اسٹیبلشمنٹ پنجاب اور کے پی میں فوری انتخابات نہیں چاہتی

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے پنجاب میں 30 اپریل کو انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ کے پی کے میں آئندہ چند روز میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان متوقع ہے جبکہ تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے انکشاف کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول صرف دکھاوا ہے 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوں گے۔
فخر درانی نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ اسٹیلبشمنٹ نہیں چاہتی کہ صوبائی حکومتوں کے الیکشن ہوں ، سینئر صحافی نے اس کے واضح دلائل بھی دیئے ہیں ، فخر درانی کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جنرل الیکشن 30 اپریل کو ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے رہے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن شیڈول صرف ایک دیکھاوا ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں ، فخر درانی کے مطابق اس رائے کے پیچھے 10وجوہات ہیں ان میں سے پہلے نمبر پر یہ کہ اگر اب دونوں صوبوں میں جنرل الیکشن ہو جاتے ہیں اور یہاں کوئی بھی پارٹی حکومت بنا لیتی ہے تو جب اگست میں قومی اسمبلی کی مدت پوری ہو گی اور نگران سیٹ تشکیل دیا جائے گا تو یہ دونوں صوبائی حکومتیں نگران سیٹ اپ میں کہاں ایڈجسٹ ہوں گی ؟ کیونکہ آئین کی شرط ہے کہ کے جنرل الیکشن نگران حکومت کی موجود گی میں ہوں گے، ایسی صورت میں جب پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کسی کی حکومت بن جائے گی تو کیا قومی اسمبلی کے الیکشن میں دوسرا فریق یہ تسلیم کر لے گا کہ اس کے مخالف جماعت کی حکومت کے ہوتے ہوئے الیکشن ہو جائیں؟ تو ایسا نہیں ہوگا۔
دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ دو روز قبل الیکشن کمیشن حکام نے وزارت خزانہ کو بریفنگ دی ہے اور کہا ہے کہ انہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن سیکیورٹی کیلئے ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہے یعنی پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے علاوہ ساڑھے تین لاکھ فوجی ، فرض کریں وہ فوج بھیج بھی دیں تو ان سب کا بجٹ کیسے پورا کیا جائے گا، پھر 10لاکھ کے قریب ہماری ٹوٹل فوج ہے اس میں سے ساڑھے تین لاکھ فوج کیسے ایک ہی وقت میں الیکشن ڈیوٹی کیلئے لگا دی جائے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں صوبوں میں الیکشن کرانے کیلئے 20 ارب روپے کی ضرورت ہے ، ا ب مشکل یہ ہے کہ کیا 20 ارب روپے لگا کر کرائے جانے والے الیکشن کے نتائج تمام پارٹیاں مان لیں گی ؟ جس کا جواب منفی میں ہے اس لیے یہ پیسوں والی وجہ سے بھی الیکشن نہیں ہو ں گے ۔
2018 کے انتخابات میں پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 105 ملین تھی یعنی 10 کروڑ 50 لاکھ ووٹرز تھے وہ اب 5 سالوں مٰں بڑھ کر 122 ملین کے قریب پہنچ گئے ہیں یعنی 12 کروڑ 20 لاکھ کے قریب اب ووٹرز کی تعداد ہے۔
10کروڑ ووٹرز کیلئے تب پچاسی ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز بنائے گئے ، اب جب دونوں صوبوں کے الیکشن ہونے جا رہے ہیں تو کیا ان دونوں صوبوں کے 96 ملین ووٹرز کیلئے ان کی تعداد کی مناسبت سے پولنگ سٹیشنز بنائے جانے کی تیاری کیا ہے کیا الیکشن کمیشن نے ساری صورتحال کیلئے پلاننگ کی گئی ہے، جی نہیں ان سب کی پلاننگ نہیں کی گئی۔
سینئر صحافی نے اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے بھی ایک خبر دی کہ کیوں اسٹیبلشمنٹ صوبائی حکومتوںکے الیکشن نہیں کرانا چاہتی، فخر درانی کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ساڑھے تین لاکھ فوج الیکشن سیکیورٹی کیلئے مانگی گئی ہے ، اس طرح فوج پہلے صوبائی الیکشن کی ڈیوٹی دے گی اور پھر نیشنل اسمبلی اور دیگر دو صوبائی الیکشن کیلئے پورے ملک میں لگائی جائے گی تو ایسا نہٰں ہونے والا فوج کبھی بھی نہٰں چاہے گی کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج ملک میں دو بار ڈپلاوئے کی جائے اور اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو پھر ہر 5 سال کے بعد یہ سلسلہ ہی چل پڑے گا کہ سال میں دو الیکشن ہوں گے، اس لیے اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ یہ سلسلہ چلے۔
عمران خان نے عدالت کی سرپرستی میں الیکشن کرانے کا کہا ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے جو آر اوز کی لسٹ جاری کی گئی ہے وہ تمام کے تمام بیورو کریسی سے لیے گئے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان یہ بات منظو ر کریں گے کہ بیورو کریسی کے تحت الیکشن کرائے جائیں ۔سینئر صحافی کے بقول ہمیشہ جنرل الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن عملے کی ٹریننگ کرتا ہے لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہو سکا اور صرف 18 دن الیکشن میں رہ گئے ہیں۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر باجوہ جبکہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نےلیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل کے مطالبات کر رکھے ہیں۔ یہ معاملہ کئی روز سے پاکستان میں موضوعِ بحث ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی میں کسی سابق جرنیل کو کٹہرے میں لانے کی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں جبکہ کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہئے۔
خیال رہے کہ جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کا مطالبہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کیا جب کہ عمران خان اپنی تقاریر میں مسلسل جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وزیرداخلہ رانا ثنااللہ خان کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل اگر کرنا ہے تو وہ فوج ہی کر سکتی ہے، حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کرپشن الزامات کے تحت جنرل فیض حمید اور ان کے بھائی کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں جن کے نتائج سامنے آنے پر ظاہر کیے جائیں گے۔
مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما 2017 میں نواز شریف کو وزارتِ عظمی سے ہٹانے اور نااہل کرانے کا ذمے دار بھی لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو قرار دیتے ہیں۔مریم نواز کے بیان کے ردِعمل میں اینکر پرسن کامران خان کے ذریعے جنرل فیض حمید کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔انہوں نے نواز شریف کی حکومت گرانے کے الزامات پر جواب دیا ہے کہ جب نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی اس وقت وہ ایک میجرجنرل تھے اور اس رینک کا افسر کیا حکومت گرا سکتا ہے؟ ان کے مطابق فوج میں صرف آرمی چیف کا حکم مانا جاتا ہے۔مریم نواز کے مطالبے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنرل فیض کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے؟
دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ کسی ریٹائر فوجی افسر کا کورٹ مارشل اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر اُس کے خلاف ملک کے خلاف سازش کا الزام ہو یا فوج کے اندر ہی اُن کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام لگا ہو۔ لہذٰا نہیں دوبارہ فوج میں ‘اٹیچ’ کر کے یعنی بحال تصور کر کے کورٹ مارشل کیا جاتا ہے۔اُن کے بقول لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا سیاست میں مداخلت پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا کیوں اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ تاہم اگر اُن کے خلاف سول معاملات میں کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے تو عدالتوں میں اُن کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔
موجودہ آرمی قیادت کی سوچ کے حوالے سے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کا کہنا ہے کہ آرمی کو اس وقت تشویش ہے کہ انہیں ہر معاملے میں گھسیٹا جارہا ہے۔ لیکن وہ اس پر کوئی ردعمل نہیں دے رہے۔ وہ ان سب چیزوں سے دور رہنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سیاست دان سیاسی معاملات خود حل کریں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کارسلمان غنی کہتے ہیں کہ عمران خان جنرل باجوہ جب کہ مریم نواز فیض حمید کا کورٹ مارشل چاہتے ہیں۔ لیکن اگر سیاست دان پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس حوالے سے عدالتی کمیشن بنائیں جو ان تمام معاملات کو دیکھے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک ایسے کمیشن کی رپورٹس کو بھی نظرانداز کیا گیا۔اُن کے بقول "یہاں حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آسکی تو فوجی افسران کی غلطیوں کا احتساب کرنے والا کمیشن کیا کرے گا؟ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ان معاملات میں پڑنے کے بجائے زیادہ بہتر ہے کہ سیاست دان آپس میں مل بیٹھ کر معاملات طے کریں اور ملک کو آگے بڑھانے کی بات کریں۔
خیال رہے کہ 1971 کی جنگ میں پاکستانی فوج کی شکست اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے اسباب جاننے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس حمود الرحمٰن کی سربراہی میں تین رُکنی عدالتی کمیشن بنایا تھا۔ لیکن حکومت نے کمیشن کی رپورٹ عام نہیں کی تھی۔
یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنرل فیض کے خلاف مہم کیوں چلائی جا رہی ہے؟بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کہتے ہیں کہ فوج میں صرف آرمی چیف کا حکم چلتا ہے، چاہے کوئی ڈی جی آئی ایس آئی ہو یا ڈی جی سی اس کے تمام تر اقدامات آرمی چیف کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) جنرل فیض کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کر کے ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے کیوں کہ جن وعدوں کے ساتھ یہ اقتدار میں آئے تھے وہ پورے نہیں ہو سکے۔اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی،کرنسی کی قدر، بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمت ہو، ہر معاملے میں حکومت ناکام نظر آتی ہے۔ان کے پاس آئندہ الیکشن میں جانے کے لیے کچھ نہیں کہ انہیں کس بنیاد اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا جائے۔
بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے وہ عوام کے اصل مسائل سے ہٹا کر فوج کے خلاف مہم کو اپنی الیکشن مہم کا حصہ بنا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کا ذمے دار عمران خان کی سابق حکومت کو ٹھہراتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف مہم اس لیے چل رہی ہے کیوں کہ اس نے خود سیاست میں ملوث ہو کر غلطی کی۔اُن کا کہنا تھا کہ فوج نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پھر مسلم لیگ (ن) دونوں کو باری باری خوش کیا اور پھر ناراض کیا۔ لہذٰا دونوں سیاسی جماعتیں ہی فوج سے ناراض ہیں اور اس پر تنقید کر رہی ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ فوج نے نوشتۂ دیوار پڑھ لیا ہے اور وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ سلمان غنی کا کہنا تھا کہ سیاست دان فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آتے ہیں اور پھر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں، لیکن ناکامیوں کا ذمے دار فوج کو ٹھہرایا جاتا ہے، جیسا کے 2018 کے انتخابات میں ہوا۔اُن کے بقول سب جانتے ہیں کہ اس الیکشن سے پہلے عمران خان کے پاس کتنی نشستیں تھیں اور انہیں کس طرح نشستیں دلوائی گئیں۔ تمام حالات سب پر واضح ہیں اور فوج نے ان سب باتوں کو جان لیا ہے جس کے بعد اب سیاست دانوں کو بھی نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے اور فوج کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے۔
دوسری جانب سابق وزیرِ اعظم عمران خان جنرل باجوہ کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جنرل باجوہ اتنے ہی آئین شکن اقدامات کر رہے تھے تو ان کا کورٹ مارشل سروس کے دوران کیوں نہیں کیا گیا؟
لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاست دانوں کے مطابق یہ افسران بہت زیادہ سنگین جرائم میں ملوث تھے تو ان کے خلاف اس وقت ایکشن کیوں نہ لیا گیا جب وہ سروس میں تھے؟نعیم خالد لودھی نے کہا کہ جب یہ لوگ سروس میں تھے اور ان کے بیانات یا اقدامات اس وقت کی حکومت کی مرضی کے مطابق نہ تھے تو اس وقت انہیں ملازمتوں سے برطرف کیوں نہیں کیا گیا؟اُن کے بقول سیاست دان بھی جانتے ہیں کہ ان باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور کوئی ثبوت چھوڑتا بھی نہیں لہذا صرف سیاست برائے سیاست کے لیے ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں۔
فوج میں احتساب کے حوالے سے نعیم خالد لودھی نے کہا کہ پاکستان کی فوج میں احتساب کا نظام تو موجود ہے لیکن آج تک کسی آرمی چیف کے خلاف اس نظام کا استعمال نہیں ہوا۔جنرل لودھی نے کہا کہ اس وقت جنرل باجوہ سمیت بعض سینئر افسران صحافیوں کو بلوا کر انٹرویوز دے رہے ہیں جب کہ اصول کے مطابق ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک انہیں کسی سیاسی معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اُن کے بقول اس وقت ریٹائرڈ افسران کا یہ عمل درست نہیں ہے اور انہیں کسی بھی مسئلے سے بچنے کے لیے ان سب چیزوں سے دور رہنا چاہئے۔
بریگیڈئیر (ر) حارث نواز نے کہا کہ فوج کا اپنا احتساب کا سخت نظام موجود ہے اور وہ کارروائی بھی کرتا ہے۔ لیکن ان معاملات میں سیاست دان بھی ملوث ہیں لہٰذا اس تمام صورتِ حال میں فوج خود کو سیاست سے دور رہتے ہوئے بچنا چاہتی ہے اور اگر احتساب ہوا بھی تو وہ فوج کے اندر ہی ہوگا۔
