چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ہاتھوں پیسوں کی بندر بانٹ

پاکستان جہاں ایک طرف انتہائی مخدوش معاشی صورتحال کا شکار ہے اور حکومت اپنے اخراجات کو محدود کرنے کے جتن کرتی نظرآتی ہے وہیں دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے کروڑوں روپے ہائیکورٹ ملازمین میں اعزازیے کی مد میں بانٹ دئیے۔
انصار عباسی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے 12؍ کروڑ 80؍ لاکھ روپے اپنے 1860؍ ملازمین میں بطور اعزازیہ تقسیم کر دئیے ہیں جبکہ دوسری طرف چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت کے رواں سال کے بجٹ میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ عوامی مفاد میں اور قومی خدمت کے جذبے کے تحت قومی خزانے میں 10؍ کروڑ روپے جمع کرا دیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فنانس ڈویژن کو 13؍ اپریل کو بھیجے گئے خط میں پہلے ہی 11 ملین روپے واپس کر دیے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 100؍ ملین یعنی 10؍ کروڑ روپے کی کٹوتی آئندہ ماہ قومی خزانے میں جمع کرا دی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ فنانس ڈویژن کو اس بارے میں بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آئی ایچ سی نے اپنی عدالت کے فنانس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے اعزازیے کا کوئی بھی کیس شروع نہ کیا جائے۔ دی نیوز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ آئی ایچ سی کے کسی ملازم کو اعزازیہ نہیں ملے گا۔
دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے 1860؍ ملازمین کو 128؍ ملین روپے یعنی 12؍ کروڑ 80؍ لاکھ روپےکے اعزازیے کی منظوری دیدی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے گریڈ ایک تا 21؍ کے تقریباً سبھی ملازمین کو اعزازیہ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، گریڈ 16؍ سے 21؍ تک کے 696؍ ملازمین کو 48؍ ملین روپے کا اعزازیہ دیا گیا ہے۔ گریڈ ایک تا 15؍ کے 1168؍ ملازمین کو 80 ملین روپے کا اعزازیہ دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو گریڈ ایک تا 21؍ کے ملازمین میں سے ہر ایک کو 69؍ ہزار روپے کا اعزازیہ ملا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے تفویض کردہ اختیارات کے تحت پنجاب حکومت کے متعلقہ نوٹیفکیشن کے تحت یہ اعزازیہ دیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اخراجات لاہور ہائی کورٹ کے منظورہ شدہ بجٹ سے کیے جائیں گے۔ گزشتہ سال جون 2022ء میں بھی لاہور ہائی کورٹ نے اپنے 1939؍ ملازمین کو 133؍ ملین روپے کا اعزازیہ دیا تھا۔
13؍ اپریل 2022ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، گریڈ 16؍ تا 20 کے 732 ملازمین کو 65 ملین جبکہ گریڈ ایک تا 15؍ کے 1207 ملازمین کو 68؍ ملین روپے کا اعزازیہ دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال اعزازیہ کی رقم گریڈ 16؍ سے 20 کے ملازمین کیلئے مختلف تھی جو 70 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے درمیان تھی۔ جبکہ کم گریڈ کے ملازمین کو 55؍ سے 60؍ ہزار روپے کے درمیان رقم ملی تھی۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال جوُن میں، اُس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ جو اِس وقت سپریم کورٹ کے جج ہیں کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مالی سال 2021-22ء کے مجموعی بجٹ میں سے 30؍ فیصد رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرا دی تھی۔ججوں کیلئے کوئی چائے یا ریفرشمنٹ کی اجازت نہیں تھی، جو بجٹ استعمال نہیں ہو سکا اس میں سے کسی ملازم کو اعزازیہ نہیں دیا گیا، کوئی غیر ضروری تزئین و آرائش کا کام نہیں کرایا گیا، پیسہ ضائع نہیں کیا گیا۔
سب سے اہم بات یہ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے دور میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے رابطہ کرکے انہیں کہا تھا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ملنے والے عدالتی بجٹ کا فارنسک آڈٹ کرایا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو 30؍ جون 2022ء کو ختم ہوئے گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب 8؍ کروڑ 20؍ لاکھ روپے ملے تھے۔ چونکہ عدالت 31؍ کروڑ 14؍ لاکھ روپے کی رقم خرچ نہیں کر پائی، اسلئے یہ رقم قومی خزانے میں واپس کر دی گئی۔ آئی ایچ سی اور اس کے موجودہ ججز سرکاری پلاٹس اسکیم میں درخواست نہ دیکر پہلے ہی اعلیٰ عدلیہ میں ایک مثال قائم کر چکے ہیں۔ حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو سرکاری پالیسی کے تحت حکومت سے پلاٹس ملتے ہیں اور یہ صدارتی آرڈر میں وضع کردہ شرائط و ضوابط سے الگ معاملہ ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ماتحت جوڈیشل افسران اور ساتھ ہی آئی ایچ سی کے ملازمین کو حکومت سے پلاٹس لینے سے روک دیا تھا۔
