انتخابی نتائج کو کونسے فارمز پر مرتب کیا جائے گا؟

پاکستان میں الیکشن کی آمد پر سیاسی سرگرمیاں خوب عروج پر ہیں، جبکہ انتخابی نتائج مرتب کرنے کے حوالے سے فارم 45 بھی زیر بحث ہے، فارم 45 کو عام طور پر ’’رزلٹ آف دی اکاؤنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، پاکستانی انتخابی عمل میں ایک اہم ریکارڈ ہے، اس فارم میں پولنگ سٹیشن کا نمبر، حلقے کا نام، رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد، ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد اور ہر امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔انتخابی عمل میں شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اجازت دی ہے کہ امیدوار پولنگ سٹیشن سے فارم 45 کے ذریعے اپنے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد خود گن سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کے فارم 46 میں پولنگ سٹیشن میں موصول ہونے والے بیلٹ پیپرز کی تعداد، بیلٹ باکسز سے نکالے گئے بیلٹ پیپر کی تعداد، چیلنج کیے گئے، غلط اور منسوخ شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد سے متعلق تمام معلومات موجودہ ہوتی ہیں، اس کے علاوہ فارم 46 میں غیرقانونی نتائج کے بارے میں بھی معلومات شامل ہوتی ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فارم 47 میں انتخابی حلقے کے غیر مصدقہ نتائج کے بارے میں معلومات شامل ہوتی ہیں، اس کے علاوہ اس فارم میں ڈالے گئے اور منسوخ کیے گئے ووٹوں کی تعداد کا بھی ذکر ہوتا ہے، الیکشن نتائج کی تیاری کیلئے فارم 48 سب سے اہم فارم ہے کیونکہ اس میں ایک حلقے میں ہر امیدوار کو ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد شامل ہوتی ہے۔فارم 49 جسے پاکستان کے گزٹ میں شامل کیا گیا ہے اسے حتمی اور سرکاری نتیجے کا فارم بھی کہا جاتا ہے، فارم 49 میں امیدواروں کے نام، ان سے وابستہ سیاسی جماعتوں کے
نام اور انتخابی حلقے میں حاصل کردہ ووٹ کی معلومات شامل ہوتی ہیں۔
