بلوچستان میں دہشتگردی دوبارہ سر کیوں اُٹھانے لگی؟

پاک فوج کی جانب سے متعدد آپریشنز اور طویل قیام امن کے بعد بلوچستان میں دہشتگردی نے دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، ایک روز میں بلوچ مسلح گروہ نے متعدد حملوں کا دعویٰ کیا، جن میں کوئٹہ کے مرکزی بازار میں پولیس اور سریاب میں ایس ایچ او کی گاڑی پر اور اگلے روز بولان میں ریلوے ٹریک پر حملے شامل ہیں۔
پاکستانی فوج کی طرف سے سات اپریل کو بی این اے کے سربراہ مسلح مزاحمت کار گلزار امام کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد شدت پسندی کے واقعات میں تیزی آتی نظر آئی۔
انڈپینڈنٹ اردو نے تجزیہ کار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا سے اس رجحان کے حوالے سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار امام کی گرفتاری کو حالیہ شدت پسندی کے واقعات میں تیزی کی وجہ کے طور پر رد کرتے ہوئے کہا کہ اس گرفتاری کا گزشتہ سال سے سننے میں آ رہا ہے۔
یہ تو انسرجنسی کی رفتار ہے، جو کبھی کم اور کبھی تیز ہوجاتی ہے۔ میرے خیال میں ان واقعات کا گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ہے، ابھی حملوں میں تیزی ہے، کچھ عرصے کے بعد کمی اور پھر تیزی آتی ہے، یہ سلسلہ ایسے ہی چل رہا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے 29 مارچ کو ایک ٹویٹ میں بتایا گیا کہ مسلح گروہوں بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر جی نے سات موبائل ٹاورز کو تباہ اور دو تعمیراتی سائٹس کو متاثر کیا، جبکہ ریلوے ٹریک اور گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والےامریکہ میں مقیم صحافی ملک سراج اکبر جو انسرجنسی اور شدت پسندی پر گہری نظر رکھتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ گلزار امام کی گرفتاری کا مسلح تنظیموں خصوصا ان کی اپنی تنظیم پر گہرا اثر پڑے گا۔ملک سراج اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گلزار بلوچ نیشنلسٹ آرمی کا بڑا منصوبہ ساز تھا، میرا نہیں خیال کہ ان کو جلد ایسا لیڈر دوبارہ مل سکتا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد لوگ فرسٹریشن کا شکار ہو سکتے ہیں، وہ خوف زدہ بھی ہوں گے، کیوں کہ اگر پاکستانی حکام کو گلزار سے کوئی معلومات حاصل ہوتی ہیں تو میدان میں موجود لوگوں کی گرفتاری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ملک سراج کے بقول گلزار امام وہ بندہ ہے جس نے براہمداغ بگٹی سے اختلاف کیا، اس نے الگ دھڑا بنایا، منصوبہ سازی بڑا مشکل کام ہے، یہ تنظیمیں اس گرفتاری کے بعد تقسیم کا شکار ہو سکتی ہیں۔
ملک میں شدت پسندی کے معاملات کو مانیٹر کرنے والے ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان کہتے ہیں بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں تیزی پچھلے سال اگست سے دیکھنے میں آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگست 2022 میں 12حملے، ستمبر میں سات، اکتوبر میں 14، نومبر میں نو اور دسمبر میں 17 ریکارڈ کیے گئے، اسی طرح رواں سال جنوری میں حملے کچھ کم ہوئے جو تعداد میں نو تھے، جبکہ فروری میں ان حملوں کی تعداد 22 ہو گئی۔
عبداللہ خان کے مطابق ٹی ٹی پی اب بلوچ اکثریتی علاقوں میں اپنا نیٹ ورک بنا رہی ہے۔ پہلے یہ گروہ صرف پشتون علاقوں میں جیسے کوئٹہ اور شمالی بلوچستان میں موجود تھی، جہاں انہوں نے اپنی ولایتیں بھی قائم کی ہیں۔ ماضی میں بھی بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلقات رہے ہیں، یہ ایک دوسرے ساتھ معلومات کاتبادلہ بھی کرتے ہیں،یہ تعلق اب بھی موجود ہے، داعش پہلے سے بلوچ علاقوں میں سرگرم ہے۔
عبداللہ خان کہتے ہیں کہ رواں سال فروری میں تحریک جہاد پاکستان کے نام سے ایک نیا گروپ بھی منظر عام پر آیا ہے، جس نے سبی کے قریب پولیس ٹرک پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔اسلام آباد میں بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی کے واقعات کو سرداروں کے پیروکار کے درمیان بے روزگاری اور معاشی حالات کے باعث لڑائیاں قرار دیا جا رہا ہے، جو بالکل غلط ہے۔
2017 میں اسلم اچھو نے بی ایل اے کا علیحدہ دھڑا بنا کرحیربیار مری گروپ سے علیحدگی اختیار کی تھی اور جب اس نے اپنے بیٹے کو خود کش حملے کے لیے بھیجا تو اس وقت سے حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔اس سے قبل ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ بھی پڑھا لکھا تھا جبکہ اسلم اچھو کے بعد بشیر زیب نے بھی ایک نیا ٹرینڈ متعارف کروایا، جس نے پڑھے لکھے لوگوں کو متاثر کیا، جیسے شاری بلوچ وغیرہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ براہمدغ بگٹی اور حیربیار مری سے مذاکرات کرکے یا بلوچ سرداروں کو قابو میں کرکے بلوچستان میں امن لایا جاسکتا ہے، تو اب یہ ممکن نہیں رہا، ان کا اثر رسوخ کم ہو گیا ہے اور بی این اے کا قیام اس کی مثال ہے، بی ایل اے مجید بریگیڈ کے کراچی میں حملے ہوئے، اس کے لوگ بھی کراچی سے گرفتار ہوئے ہیں، اس طرح سندھ میں شدت پسندی ہو رہی ہے، سندھو دیش کی انسرجنسی کی شدت کم ہے، لیکن اس کے حملے ہو رہے ہیں، جو خطرے کی نشاندہی ہے۔

کیا پارلیمنٹ چیف جسٹس کو زیر کر پائے گی؟

Back to top button