کیا پارلیمنٹ چیف جسٹس کو زیر کر پائے گی؟

عمرانڈو قرار دئیے جانے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی متنازع بینچ فکسنگ کی وجہ سے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کھل کر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ایک ماہ سے سپریم کورٹ اور پارلیمان میں جاری قانونی جنگ ٹکراؤ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے 8 رکنی متنازع لارجر بینچ نے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے سے متعلق قانون سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل 2023 پر عمل درآمد روک دیا ہے جبکہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں نے عدالت عظمٰی کے فیصلے کو ون مین شو کا شاخسانہ قرار دے کر عدالتی اصلاحات بل پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پیشگی اقدام کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات کو کم کرنے سے متعلق ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ کی صدر مملکت کی جانب سے منظوری کے بعد یا دوسری صورت میں اس کے ایکٹ بننے کی صورت میں یہ مؤثر نہیں ہوگا، نہ ہی کسی بھی طرح سے اس پر عمل کیا جائے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال۔کے تحریر کردہ 8 صفحات پر مشتمل حکمنامے کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف 3 درخواستیں سماعت کےلیے مقرر کی گئیں۔مجوزہ قانون کا مقصد چیف جسٹس کو انفرادی حیثیت میں از خود نوٹس لینے کے اختیارات سے محروم کرنا ہے۔اسے ابتدائی طور پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا اور صدر کی منظوری کے لیے بھیجا گیا، تاہم صدر مملکت نے یہ کہتے ہوئے اسے واپس بھیج دیا کہ مجوزہ قانون ’پارلیمنٹ کے اختیارات سے باہر‘ ہے۔پیر کے روز پی ٹی آئی قانون سازوں کے شور شرابے اور احتجاج کے دوران بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بعض ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا۔آئین کے مطابق بل کو ایک بار پھر صدر مملکت کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور اگر وہ 10 روز کے اندر اس پر دستخط نہیں کرتے ہیں تو بھی یہ منظور ہوجائے گا۔تاہم سپریم کورٹ نے اپنے اس حکم سے اس قانون پر عمل درآمد روک دیا ہے جو بعد میں نافذ العمل ہوگا۔

سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، اس کے متن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر تا حکم ثانی کسی بھی طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت عدلیہ اور خصوصی طور پر سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی آزادی کے لیے متفکر ہے۔

حکم نامہ کے مطابق اس ضمن میں مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے عدالت کی مداخلت درکار ہے، تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلا کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ جس کے پاس قانون ریگولیٹ کرنے کی طاقت ہو وہ اس کو تباہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے، موجودہ کیس میں عدلیہ کی آزادی کی تباہی کا خدشہ ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ کیا مقننہ کے پاس سپریم کورٹ کے قوانین میں رد و بدل کا اختیار ہے؟ واضح ہونا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ آرٹیکل 191 میں اختیارات میں رد و بدل کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟

تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ عدالت کی پریکٹس اور پروسیجر میں رد و بدل خواہ کتنا ہی ضروری ہو، عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرتا ہے، مجوزہ بل یا ایکٹ کو آئین کے مطابق ہونا چاہیے، عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے وکیل نے اہم قانونی نکات اٹھائے، عدلیہ کی آزادی سے متعلق بھی نکتہ اٹھایا گیا۔عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ، بل کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی .تحریک انصاف، ق لیگ، حکومتی اتحادی جماعتوں، اٹارنی جنرل، پاکستان بار، سپریم کورٹ بار اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، کیس کی مزید سماعت 2 مئی کو ہوگی۔

دوسری جانب اتحادی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا ’سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل 2023‘ پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا حکم غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔حکمران جماعتوں نے مشترکہ بیان میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ کے فیصلے پر اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ قانون ابھی بنا بھی نہیں، نافذ بھی نہیں ہوا لیکن ایک متنازع اور یک طرفہ بینچ بنا کر اس کو جنم لینے سے ہی روک دیاگیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ محض ایک اندازے اور تصور کی بنیاد پر یہ کام کیا گیا جو نہ صرف مروجہ قانونی طریقہ کار ہی نہیں منطق کے بھی خلاف ہے، یہ مفادات کے ٹکراؤ کی کھلی اور سنگین ترین مثال ہے، یہ عدل وانصاف اور سپریم کورٹ کی ساکھ کا قتل ہے۔

حکمران اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں، ’ون میں شو‘ کا شاخسانہ ہے جسے عدالتی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر جگہ ملے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خلاف آئین اور پارلیمنٹ کا اختیار سلب کرنا ہے، یہ وفاق پاکستان پر حملہ اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں پر بھی عدم اعتماد ہے جن کو ازخود کارروائی کے عدالتی اختیار اور منصفانہ وشفاف طریقے سے بینچوں کی تشکیل کی خاطر تین رکنی کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا جو نہایت افسوسناک ہے۔بیان میں کہاگیا کہ حکمران جماعتیں اس عدالتی ناانصافی کو نامنظور کرتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت کریں گی۔

بیان میں مزید واضح کیاگیا کہ پاکستان بارکونسل اور صوبائی بارکونسلوں کے تحفظات بھی درست ثابت ہوئے، امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی وکلا برادری آئین ، قانون اور عدل کے ساتھ ہونے والے اس سنگین مذاق کا نوٹس لے گی اور عدل و انصاف کے زریں اصولوں کی پاسداری و پاسبانی کے لیے آواز بلند کرے گی۔بیان میں کہاگیا کہ حکمران جماعتیں نظام عدل میں عدل لانے کے لئے حکمت عملی تیار کریں گی اور مشاورت سے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کریں گی تاکہ ملک و قوم کو بحران سے نجات دلائی جائے اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی ہو جن میں اولین معاشی بحالی ہے، یہ عہد کرتے ہیں کہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ اور اس کے آئینی اختیار کا تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ قبل ازیں سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ 8 رکنی لارجر بینچ نے ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ کے خلاف دائر 4 درخواستوں پر سماعت کی تھی۔8 رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اظہر حسن رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

دریں اثنا حکمراں اتحاد نے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق ’سپریم کورٹ پروسیجر بل‘ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے لیے عدالت عظمیٰ کا تشکیل کردہ 8 رکنی بینچ متنازع قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔حکمران جماعتوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کا اقدام پاکستان اور عدالت کی تاریخ میں اس سے قبل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ساکھ ختم کرنے اور انصاف کے آئینی عمل کو بے معنی کرنے کے مترادف ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بینچ بذات خود سپریم کورٹ کی تقسیم کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے حکومت میں شامل جماعتوں کے پہلے بیان کردہ مؤقف کی ایک بار پھر تائید ہوئی ہے، خود سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اپنے فیصلوں میں ’ون میں شو‘، متعصبانہ و آمرانہ طرز عمل اور مخصوص بینچوں کی تشکیل پر اعتراضات کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب میں الیکشن کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ماہ رمضان سے آغاز سے قبل ہی قانون سازی کا آغاز کر دیا تھا۔قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے ذریعے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس، بینچ کی تشکیل اور سوموٹو کے خلاف اپیل جیسی ترامیم کرکے عدلیہ کے پارلیمانی فیصلوں پر اثرانداز ہونے اور پارلیمان کو سپریم بنانے کے لیے کوششیں کی گئیں، تاہم پارلیمنٹ کی ہر قرارداد کے جواب میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آ جاتا ہے یا بینچ تشکیل دے دیا جاتا ہے جس سے پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کو روک دیا جاتا ہے۔جواب میں پارلیمنٹ بھی سپریم کورٹ کے کسی بھی اقدام کے خلاف قرارداد منظور کرلیتی ہے، تاہم ابھی تک اونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہیں رہا اور حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ باہمی اختلافات کو دانش مندی سے نہ نمٹایا گیا تو حتمی نتیجہ ریاستی اداروں کے ٹکراؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے جس کا خمیازہ بالآخر ریاست کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی

Back to top button