیقی معنوں میں یقین رکھتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان تمام لوگوں کو مبارک جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کا اس طرح سیاست چھوڑنا ہماری سیاست کو آگے لے جائے گا۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر شیریں مہرالنساء مزاری سیاست دان اور سابق بیوروکریٹ عاشق محمد خان مزاری کی صاحبزادی ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے ’لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس‘ سے بی ایس سی آنرز اور پھر’ملٹری سائنس اور پولیٹیکل سائنس‘ میں ڈبل ایم ایس سی کیا۔شیریں مزاری نے کولمبیا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔پاکستان واپسی پر شیریں مزاری نے قائد اعظم یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی کے ڈیفینس اینڈ اسٹریٹیجک ڈیپارٹمنٹ میں چیئرپرسن بھی رہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل شیریں مزاری شعبہ تدریس اور صحافت سے منسلک تھیں۔
شیریں مزاری پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کالم بھی لکھتی رہی ہیں اور انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کی مدیر اعلیٰ بھی رہیں۔سنہ 2008 کے بعد شیریں مزاری کو پروگرام اینکر کے طور پر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے 2008 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2013 میں ڈاکٹر شیریں مزاری خواتین کی مخصوص نشستوں پررکن قومی اسمبلی بنیں۔2018 کے انتخابات میں ڈاکٹر شیریں مزاری خواتین کی مخصوص نشست پر ایک مرتبہ پھررکن اسمبلی بنیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت میں انھیں وزیر برائے انسانی حقوق کا قلمدان سونپا گیا۔ شیریں مزاری پی ٹی آئی کی انفارمیشن سیکریٹری اور ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کرتی رہی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شیریں مزاری نے اس سے قبل 2012 میں بھی تحریک انصاف سے استعفیٰ دیا تھا۔انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تھی اور پارٹی پر سنگین الزامات بھی لگائے تھے، جس میں سب سے اہم الزام رقوم کی تقسیم کا تھا لیکن بعد میں دوبارہ پارٹی میں شامل ہو گئی تھیں۔
