وقت سے پہلےحکومت ٹوٹے گی یا حکومتی اتحاد؟

اسلام آباد میں حکمران اتحاد میں شدید داخلی اختلافات کی خبریں پھر گرم ہیں۔ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پر برہم ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی مخالف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور اس کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی اختلافات کی زد میں نظر آتے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان ن لیگ اور پی پی پی سے مستقبل میں شراکت اقتدار کے فارمولے کے معاملے میں سخت خفا ہیں۔پی ڈی ایم میں ان داخلی اختلافات کے حوالے سے ملک کے کئی حلقوں میں بحث جاری ہے اور ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاسی اتحاد اور انتشار کا بنیادی نکتہ اقتدار کا حصول یا ذاتی مفادات ہی ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ کچھ دن پہلے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایک اہم ملاقات دبئی میں کی تھی، جس کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انہیں اس ملاقات کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔مولانا فضل الرحمان کے اس شکوے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے ان سے ملاقات بھی کی تھی۔ تاہم کئی حلقوں کی رائے میں یہ اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
کئی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی حیثیت سے زیادہ شراکت اقتدار کا دعویٰ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ جس اتحاد میں بھی ہوتے ہیں، اس میں مسائل ہی پیدا ہوتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ اختلافات کا تعلق بھی ملک میں مستقبل کے سیاسی منظر نامے اور شراکت اقتدار کے فارمولے سے متعلق ہے۔
سیاسی مبصر ین کا دعویٰ ہے کہ مولانا فضل الرحمان مستقبل کی حکومت میں نہ صرف اپنی پارٹی کے لیے اہم عہدوں کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ وہ قومی اسمبلی کی بہت سی نشستوں پر انتخاب سے متعلق بھی اتحادیوں سے حمایت کے طلب گار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نہ صرف چیئرمین سینٹ کی نشست کا مطالبہ کیا جا رہا ہے بلکہ فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی (ایف) ممکنہ طور پر کرسی صدارت پر بھی نظریں لگائے بیٹھی ہے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی بہت سی نشستوں پر بھی جے یو آئی (ایف) چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس کی حمایت کرے۔‘‘ مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان ہمیشہ اپنی سیاسی حیثیت سے زیادہ شراکت اقتدار کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ ”جب پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم چھوڑی، تو مولانا فضل الرحمان نے اس وقت بھی اپنا ایک سینیٹر بنوا لیا تھا۔ اب بھی اسی طرح کا تاثر ہے کہ جے یو آئی (ایف) کرسی صدارت میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن پی پی پی اور مسلم لیگ ن کسی صورت بھی ملکی صدر کا عہدہ اس پارٹی کو نہیں دے گی۔‘‘
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے مطالبات کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے۔ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی جے یو آئی ایف نے کئی اہم وزارتیں لیں اور صوبے خیبر پختونخوا پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اس مذہبی سیاسی پارٹی کے عوامی نیشنل پارٹی سے اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان کا اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں اختلافات سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ”عوام میں تاثر یہ جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے جمع ہوتی ہیں لیکن عوامی مسائل جیسا کہ مہنگائی، غربت، بھوک اور بے روزگاری وغیرہ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘
تاہم دوسری جانب جمعیت علماء اسلام اس بات کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ اس نے مستقبل میں شراکت اقتدار کے حوالے سے کسی بھی طرح کا کوئی مطالبہ کیا ہے۔ اس پارٹی کے اسلام اباد سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما عبدالمجید ہزاروی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے دبئی میٹنگ کے حوالے سے اصولی موقف اختیار کیا تھا۔عبدالمجید ہزاروی نے بتایا، ”مولانا فضل الرحمان نے صرف یہ بات کہی تھی کہ اخلاقی طور مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ چاہیے تھا کہ وہ مولانا کو دبئی میں ملاقات کے حوالے سے اعتماد میں لیتیں۔ اب جب کہ مولانا کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہو گئی ہے، تو تقریباﹰ تمام معاملات طے ہو گئے ہیں۔‘‘عبدالمجید ہزاروی نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ شراکت اقتدار کے حوالے سے جے یو آئی (ایف) نے کوئی بھی بات کی ہے۔ ان کے بقول، ”ہم نے مستقبل میں نہ سینیٹ کی چیئرمین شپ مانگی ہے اور نہ ہی زیادہ نشستوں یا وزارتوں
آئندہ عام انتخابات میں تاخیر ممکن کیوں نہیں؟
کا مطالبہ کیا ہے۔
