چیف جسٹس نے 31مارچ اجلاس کے منٹس طلب کرلیے

عدالت عظمیٰ میں آئینی سیاسی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے، خاتون درخواست گزار کے مطابق سماعت کے آغاز میں خاتون درخواست گزار نے عدالت میں درخواست دی کہ سابق امریکی سفیر اسد مجید کو بلایا جائے تو سب سامنے آ جائے گا۔

چیف جسٹس کے مطابق ہم انفرادی درخواستیں نہیں‌ سن رہے، رضا ربانی کے دلائل کے دورانِ رضا ربانی نے کہا کہ چاہتے ہیں آج دلائل مکمل ہوں اور عدالت مختصر حکم نامہ جاری کردے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکم جاری کریں گے اگر سارے فریقین دلائل مکمل کرلیں، رضا ربانی نے کہا کہ میں عدالت کو تحریری دلائل دے رہا ہوں، 15 منٹ میں دلائل مکمل کرلوں گا۔

رضا ربانی کے مطابق ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بدنیتی پرمبنی ہے،عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد سے 9 بار بدنیتی پر مبنی اقدامات کیے گئے، ڈپٹی سپیکر نے پارلیمنٹ کے سامنے دستاویزات رکھے بغیررولنگ دیدی ، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیرقانونی ہے، تحریک عدم اعتمادووٹنگ کے بغیر مسترد نہیں کی جا سکتی۔

رضا ربانی نے بتایا کہ وزیراعظم عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اسمبلی نہیں توڑ سکتے، عدالت نیشنل سکیورٹی کونسل میٹنگ کے منٹس اورکیبل طلب کرنے کا حکم دے، پارلیمنٹ کی کارروائی پڑھ کر سنادی اور استدعا کی کہ عدالت اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر اسمبلیاں بحال کرے، دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے 31 مارچ کے اجلاس کے منٹس منگوا لیے۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے، عدالت ہوا میں فیصلہ نہیں کرے گی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی سولات کے جوابات دینا ہوں گے، ہم بھی جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے استعفیٰ دے دیا

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بحث کرانے کی اجازت نہ دینا طریقہ کار کی خامی ہے جب کہ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ بادی النظرمیں ڈپٹی اسپیکر نے اسپیکرکا وہ اختیاراستعمال کیا جو ڈپٹی اسپیکر کا اختیار نہیں تھا۔

Related Articles

Back to top button