عمران خان جمہوریت کی قبر کیوں کھود رہے ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کو جمہوریت کا گورکن قرار دیتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد موصوف ایک دن اور ایک لمحہ بھی چین سے نہیں بیٹھے۔ وہ ہر روز ایک نئے پینترے کے ساتھ اپنا ہتھوڑا برساتے ہیں اور سیاست کو گرماتے ہیں۔ عمران خان کی نااہلی کے نتیجے میں معاشی بحران کا شکار پاکستان کی موجودہ حکومت اس فکر میں ڈوبی ہے کہ اسے ڈیفالٹ کرنے سے بچایا جائے، لیکن دوسری جانب خان صاحب مسلسل پاکستانی معیشت ڈبونے کی خاطر سیاسی عدم استحکام پیدا کئے چلے جارہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پہلے تو عمران نے ایسا خوفناک سازشی بیانیہ گھڑا کہ نوجوان نسل آپے سے باہر ہوکر ان کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی اور سیاسی مخالفین کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کی آنیوں جانیوں کا تاثر نہ صرف پھیکا پڑ گیا بلکہ وہ ایک متبادل سیاسی لیڈر کے طور پر اُبھر ہی نہ سکے، کچھ ایسا ہی بلکہ اس سے برا حشر ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی چند روزہ وزارت اعلیٰ اور بطور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی کے ہوا جہاں سے وہ عین وقت لڑائی غائب پائے گئے۔ ایسے میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بس مونچھوں کو تاؤ دیتے رہ گئے۔ لگتا ہے پنجاب میں ن لیگ کی سٹی، نواز شریف اور مریم نواز کی عدم موجودگی میں گم ہوکر رہ گئی۔ عمران خان کا جب سازشی بیانیہ پھیکا پڑا تو وہ پھر سے چوروں ڈاکوؤں کے خلاف پرانے بیانیے پہ چلے گئے اور پروپیگنڈہ وار فیئر میں کسی کے پلے کچھ نہ چھوڑا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اوپر پلے بوائے ہونے کے الزام کو ’’قبول‘‘ کر کے جنسی محرومی کا شکار عوام کی تسکین کردی ۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ عوامی نفسیات سے کھیلنے کی مہارت صرف پاپولسٹ لیڈروں میں ہوتی ہے جس کا مظاہرہ کپتان نے خوب کر دکھایا۔ ن لیگ والوں کی چٹکیاں اور لیکس والوں کی شرلیاں بظاہر ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکیں۔ عمران سیاسی پاورا سٹرگل میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے تمام حریفوں کو انگلیاں چبانے پہ مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے بڑے سیاسی دنگل میں جتنے راؤنڈ ہوئے ن لیگ کو ہر راؤنڈ میں ناک آئوٹ کردیا۔ خواہ وہ ضمنی انتخابات تھے جن میں ن لیگ کے کندھوں پر سوار ان کی پارٹی کے لوٹے تھے یا پھر پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ پر ن لیگ کی دیوار پہ لکھی شکست۔ خان صاحب نے ن لیگ کو اپنی ہی پچ پہ کلین بولڈ کردیا، حالانکہ ضمنی انتخابات میں یہ پی ٹی آئی کی خالی نشستیں ہی تھیں جس پر عمران خان ان کی واپسی کےلئے لڑرہے تھے، یا پھر پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں اپنی ہی اکثریت کو برقرار رکھ سکے تھے۔ اس میں ان کا سب سے بڑا معاون خود ن لیگ کی غیر حاضر خاندانی قیادت تھی ۔
عمران خان کے جلد انتخابات کروانے کے آخری جوئے پر گفتگو کرتے ہوئے امتیازعالم کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے عمران خان نے بڑا پارلیمانی خلا پیدا کردیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفے دے کر پارلیمنٹ کو اپاہج کردیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اگلے نوے دنوں میں پنجاب اور پختونخوا دو صوبوں میں نئے انتخابات ہوں گے اور قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگست میں ان اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد منعقد ہوسکیں گے یا پھر فریقین کسی سمجھوتے پہ پہنچ سکیں گے؟ آئینی طور پر تو دو مرحلوں میں عام انتخابات کے انعقاد کی کوئی ممانعت نہیں اور نہ ہی عبوری حکومت کے قیام اور عرصہ پر کوئی ابہام ہے۔ لیکن دو اسمبلیوں کو برخاست کرکے عمران سیاسی بحران کو آخری حد تک لے گئے ہیں۔ اب اتحادی حکومت سیلاب زدگان کی امدادی رقوم اور آئی ایم ایف سے ممکنہ معاہدہ کی کیسی ہی تسلیاں دیتی رہے، سیاسی بحران سب کچھ لپیٹ دے گا۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اگر وفاق میں صدر نے وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کردیا تو یہ بحران موجودہ شکستہ حال پارلیمانی فریم ورک کو توڑ سکتا ہے۔ دو ووٹوں پہ اٹکی وفاقی حکومت کسی بھی وقت گرسکتی ہے۔ اگر مقتدرہ حکومت وقت کے ساتھ کھڑی ہوتی تو پنجاب اسمبلی ٹوٹتی اور نہ وفاقی حکومت کو کوئی خطرہ ہوتا۔ عمران خان کی یہ بھی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے فوج کو پچھلے قدموں پہ جانے پہ مجبور کردیا ہے اور اس کی سیاست میں غیر جانبداری اُن کے خوب کام آئی۔ جو سب سے نازک سوال ہے جس کی عمران کو قطعی کوئی پروا نہیں وہ ہے کہ سیاسی بحران میں تعطل بڑھا یا وفاقی حکومت متزلزل ہوگئی تو عالمی برادری اور عالمی ادارے پاکستان میں کس سے رجوع کریں گے؟ یا پھر ہفتوں میں گھر جانے والی حکومت کیوں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا بھاری پتھر اپنے سر پہ لادے گی؟ نتیجتاً ہر دو صورتوں میں پاکستان کا مکمل دیوالیہ پٹ سکتا ہے۔ لیکن خان کو اس کی کیا پروا، اسے تو بس جلد از جلد وزارت عظمیٰ چاہئے بھلے ایک دیوالیہ پاکستان ہی کی سہی۔
ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر عمران اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟ اس کی ایک وجہ تو وہ خدشہ ہے کہ انہیں سیاست سے نااہل کردیا جائے گا اور انکا دوسرا خدشہ ہے کہ ان کی مقبولیت کی لہر شاید زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکے۔ لہٰذا وہ ہر صورت ہر رکاوٹ اور ہر ریڈ لائن کو کراس کرنے پہ تلے بیٹھے ہیں۔ اب گیند وفاق کے پاس ہے کہ وہ کیسے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کو اگست سے آگے لے جاتی ہے۔ وہ معاشی ایمرجنسی اور پنجاب اور پختونخوا میں گورنر راج لگاسکتی ہے۔ وہ اس بات کا جواز بھی بناسکتی ہے کہ اپریل میں نئی مردم شماری کے نتائج شائع ہونے پر اس کے مطابق حلقہ بندیوں کی تشکیل نو جولائی / اگست تک مکمل ہوجائے گی لہٰذا انتخابات اپنے وقت یعنی اکتوبر ہی میں منعقد ہوسکیں گے۔ یہی آئینی پوزیشن الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہوگی اور بالآخر معاملہ سپریم کوٹ کے پاس ہوگا۔ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے، اللہ جانے۔ انتخابات تو دو مرحلے میں بھی ہوسکتے ہیں یا پھر جون / جولائی تک بھی نئی فہرستوں اور نئی حلقہ بندیوں پر بھی ہوسکتے ہیں بشرطیکہ سیاسی متحاربین کچھ لچک دکھائیں۔ لیکن اگر سیاسی قوتوں میں انتخابات کی شفافیت اور آزادانہ نوعیت پر سمجھوتہ نہ ہوسکا تو پھر اگلے انتخابات بھی متنازعہ ہوجائیں گے اور سیاسی بحران جاری رہے گا۔ اور اگر اس اثنا میں ملک ہی زمیں بوس ہوگیا تو ہماری تقدیر کے آخری منصف کیا روم جلنے پہ بانسری بجاتے رہ جائیں گے؟ سیاسی قوتوں کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنی اور آئینی نظام کی قبر کھودنے سے باز رہنا چاہئے۔ عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ وہ جمہوریت کے گورکن بننے جارہے ہیں یا پھر کچھ اور؟
