سندھ کی قوم پرست جماعتیں ناکامی سے دوچار کیوں ہیں؟

سندھ کی ترقی کی خواہاں قوم پرست جماعتیں اپنے مثبت وژن اور سوچ کے باوجود ناکامی سے دوچار ہیں اور 16 برس سے صوبے پر قابض پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں، قوم پرست جماعتوں کے انتخابات میں کامیاب نہ ہوپانے کی وجہ تجزیہ کار ان کے امیدواروں کے مستقل حلقے نہ ہونا، عوام میں عدم مقبولیت اور عوامی رابطے کی کمی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں عام انتخابات 2024 آٹھ فروری کو ہونے جا رہے ہیں، سندھ میں پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتوں کے ساتھ سندھی قوم پرست جماعتیں بھی عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔انڈپینڈنٹ اردو سے یہ جاننے کے لیے مختلف مبصرین سے بات کی ہے۔ سینئر سیاسی تجزیہ نگار اور سندھی زبان کے ٹی وی ’آواز ٹی وی‘ کے میزبان فیاض نائچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن میں کامیابی کے لیے کسی بھی امیدوار کے پاس ایک مستقل حلقہ ہونا ضروری ہے، جہاں وہ اس حلقے کی عوام کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔’پی پی پی کی نسبت سندھ کے قوم پرست رہنماؤں کے پاس کوئی مستقل حلقہ نہیں ہے۔ سوائے سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) کے رہنماؤں جلال محمود شاہ اور زین شاہ کے کسی بھی سندھ قوم پرست رہنما کے پاس کوئی مستقل حلقہ نہیں۔ فیاض نائچ کے مطابق سندھی قوم پرست جماعتوں کے سربراہ کے علاوہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدوار غیر مقبول ہوتے ہیں جنہیں عوام نہیں جانتے۔ اس علاوہ قوم پرست جماعتیں چند نشستوں پر اپنے امیدوار نامزد کرتی ہیں۔’سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) نے حالیہ الیکشن میں پورے صوبے میں صرف 11 امیدوار کھڑے کیے۔ عوامی تحریک نے 10 حلقوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔‘سینٹر فار پیس اینڈ سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور ادیب جامی چانڈیو نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں دیگر صوبوں کی نسبت سیاسی شعور ہونے کے باجود ووٹ نظریاتی بنیاد پر دینے کے بجائے پاور کو دیا جاتا ہے۔پیپلز پارٹی گذشتہ کئی سالوں سے پاور میں ہے تو لوگوں کو لگتا ہے کل حکمرانی ان کو کرنی ہے تو یہ لوگ کچھ نہ کچھ حلقے کے لیے کریں گے جبکہ پی پی پی کی نسبت عوام کو لگتا ہے کہ قوم پرست حکمرانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے نطریاتی طور پر قوم پرستوں کے ساتھ ہونے کے باجود ووٹ پی پی پی کو دیتے ہیں۔اس کے علاوہ انتخابات کے دوران انتخابی مہم کے لیے خطیر رقم درکار ہوتی ہے، جب کہ قوم پرستوں کی اکثریت کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ یہ ایک اور بڑی وجہ ہے کہ لوگ نظریاتی طور پر قوم پرستوں کے ساتھ ہونے کے باجود انہیں ووٹ نہیں دیتے۔سندھی قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے سربراہ اور قوم پرست رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے تسلیم کیا کہ سندھ میں انتہائی مقبولیت کے باجود قوم پرست الیکشن میں کامیاب نہیں ہوتے۔’سندھ کے لوگ قوم پرستوں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، مگر روایتی سیاست دان لوگوں کو قوم پرستوں کے بجائے زبردستی خود ووٹ لیتے ہیں۔‘ڈاکٹر قادر مگسی کی جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی (آیس ٹی پی) کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں پر صرف 11 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔’میں نے نواب شاہ سے اس لیے الیکشن لڑا کہ وہاں سے ہمیشہ آصف زرداری بغیر مقابلے جیت جاتے تھے تو میں نے سوچا کہ کم از کم ان کا کسی کے ساتھ مقابلہ تو ہو۔ اس لیے وہاں سے الیکشن لڑا۔سندھ میں قوم پرست سیاسی جماعتیں دو اقسام کی ہیں۔ ایک جو علحیدگی پسند ہیں اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں دوسری وہ قوم پرست جماعتیں جو علیحدگی میں یقین نہیں رکھتیں اور وہ پاکستان میں رہتے ہوئے خوشحال سندھ کی بات کرتی ہیں۔ یہ جماعتیں پارلیمانی سیاست میں یقین بھی رکھتی ہیں اور الیکشن میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ان میں معروف سندھی سیاستدان مرحوم رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک، ان کے بیٹے ایاز لطیف پلیجو کی قومی عوامی تحریک، ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی اور جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی شامل ہیں۔علیحدگی پسند جماعتیں جو انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں وہ تمام جماعتیں مقبول سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کے نظریے کے تحت بنی ہیں۔

Back to top button