سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی آمریت کا دھڑن تختہ کیسے ہوا؟

قومی اسمبلی اور سینیٹ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے اور از خود نوٹس کا انفرادی اختیار واپس لینے کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے بعد چیف جسٹس کو حاصل آمرانہ اختیارات قانون کی روح کے مطابق سپریم کورٹ کو منتقل ہو گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت اب صرف ایک جج کی بجائے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین جج از خود نوٹس کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ مسودے میں از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق دینے کی منظوری دی گئی ہے جس کا حق اس سے پہلے دستیاب نہیں تھا۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوو مو نوٹس ہے کیا اور یہ کب کب استعمال ہوتا رہا ہے؟ قانونی زبان میں سوو موٹو کا مطلب یہ ہے کہ عدالت کا بغیر کسی درخواست کے خود کسی مقدمے کی کارروائی شروع کر دینا۔ پاکستان میں رائج قانون کو حریفانہ نظامِ انصاف کہتے ہیں۔ اس میں عام طور پر دو فریقوں کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی کوئی شخص آ کر شکایت کرے کہ مجھے فلاں شخص نے نقصان پہنچایا ہے اس لیے مجھے انصاف دلوایا جائے۔ اس کے بعد عدالت حرکت میں آتی ہے اور مقدمہ چلا کر قصوروار کو سزا دے دیتی ہے یا اگر جرم ثابت نہ ہوا تو بری کر دیتی ہے۔لیکن کسی بھی ایسے شکایت کنندہ کے بغیر اگر عدالت خود ہی حرکت میں آ کر کسی مقدمے کی کارروائی شروع کر دے تو اسے سوو موٹو نوٹس لینا کہا جاتا ہے۔

اس کی بنیاد پاکستانی آئین میں ہے۔ آئین کی شق 184 کی دفعہ 3 کہتی ہے: اگر سپریم کورٹ سمجھے کہ عوامی اہمیت کا کوئی معاملہ ایسا ہے جس کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہو تو وہ اس پر نوٹس لے کر کارروائی شروع کر سکتی ہے۔آئین کی اصل شق میں ’سپریم کورٹ‘ لکھا ہوا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ہوتا یہ رہا ہے کہ چیف جسٹس اس اختیار کو از خود استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک ابہام شروع سے رہا ہے کہ یہ اختیار کس کو حاصل ہے؟ صرف چیف جسٹس کو یا پوری سپریم کورٹ کو۔

ماہرِ قانون ایڈووکیٹ آصف محمود نے بتایا کہ ’آئین میں صرف وفاقی شرعی عدالت کو از خود نوٹس کا واضح اختیار دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے بارے میں صریح الفاظ میں یہ بات آئین میں کہیں نہیں لکھی۔ سپریم کورٹ نے خود ہی 3/184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار حاصل کر لیا ہے۔ جب کہ اس شق میں بھی ’سپریم کورٹ‘ کا لفظ لکھا گیا ہے، چیف جسٹس کا نہیں، لیکن ہمارے ہاں چیف جسٹس ہی زیادہ تر اس اختیار کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ از خود نوٹس کی ابتدا کیسے ہوئی؟اس معاملے پر بات کرتے ہوئے شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی میں شعبہ شریعہ اور قانون کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے کہا کہ پاکستانی تاریخ کے ابتدائی عشروں میں فوجی حکومتوں کا غلبہ رہا اور عدلیہ زیادہ تر بیک فٹ پر ہی رہی۔لیکن ’عدلیہ کی اہمیت کو پہلی بار 90 کی دہائی میں اس وقت کے چیف جسٹس افضل ظلہ نے اجاگر کیا۔ انہوں نے قراردادِ مقاصد کو بنیاد بنا کر قرار دیا کہ عدلیہ خود مختار ہو گی۔’مزید یہ کہ اس وقت کے چیف جسٹس نے استدلال دیا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس صرف ایک عدالت کا سربراہ نہیں، بلکہ پورے ملک کا چیف جسٹس ہے، یہیں سے سوو موٹو لینے کے رجحان کی راہ ہموار ہوئی۔’اسی نظریے کے تحت جسٹس افضل نے بےنظیر بھٹو کی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ قصاص و دیت پر قانون سازی کرے۔ بےنظیر کی حکومت تو توڑ دی گئی مگر نگران حکومت کو جسٹس افضل نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر کے قانون سازی کروائی۔

2000سے پہلے سوو موٹو کی اکا دکا مثالیں ملتی ہیں، لیکن جسٹس افتخار چوہدری نے از خود نوٹس کو انتہا تک پہنچا دیا۔ انہوں نے اپنے سات سالہ دور میں 79 از خود نوٹس لیے۔ ان کے علاوہ جسٹس ثاقب نثار بھی خاصے سرگرم رہے اور انہوں نے دو سالہ دور میں 47 نوٹس لیے، اور یوں سالانہ شرح کے لحاظ سے وہ افتخار چوہدری سے بھی آگے نکل گئے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی ایک رپورٹ میں سوو موٹو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’بعض اوقات یہ اختیار خود سپریم کورٹ کے قانون یا بین الاقوامی انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کچھ کیسوں میں سپریم کورٹ نے پھرتی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا۔ تاہم دوسرے موقعوں پر وہ براہِ راست دائر کردہ درخواستوں پر تیزی سے عمل نہیں کر سکی۔‘رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’یہ ابہام برقرار ہے کہ عدالت انسانی حقوق کی بعض خلاف ورزیوں کو دوسروں پر کیوں ترجیح دیتی ہے، جس سے عدالت پر تنقید ہوتی ہے کہ وہ من مانی کرتی ہے اور عدالت کی غیر جانب داری اور آزادی پر سوال اٹھتے ہیں۔‘

پروفیسر مشتاق نے بتایا کہ ’میرے خیال سے سوو موٹو نوٹس کا واقعی مقام بنتا ہے اور سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے، کیوں کہ ماضی میں چند بے حد اہم کیسوں میں از خود نوٹس لیے گئے جو واقعی مفادِ عامہ کے تحت آتے تھے۔ لیکن اسی دوران کچھ ایسے واقعات میں بھی چیف جسٹس صاحبان نے از خود نوٹس لیے جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ عدالت، جو اتنی مصروف ہے، وہ ایسے کاموں کے لیے کیسے وقت نکال سکتی ہے؟

پروفیسر مشتاق نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے ججوں میں سوو موٹو کے بارے میں تین قسم کی آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ صرف چیف جسٹس کو سوموٹو لینے کا اختیار حاصل ہو لیکن اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فردِ واحد کو مکمل اختیار حاصل ہو جاتا ہے جو پروفیسر مشتاق کے بقول آئین کے اعلیٰ مقاصد اور اصولوں سے متصادم ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ سو موٹو کا اختیار دو رکنی بینچ کو حاصل ہو۔جسٹس فائز عیسیٰ بھی قرار دے چکے ہیں کہ دو رکنی بینچ بھی سپریم کورٹ ہے، اس لیے دو رکنی بینچ بھی سوو موٹو لے سکتا ہے۔ اس میں بھی انتشار پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو اس وقت بھی نظر آ رہی ہے کیونکہ ہر دو جج مل کر کسی بھی قسم کا از خود نوٹس لے سکتے ہیں۔ تیسری رائے یہ ہے کہ سوموٹو کا اختیار صرف فل بینچ کو ہونا چاہیے اس رائے کے حامی جسٹس اطہر من اللہ ہیں کیونکہ انہوں نے آئین کی اسی طرح تشریح کی ہے۔ اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے عدالت اور کوئی کام نہ کرے بس اسی کے لیے مختص ہو کر رہ جائے۔

پروفیسر مشتاق کہتے ہیں کہ حکومت نے ان تینوں آرا سے مختلف چوتھا راستہ اختیار کیا ہے کیوں کہ انہوں نے بینچ کا ذکر نہیں کیا چیف جسٹس کے علاوہ دو سینیئر ترین ججوں کی خصوصی کمیٹی کی تجویز پیش کی ہے جو سوو موٹو لے سکے۔

انہوں نے اس قانون سازی کا خیرمقدم کیا البتہ یہ بھی کہا کہ ’یہ مسودہ بہت عجلت میں تیار کیا گیا ہے اور اس کے لیے مختلف اور وسیع مشاورت ہوتی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔ بہتر ہوتا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے بھی مشاورت کی جاتی۔ خاص طور پر سپریم کورٹ لا اینڈ جسٹس کمیشن ہے، اس کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا کیونکہ چیف جسٹس، سینیئر جج  اور وزیرِ قانون کمیشن کا حصہ ہیں۔ جب حکومت اور عدالت کے درمیان مشاورت کا فورم موجود ہے تو اسے استعمال کرنا چاہیے تھا۔‘دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس مسودہ قانون کے مطابق اپیل کے لیے بھی بینچ کی تشکیل بھی یہی کمیٹی کرے گی اور ججوں کا انتخاب بھی یہی کمیٹی کرے گی۔ اس سے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹسز کی جانب سے از خود نوٹس کا بے دریغ استعمال بھی دیکھا گیا ہے ماضی قریب میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے سموسے کی قیمتوں اور اداکارہ عتیقہ اوڈھو سے شراب کی بوتلوں کی برآمدگی پر بھی از خود نوٹس لئے گئے ہیں جس کو قانونی حلقے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے عمرانڈوز اتنے بدتہذیب اور بد تمیز کیوں ہیں؟

Back to top button