کیا فوری الیکشن سے بحرانوں کا خاتمہ ممکن ہے؟

ملکی معاشی و سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عمران خان کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کو جہاں حکومت و اسٹیبلشمنٹ ماننے پر آمادہ نظر نہیں آتی وہیں عالمی نشریاتی ادارے بھی پاکستان میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کے مطابق عمران خان کے انتخابات کے مطالبے نے پاکستان میں نئے بحران کو جنم دیا اور وہ ملک کوبحرانوں میں دھکیل رہے ہیں۔

بلوم برگ کے مطابق الیکشن کی تاریخوں پر حکومت اور سپریم کورٹ کے آمنے سامنے آنے سے آئینی بحران نے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ سےتوجہ ہٹادی ہے۔جلد انتخابات کے آئینی بحران کا مرکزی کردار چیف جسٹس عمر عطاء بندیال ہیں۔ چیف جسٹس نے 8 ججوں کو بٹھاکر ایک قانون بننے سے پہلے معطل کردیا ہے جس نے ایک آئینی بحران کو جنم دیا ہے۔ بلوم برگ مزید لکھتا ہے کہ عمران خان کی ناکام خارجہ پالیسی، ڈوبتی معیشت کے باعث عدم اعتماد آیا اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران خان کے طرز عمل سے سامنے آنے والے بحران کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوری عمل کے مستقبل کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

بلوم برگ کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ میں تقسیم نظر آ رہی ہے،چیف جسٹس اور وفاقی حکومت کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہےایسے رویوں سے تشدد کی فضا قائم ہونے کا خدشہ ہے،رپورٹ میں عدالت عظمیٰ کے متعلق لکھا گیا کہ سپریم کورٹ تقسیم ہو چکی ہے۔ عمران خان نے الیکشن ملتوی کرنے کی اپیل کی اور اس معاملے پر غور کرنے کے لیے نو رکنی بنچ قائم کیا گیا۔ دو ججوں نے خود کو الگ کر لیا، جبکہ چار دیگر نے کیس کو خارج کر دیا۔جسٹس بندیال نے دو دیگر ججوں کے ساتھ مل کر فیصلہ دیا کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرائے جائیں۔شہباز انتظامیہ کو انتخابات کے انعقاد کے لیے 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تاہم حکومت نے اس فیصلے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ اقلیتی نکتہ نظرہے اور معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔حکومت کے لیے آگے کیا ہے؟رپورٹ میں کہا کہ یہ اس پارلیمنٹ پر منحصر ہے جس نے قرارداد پاس کی جو انہیں الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے اور اگلے ماہ صوبائی انتخابات کرانے کے حکم پر عمل کرنے سے روکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ جیسے حکام نے ایمرجنسی قوانین کے نفاذ کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت بڑھتی ہوئی دہشت گردی یا معاشی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات میں تاخیر کا جواز پیش کرنے کے لیے ایسے قوانین کا اطلاق کر سکتی ہے۔قومی انتخابات اس سے پہلے بھی تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں، جیسا کہ 2007 میں، جب اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا تھا۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ انتخابات کے ملتوی ہونے پر عمران خان کے پاس کیا آپشن موجود ہیں؟

رپورٹ میں کہا گیا کہ خان اور ان کی پارٹی الیکشن کمیشن پر عدالتی حکم پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور حکومت کو عدالت میں لے جا سکتی ہے۔ وہ ممکنہ طور پر مزید مظاہروں اور ریلیوں کا بھی انعقاد کرے گا جو پرتشدد ہوسکتے ہیں، بلوم برگ کھ مطابق افق پر قومی انتخابات، اکتوبر میں ہونے کا امکان ہے، اس وقت خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، وہ امریکا کے ساتھ بھی تعلقات کی بہتری کی کوششیں بھی کر رہے ہیں حالانکہ امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں پر انہوں نے اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے تعاون کرنے کا الزام لگایا تھا تاہم اب وہ اس الزام کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حکومت کے دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے انکار نے جمہوری عمل کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس سارے بحران کا محور چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہیں، جنہوں نے خان اور ان کے اتحادیوں کے قبل از وقت انتخابات کیلئے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا صوبوں کے لیے انتخابات کی تاریخیں طے کیں۔اس کے بعد حکومتی قانون سازوں نے "سوموٹو” نوٹس لینے کے بارے میں اعلیٰ جج کے اختیارات کو ختم کرنے کے لیے ایک بل پاس کرنے کی کوشش کی ۔قانون بننے سے ایک ہفتہ قبل، سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی پینل نے معطل کر دیا۔ اس سے بندیال اور حکومت کے درمیان تصادم کی راہ ہموار ہوئی اس کیس کی باقاعدہ سماعت 2 مئی سے شروع ہونے والی ہے کہ آیا یہ بل آئینی ہے یا نہیں۔ایک اور کیس میں، جسٹس بندیال نے ملک کے مرکزی بینک کو حکم دیا کہ وہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کے لیے فنڈز فراہم کرے۔ تاہم پارلیمنٹ نے فنڈز کی فراہمی سے انکار کر دیا۔ جس پر سپریم کورٹ نے فنڈز کی عدم فراہمی پر وارننگ دے رکھی ہے اب دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

کیا جسٹس بندیال کا گھر جانا ٹھہر چکا ہے؟

Back to top button